ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران اسرائیل کے پاس میزائل شکن انٹرسیپٹرز کی شدید قلت ہوگئی ہے، امریکی اہلکار کے مطابق اسرائیل اس کمی کو دور کرنے کے لیے حل پر کام کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 8:35 PM IST | Tel Aviv
ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران اسرائیل کے پاس میزائل شکن انٹرسیپٹرز کی شدید قلت ہوگئی ہے، امریکی اہلکار کے مطابق اسرائیل اس کمی کو دور کرنے کے لیے حل پر کام کر رہا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے امریکہ کو بتایا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اس کے پاس میزائل شکن انٹرسیپٹرز کی شدید قلت ہو گئی ہے۔سیمافور کی سنیچر کو جاری کردہ رپورٹ میں ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ واشنگٹن کو کئی ماہ سے معلوم ہے کہ اسرائیل کے پاس انٹرسیپٹرز کی کمی ہو رہی ہے۔تاہم، اہلکار نے اس تشویش کے بعد زور دے کر کہا کہ امریکا کو اس مسئلے کا سامنا نہیں ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے اس کے انٹرسیپٹرز ختم کر دیے ہیں۔اہلکار نے سیمافور کو بتایا، ’’ہمارے پاس وہ سب کچھ ہے جو ہمیں خطے میں اپنے اڈوں، اپنے اہلکاروں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے درکار ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران، اسرائیل جنگ: سوئزرلینڈ نےامریکی فوجی طیاروں کیلئے فضائی حدود بند کردی
دریں اثناء اہلکار نے مزید بتایا کہ اسرائیل اس کمی کو دور کرنے کے لیے حل پر کام کر رہا ہے۔مختصر مدت` سے جب تک ضروری ہو ۔رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ اس وقت شروع کی جب اس کے پاس پہلے ہی انٹرسیپٹرز کی کمی تھی۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ ان کے ملک کے پاس تقریباً ’’لا محدود‘‘ گولہ بارود ہے، حالانکہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ وہ فوج کی توقعات سے کم ہیں۔ٹرمپ نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ صرف چار ہفتے لے گی، اور بعد میں کہا کہ یہ ایک ’’مختصر مدت کا آپریشن‘‘ ہے۔پھر بھی، جمعے کو انہوں نے کہا کہ ’’جب تک ضروری ہو‘‘جنگ جاری رہے گی۔
بعد ازاں رائٹرز کی حالیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران پر جاری امریکہ-اسرائیل جنگ کے دوران ایرانی قیادت اور حکومت کے خاتمے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔