وزیر خارجہ ایس جے شنکر نےجنرل اسمبلی میں کہا کہ جنگ سے کافی دور موجود ممالک کو بھی خوراک، ایندھن، کھاد، فائنانس اور سپلائی چین میں پابندی کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 1:59 PM IST | Agency | New York
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نےجنرل اسمبلی میں کہا کہ جنگ سے کافی دور موجود ممالک کو بھی خوراک، ایندھن، کھاد، فائنانس اور سپلائی چین میں پابندی کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
ہندوستان اور کئی ترقی پذیر ممالک نے اقوام متحدہ میں کہا کہ جنگوں سے ہونے والے اقتصادی نقصانات صرف جنگ زدہ علاقوں تک محدود نہیں رہ گئے۔ اس کی وجہ سے ان ممالک میں بھی خوراک اور توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور تجارت متاثر ہو رہی ہے، جن کا ان تنازعات پر بہت کم اثر ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ جنگ سے کافی دور موجود ممالک کو بھی خوراک، ایندھن، کھاد، فائنانس اور سپلائی چین میں پابندی کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ جو ممالک ان حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اکثر ان کی بات سب سے کم سنی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یواین کاغیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمی میں ملوث فہرست میں۶۱ ؍کمپنی کااضافہ
جے شنکر نے کہا کہ امن برقرار رکھنے میں ناکامی سے سلامتی کمزور ہو رہی ہے، ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے اور اب تک حاصل کی گئی پیش رفت پر بھی خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس کا اثر خاص طور پر گلوبل ساؤتھ کے ممالک پر زیادہ پڑ رہا ہے۔ہندوستان نے یوکرین جنگ اور خلیجی خطے میں جاری تنازع پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے تمام فریقوں سے تحمل برتنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی ہندوستان نے توانائی اور تجارت کی آمد و رفت بلا رکاوٹ جاری رکھنے اور جہازوں و ملاحوں کی حفاظت یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کئی دنوں تک جاری جنرل ڈبیٹ میں کیریبین، بحر ہند کے خطے اور افریقہ کے کئی لیڈروں نے بھی جنگوں کے اسی معاشی اثرات پر تشویش ظاہر کی۔کئی لیڈران نے کہا کہ جنگوں کے اقتصادی نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کسی تنازع کو صرف ایک خطے کا مسئلہ سمجھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ نقل و حمل، توانائی اور انشورنس کی بڑھتی ہوئی لاگت سپلائی چین کے ذریعے آگے بڑھتی ہے اور آخرکار ہزاروں کلومیٹر دور رہنے والے عام خاندانوں کی جیب تک اس کا اثر پہنچتا ہے۔ ہندوستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر خام تیل درآمد کرتا ہے اور توانائی، کھاد اور دوسری ضروری اشیا کے لیے بین الاقوامی تجارتی راستوں پر منحصر ہے۔ اس لیے دنیا میں ایندھن اور مال برداری کی قیمتوں میں تبدیلی کا اثر ہندوستان میں نقل و حمل، زراعت اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی لاگت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی دور دراز حصے میں ہونے والی جنگ بھی ہندوستانی خاندانوں کیلئے براہ راست اقتصادی تشویش کا مسئلہ بن سکتی ہے۔
وینزویلا کے وزیر خارجہ کے ساتھ جے شنکر کی ملاقات
وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور وینزویلا کے وزیر خارجہ فیلکس پلاسنشیا گونزالیز نے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے دیگر پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز کے راستے سپلائی اور جہاز رانی متاثر ہونے کے باعث ہندوستان خام تیل کے ذرائع میں متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جے شنکر نے اتوار کے روز نیویارک میں واقع اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۸۱؍ ویں اجلاس کےحاشیہ پر پلاسنشیا گونزالیز سے ملاقات کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس ‘پر ایک پوسٹ میں کہا ’’اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں وینزویلا کے وزیرِ خارجہ فیلکس پلاسنشیا گونزالیز کے ساتھ ملاقات اچھی رہی۔ دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے علاوہ ہمارے توانائی کے تعلقات کو بھی رفتار مل رہی ہے۔ ہم نے موجودہ علاقائی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: چین میں لوگ اپنے چہرے، ۱۵ ہزار ڈالر تک کے عوض اے آئی کو کرائے پر دے رہے ہیں
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران سے جڑے تنازع اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر لگی پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والے خلل کے درمیان ہندوستان اپنے خام تیل کے ذرائع کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
وینزویلا میں ہندوستان کے توانائی کے شعبے میں پہلے سے ہی مفادات منسلک ہیں۔ ہندوستانی پبلک سیکٹر کی کمپنیوں نے وہاں کے تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ کاراکاس نے نئی دہلی کو ایک ’اہم اقتصادی شراکت دار‘ قرار دیا ہے۔ وینزویلا کے تیل کی صنعت میں بین الاقوامی سرمایہ کاری میں حالیہ تیزی کے درمیان ہندوستان کی اس ملک پر توجہ بڑھی ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں کہا تھا کہ امریکہ، ہندوستان کو توانائی کی سپلائی کے ذرائع میں تنوع لانے میں مدد کرنے میں اپنا کردار دیکھتا ہے اور انہوں نے خاص طور پر وینزویلا کو ہندوستانی ریفائنریوں کے لیے خام تیل کے ایک ممکنہ ذریعہ کے طور پر نشان زد کیا تھا۔ روبیو نے کہا تھا کہ ہندوستان ایک طویل عرصے سے اپنے توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے اور امریکہ اس میں شامل ہونا چاہے گا۔
امریکہ اوروینزویلا کے درمیا ن اہم معاہدہ
حال ہی میں امریکہ نے وینزویلا کے ساتھ اس کے ۶۵۰۰؍ کروڑ بیرل سے زائد تصدیق شدہ تیل کے ذخائر پر کنٹرول سے متعلق ایک معاہدہ کیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ اس معاہدے سے امریکہ کے تیل کے ذخائر دگنے سے بھی زیادہ ہو جائیں گے اورتمام امریکیوں کیلئے گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے سنیچر کی دیر رات ایک خطاب میں اس معاہدے کو اپنے ملک کی معاشی بحالی میں مددگار قرار دیا۔ ایران جنگ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے درمیان امریکی صدر ٹرمپ پر ملکی سطح پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ وینزویلا کے تیل کے ذخائر کا بڑا حصہ اورینوکو بیلٹ میں مرکوز ہے، جہاں تیل کی پیداوار اور نقل و حمل کیلئے خصوصی آلات اور جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔