Updated: October 02, 2026, 7:03 PM IST
| Istanbul
ترکی کے شہر کونیا میں کونیا اسپور اور فلسطین کی قومی فٹبال ٹیم کے درمیان کھیلا گیا دوستانہ میچ محض ایک کھیل تک محدود نہیں رہا بلکہ فلسطینی کھلاڑیوں اور عوام سے یکجہتی کے ایک نمایاں اظہار میں تبدیل ہوگیا۔ فلسطین ڈے کی مناسبت سے منعقدہ اس میچ میں دونوں ٹیمیں ۲۔۲؍ سے برابر رہیں، تاہم میچ کا اختتام انتہائی غیر معمولی انداز میں ہوا۔
ترکی کے شہر کونیا میں کونیا اسپور اور فلسطین کی قومی فٹبال ٹیم کے درمیان کھیلا گیا دوستانہ میچ محض ایک کھیل تک محدود نہیں رہا بلکہ فلسطینی کھلاڑیوں اور عوام سے یکجہتی کے ایک نمایاں اظہار میں تبدیل ہوگیا۔ فلسطین ڈے کی مناسبت سے منعقدہ اس میچ میں دونوں ٹیمیں ۲۔۲؍ سے برابر رہیں، تاہم میچ کا اختتام انتہائی غیر معمولی انداز میں ہوا۔ ریفری نے مکمل ۹۰؍ منٹ پورے ہونے سے صرف ایک سیکنڈ پہلے، یعنی ۸۹؍ منٹ ۵۹؍ سیکنڈ پر کھیل روک دیا، جس کے بعد اسٹیڈیم میں اعلان کیا گیا کہ میچ کو ’’فلسطین آزاد ہونے تک ملتوی کیا جاتا ہے۔‘‘ کونیا کے تقریباً ۴۲؍ ہزار نشستوں والے اسٹیڈیم میں شائقین نے ترک اور فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے فلسطینی ٹیم کا استقبال کیا۔ میچ کا نعرہ ’’ہمارا گھر، آپ کا گھر ہے‘‘ رکھا گیا تھا، جبکہ اسٹیڈیم میں فلسطین کے حق میں مختلف پیغامات اور بڑے پینافلیکس بھی آویزاں کیے گئے۔ ان میں فلسطینی کھلاڑیوں، صحافیوں اور دیگر افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والے مناظر شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، مشرق وسطیٰ میں ۹؍ ہزار امریکی فوجی بھیجے
میچ کے دوران ایک اور علامتی لمحہ بھی دیکھنے میں آیا۔ ۱۰؍ منٹ ۱۴؍ سیکنڈ پر کھیل روک کر اسٹیڈیم کی روشنیاں بند کی گئیں۔ اس موقع پر فلسطینی کھیلوں سے وابستہ ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ بعد ازاں شائقین کی جانب سے کھلونوں اور دیگر اشیا کو میدان میں پھینکا گیا، جنہیں فلسطینی بچوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر پیش کیا گیا۔ کھیل کے اعتبار سے مقابلہ بھی دلچسپ رہا۔ کونیا اسپور نے دوسرے ہی منٹ میں ملیح ابراہیم اوغلو کے گول سے برتری حاصل کی، لیکن فلسطینی ٹیم کے محمد سندوقہ نے ۱۲؍ویں اور ۲۵؍ویں منٹ میں دو گول کرکے اپنی ٹیم کو ۱۔۲؍ کی برتری دلادی۔ ۲۸؍ویں منٹ میں مصطفیٰ محمد نے کونیا اسپور کے لیے گول کرکے اسکور ۲۔۲؍گول سے برابر کردیا۔ اس کے بعد کوئی ٹیم مزید گول نہ کرسکی۔
یہ بھی پڑھئے:’’مجھے رومانوی کہانیاں زیادہ پسند ہیں، اسلئے و ہی شوز کرتا ہوں‘‘
میچ کے آخری لمحے کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ ایک علامتی اقدام تھا۔ منتظمین کے مطابق مکمل ۹۰؍ منٹ نہ کھیلنے اور آخری سیکنڈ باقی چھوڑنے کا مقصد فلسطین میں نامکمل رہ جانے والی زندگیوں، خوابوں اور امیدوں کی جانب توجہ دلانا تھا۔ اس طرح میچ کا اسکور۲۔۲؍گول پر برقرار رہا، لیکن اس کا اختتام فٹبال کے روایتی نتیجے کے بجائے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے پیغام کے طور پر سامنے آیا۔
فلسطینی کھیلوں کے عہدیدار جبریل رجوب کے مطابق یہ مقابلہ فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو اجاگر کرنے اور فلسطینی کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کا موقع فراہم کرنے کی کوشش کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس میچ کے ذریعے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کے عزم کو نمایاں کرنے کا موقع ملا۔ کونیا میں کھیلا گیا یہ دوستانہ فٹبال میچ ۲۔۲؍ کے اسکور سے زیادہ اپنے منفرد اختتام،۵۹ء۸۹؍ پر کھیل روکنے اور فلسطینی کھلاڑیوں کے ساتھ یکجہتی کے پیغام کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔