امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو امن منصوبے کی پیشکش کرتے ۱۵؍ نکاتی مذاکراتی ایجنڈا بھیج دیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے جنگ کے خاتمےکیلئے ایران کو پندرہ نکاتی منصوبہ بھیج دیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 25, 2026, 1:56 PM IST | New York
امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو امن منصوبے کی پیشکش کرتے ۱۵؍ نکاتی مذاکراتی ایجنڈا بھیج دیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے جنگ کے خاتمےکیلئے ایران کو پندرہ نکاتی منصوبہ بھیج دیا ہے۔
امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو امن منصوبے کی پیشکش کرتے ۱۵؍ نکاتی مذاکراتی ایجنڈا بھیج دیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے جنگ کے خاتمےکیلئے ایران کو پندرہ نکاتی منصوبہ بھیج دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کو پندرہ نکاتی امن منصوبہ پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امن منصوبے کا مقصد جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان، مصر اور ترکیہ فریقین کے درمیان ثالثی میں کردار ادا کررہے ہیں۔ امریکہ کے اس ۱۵؍ نکاتی منصوبے میں ۱۰؍ شرائط جو ایران کو پوری کرنی ہیں جب کہ تمام شرائط ماننے کی صورت میں ۵؍ فوائد بھی شامل ہیں جو ایران کو دیے جائیں گے۔
امریکہ کے ایران کو بھیجے گئے ۱۵؍ نکاتی امن منصوبے کی `شرائط
امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو امن منصوبے کی پیش کش کرتے ۱۵؍ نکاتی مذاکراتی ایجنڈا بھیج دیا۔ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے ذریعہ ایران کو۱۵؍ نکاتی امن منصوبہ بھیجا ہے، جس کا مقصد جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا اور خطے میں امن واپس لانے کی خواہش ہے۔ امریکہ نے اس امن منصوبے میں جو شرائط پیش کی ہیں، وہ یہ ہیں۔
(۱) ایران کو موجودہ جوہری صلاحیتوں کو ختم کرنا ہوگا۔
(۲) ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔
(۳) ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہیں ہو گی۔
(۴) ایران کو اپنی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے حوالے کرنا ہوگا۔
(۵) نطنز، اصفہان اور فردو ایٹمی تنصیبات کو ختم کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:شویتا ترپاٹھی ’’مرزا پور‘‘ میں گولو گپتا کے ۸؍ سالہ سفر کو یاد کرکے جذباتی ہوئیں
(۶) آئی اے ای اے کو ایران کی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دی جائے۔
(۷) ایران کو اپنا ’علاقائی پراکسی نمونہ‘ ترک کرنا ہوگا۔
(۸) ایران کی خطے میں پراکسیز کو فنڈنگ بند کرنا ہوں گی۔
(۹) ایران کو اپنا میزائل پروگرام، رینج اور مقدار دونوں میں محدود کرنا ہوگا۔
(۱۰) ایران کو اپنے میزائلوں کے استعمال کو اپنے دفاع تک محدود رکھنا ہوگا۔
ان شرائط کو ماننے کی صورت میں ایران کو جو عالمی فوائد ملیں گے، ان میں
(۱۱)عالمی برادری کی طرف سے عائد پابندیوں کا خاتمہ۔
(۱۲) اپنے سویلین نیوکلیئر پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی مدد۔
یہ بھی پڑھئے:صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران پر یقین: سابق سربراہ سی آئی اے
(۱۳) ایک ’اسنیپ بیک‘ میکانزم جو خود بخود پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی اجازت دیتا ہے اگر ایران تعمیل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے ہٹا دیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر دی پوسٹ کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اشارہ دیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں ٹرمپ کے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہیں گی۔