Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف ایس ایس اے آئی کا مستقل لائسنس دینے کا فیصلہ انقلابی: کیٹ

Updated: March 15, 2026, 8:40 PM IST | New Delhi

آل انڈیا ٹریڈرز کنفیڈریشن (کیٹ) نے فوڈ سیفٹی اینڈ سیکوریٹی اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کی جانب سے کھانے پینے کی اشیا کے کاروباریوں کو مستقل لائسنس دینے کے فیصلے کو انقلابی قرار دیا ہے۔

FSSAI.Photo:INN
ایف ایس ایس اے آئی۔ تصویر:آئی این این

آل انڈیا ٹریڈرز کنفیڈریشن (کیٹ) نے فوڈ سیفٹی اینڈ سیکوریٹی اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کی جانب سے کھانے پینے کی اشیا کے کاروباریوں کو مستقل لائسنس دینے کے فیصلے کو انقلابی قرار دیا ہے۔
کیٹ کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال نے اتوار کے روز کہا کہ اس سے کاروباریوں کو بار بار لائسنس کی تجدید نہیں کرانی پڑے گی اور ضابطوں کی پابندی کا بوجھ کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑے اصلاحات حکومت کے اس وژن کے مطابق ہیں، جس کے تحت ضابطہ جاتی عمل کو آسان بنا کر تاجروں، چھوٹے کاروباریوں اور اسٹریٹ وینڈرز کے لیے شفاف اور کاروبار دوست ماحول تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
 کھنڈیلوال نے کہا کہ وقتاً فوقتاً لائسنس کی تجدید کرنا ایک طویل عرصے سے پیچیدہ اور وقت طلب عمل رہا ہے، جس کی وجہ سے تاجروں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور کئی بار اس میں تاخیر اور بدعنوانی کے امکانات بھی پیدا ہو جاتے تھے۔ مستقل لائسنس کا نیا نظام ایسی تمام رکاوٹوں کو ختم کر دے گا اور فوڈ بزنس آپریٹرز کے لیے تعمیل کو بہت آسان بنا دے گا۔

یہ بھی پڑھئے:النصر کی بڑی فتح، الہلال کی مشکل جیت

کیٹ کے قومی صدر بی سی بھرتیا نے کہا کہ ان اصلاحات سے ملک بھر میں تقریباً ۵ء۲؍ کروڑ فوڈ بزنس چلانے والوں کو بڑا فائدہ ہوگا، جن میں چھوٹے تاجر، خوراک بنانے والے، ریستوراں چلانے والے اور اسٹریٹ فوڈ فروخت کرنے والے شامل ہیں۔ کیٹ کے صدر برج موہن اگروال نے بتایا کہ ایف ایس ایس اے آئی کے بنیادی رجسٹریشن کے لیے ٹرن اوور کی حد ۱۲؍لاکھ روپے سے بڑھا کر ۵ء۱؍ کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جو یکم اپریل سے نافذ ہوگی۔ اس سے مائیکرو اور چھوٹے فوڈ کاروباروں کو بڑی راحت ملے گی۔

یہ بھی پڑھئے:ذاکر خان کا اسپتال سے ویڈیو وائرل، اسپتال گاؤن میں نظر آئے کامیڈین

اس کے علاوہ ۵۰؍ کروڑ روپے تک کے ٹرن اوور والے کاروباروں کے لیے ریاستی لائسنس ضروری ہوگا، جبکہ ۵۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ ٹرن اوور والے کاروباروں کے لیے مرکزی لائسنس نافذ ہوگا۔ اس سے لائسنسنگ کا نظام مزید آسان ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK