Inquilab Logo Happiest Places to Work

گلوبل صمود فلوٹیلا کے غزہ کی طرف گامزن اسپرنگ مشن ۲۰۲۶ء پر اسرائیل کا حملہ

Updated: May 18, 2026, 7:40 PM IST | Madrid

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کیلئے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے قافلے کو گھیرنے والے نامعلوم بحری جہازوں کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد بحیرہ روم کے ممالک سے فلوٹیلا کی حفاظت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ البانیز نے ایکس پر لکھا کہ ”فلوٹیلا سے دور رہیں۔“

Photo: X
تصویر: ایکس

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، پیر کے دن اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی طرف گامزن گلوبل صمود فلوٹیلا کے بحری جہازوں پر بحیرہ روم کے بین الاقوامی پانیوں میں حملہ کر دیا ہے۔ فلوٹیلا سے کی جانے والی براہِ راست نشریات میں اسرائیلی بحری افواج کو ایک کے بعد ایک کشتیوں پر سوار ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اسرائیلی روزنامے یدیعوت احرونوت (Yedioth Ahronoth) نے رپورٹ کیا کہ غزہ پٹی کی طرف بڑھنے والے جہازوں میں سے ایک کے قریب اسرائیلی فوجیوں کی فلم بندی کی گئی ہے۔ اخبار نے بعد میں رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج نے کشتیوں پر سوار کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے اور انہیں اشدود کی بندرگاہ پر منتقل کرنے سے پہلے ایک بحری جہاز میں منتقل کیا جا رہا ہے جسے ”تیرتی ہوئی جیل“ قرار دیا گیا ہے۔

دریں اثنا، گلوبل صمود فلوٹیلا نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے فوجی بحری جہاز، ہمارے بیڑے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ”ہم ہائی الرٹ پر ہیں کیونکہ ہم غزہ کی طرف اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم مرعوب ہونے سے انکار کرتے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: لندن: فلسطین کی حمایت میں ہزاروں شہری سڑکوں پر اترے

اسرائیلی حراست میں لئے گئے کارکنوں میں آئرش صدر کیتھرین کونولی کی بہن بھی شامل: میڈیا رپورٹس

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس حملے میں اسرائیلی افواج کی جانب سے حراست میں لئے گئے صمود فلوٹیلا کے کارکنوں میں آئرش صدر کیتھرین کونولی (Catherine Connolly) کی بہن بھی شامل ہیں۔ آئرش روزنامہ ’آئرش انڈیپینڈنٹ‘ نے رپورٹ کیا کہ مارگریٹ کونولی (Margaret Connolly) صمود فلوٹیلا کے بحری جہازوں پر سوار ان کم از کم چھ آئرش شہریوں میں شامل تھیں جنہیں اسرائیل نے حراست میں لے لیا ہے۔ 

منتظمین نے بتایا کہ اس مشن میں ۴۲۶ شرکاء شامل تھے، جن میں ۹۶ ترک کارکن اور جرمنی، امریکہ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، بحرین، برازیل، الجزائر، انڈونیشیا، مراکش، فرانس، جنوبی افریقہ، برطانیہ، آئرلینڈ، اسپین، اٹلی، کینیڈا، مصر، پاکستان، تیونس، عمان اور نیوزی لینڈ سمیت ۳۹ ممالک کے شرکاء شامل تھے۔

گلوبل صمود نے اپنے بحری جہازوں کیلئے ”محفوظ راستے“ کا مطالبہ کیا

گلوبل صمود نے پیر کو ایک بیان میں اپنے بحری جہازوں کیلئے ”محفوظ راستے“ کا مطالبہ کیا اور اسرائیل پر ”قزاقی پر مبنی غیر قانونی اقدامات“ کا الزام لگایا ہے۔ فلوٹیلا نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں ”دن دہاڑے“ ان کی پہلی کشتی پر حملہ کیا جبکہ فوجی جہازوں نے بیڑے کو روک لیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ”ہم اپنے قانونی، پرامن انسانی مشن کیلئے محفوظ راستے کا مطالبہ کرتے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا قانون نافذ

فلوٹیلا نے حکومتوں سے بھی مداخلت کی اپیل کی اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ غزہ پر ”نسل کشی کے محاصرے“ کو برقرار رکھنے کیلئے ”سمندری قزاقی کے غیر قانونی اقدامات“ کر رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ”مقبوضہ قوت کے تشدد کو معمول بنانا ہم سب کیلئے ایک خطرہ ہے۔“ گروپ نے کہا کہ اسرائیلی بحری جنگی جہازوں نے غزہ سے تقریباً ۲۵۰ ناٹیکل میل دور فلوٹیلا پر سوار شہریوں کو گھیر لیا ہے، جو ”بین الاقوامی پانیوں میں کھلے سمندر پر ایک اور غیر قانونی مداخلت ہے۔“

فلوٹیلا کی جانب سے ڈرونز اور نامعلوم جہازوں کی اطلاع

اس سے قبل، گلوبل صمود نے غزہ کی طرف گامزن اپنے بحری جہازوں کے قافلے کے قریب نامعلوم بحری جہازوں، ڈرونز اور فوجی عناصر کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔ یہ قافلہ بحیرہ روم میں بین الاقوامی پانیوں سے گزر رہا تھا۔ منتظمین نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کئے گئے ایک بیان میں کہا کہ ”بحری جہازوں اور اسپیڈ بوٹس کو بیڑے کے آگے، پیچھے اور ایک طرف دیکھا گیا ہے۔“ فلوٹیلا نے قافلے کے قریب ”نامعلوم ڈرونز اور فوجی عناصر“ کی نقل و حرکت کی بھی اطلاع دی ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے غزہ کا محاصرہ توڑنے کیلئے روانہ ہونے والے اسپرنگ مشن ۲۰۲۶ء میں ۵۴ جہاز شامل ہیں۔ یہ جہاز غزہ کے باشندوں کیلئے انسانی امداد لے کر ترکی کے شہر مارماریس (Marmaris) سے روانہ ہوئے تھے۔ حالیہ مشن سے قبل اپریل کے آخر میں غزہ جانے والے صمود فلوٹیلا کے جہازی مشن پر اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں کریٹ (Crete) کے ساحل کے قریب حملہ کیا تھا اور ۲۱ کشتیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی لفٹر کا عالمی ریکارڈ، تمغہ میزائل حملے میں فوت بچوں کے نام کیا

صمود فلوٹیلا کا زمینی قافلہ

بحری مشن کے ساتھ ساتھ، گلوبل صمود کا زمینی قافلہ بھی غزہ کی طرف گامزن ہے جو لیبیا کے شہر سرت کے قریب رکا ہوا ہے۔ یہ قافلہ، جو جمعہ کو زاویہ (Zawiya) سے روانہ ہوا تھا، اس میں ترکی، برطانیہ اور امریکہ سمیت ۳۰ ممالک کے ۳۵۰ سے زائد کارکن شامل ہیں۔ یہ قافلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی سپلائی کے ۵۰ کنٹینرز لے جا رہا ہے، جن میں موبائل ہاؤسنگ یونٹس اور پانچ ایمبولینسیز شامل ہیں۔ مشن میں شامل ترک کارکنوں کے کوآرڈینیٹر حیاتی ارسلان نے کہا کہ مشرقی لیبیا کے حکام کے ساتھ گفتگو جاری ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ قافلے کا مقصد اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنا اور غزہ تک انسانی امداد پہنچانا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے ۲۰۰۷ء سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ فلوٹیلا کے منتظمین کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء سے شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی جارحیت میں اب تک اس علاقے میں ۷۳ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: خوراک کی تقسیم کے مرکز پر اسرائیلی حملے، ۴؍ فلسطینی جاں بحق

اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندے کا فلوٹیلا کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کیلئے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے قافلے کو گھیرنے والے نامعلوم بحری جہازوں کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد بحیرہ روم کے ممالک سے فلوٹیلا کی حفاظت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ البانیز نے ایکس پر لکھا کہ ”فلوٹیلا سے دور رہیں۔“ انہوں نے بحیرہ روم کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ”ان شہری بحری جہازوں کی حفاظت کریں جو غزہ پر اسرائیل کے نسل کشی کے محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔“ انہوں نے ریاستوں سے ”محاصرہ توڑنے، نسل پرستی کے ساتھ ملی بھگت ختم کرنے اور انصاف کو ممکن بنانے“ کا بھی مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK