روس نے کہا:یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں لیا ہے، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نےاسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیزیوں کو موجودہ بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 1:49 PM IST | Mascow
روس نے کہا:یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں لیا ہے، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نےاسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیزیوں کو موجودہ بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
ایران پر دوبارہ ممکنہ فوجی حملوں سےمتعلق خبروں پر عالمی سطح پر ردعمل سامنے آنا شروع ہوگیا ہے، جبکہ مختلف ممالک کے سفارتکاروں اورلیڈروں نےخطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے مستقل مندوب میخائل اولیانوف نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ پر ردعمل دیتےہوئے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنا اس بات کی علامت ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا، خطے میں مزید فوجی کارروائیاں صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتی ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہےہیں، جس کے مختلف فوجی آپشنز پر غور جاری ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ روسی مندوب نےاس موقع پر چینی وزیر خارجہ کے اس مؤقف کی بھی حمایت کی جس میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں استحکام کیلئےمکمل جنگ بندی ناگزیر ہے، خطے میں بحری راستوں کی حفاظت اور عالمی تجارت کے تسلسل کے لیے کشیدگی میں کمی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کی نمائندہ کا اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف منظم تشدد کا الزام
دوسری جانب رجب طیب اردگان نے بھی خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے پہلے اسرائیل کی اشتعال انگیزیوں کو روکا جانا چاہیے، تب ہی حقیقی امن ممکن ہوگا۔ ترک میڈیا کے مطابق قازقستان سے واپسی کی پرواز کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں ترک صدر نے کہاکہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ اسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیزیاں ہیں، جو خطے میں جنگ کومزید پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں، اگر مستقل استحکام حاصل کرنا ہے تو تمام فریقوں کو اپنے محدود مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔
اسی دوران ایرانی مالیاتی شعبے سے متعلق ایک علیحدہ پیش رفت میں ایرانی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج آرگنائزیشن کے ڈپٹی سپروائزرحامد یاری نےکہا ہے کہ جنگ کے دوران اسٹاک مارکیٹ کو بند کرنے کا مقصد سرمایہ کاروں کے اثاثوں کا تحفظ اور قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کو کنٹرول کرنا تھا۔