ڈجیٹل پیمنٹ فراڈ کے خلاف سخت اقدام اٹھاتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی )نے ڈجیٹل بینک ڈپازٹس کو ’’رسک اسکور‘‘ دینے کا نظام بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے مشکوک ٹرانزیکشنز کی فوری شناخت میں مدد ملے گی۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 7:04 PM IST | Mumbai
ڈجیٹل پیمنٹ فراڈ کے خلاف سخت اقدام اٹھاتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی )نے ڈجیٹل بینک ڈپازٹس کو ’’رسک اسکور‘‘ دینے کا نظام بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے مشکوک ٹرانزیکشنز کی فوری شناخت میں مدد ملے گی۔
ڈجیٹل پیمنٹ فراڈ روکنے کے لیے آر بی آئی ایک نئے نظام پر کام کر رہا ہے جس میں ہر ڈجیٹل ٹرانزیکشن کو ایک رسک اسکور دیا جائے گا۔ صارفین ریئل ٹائم میں یہ جان سکیں گے کہ ان کی ٹرانزیکشن کتنی محفوظ ہے۔ ایسے اکاؤنٹس کی ایک مشترکہ رجسٹری بھی بنائی جائے گی جنہیں سائبر مجرم استعمال کرتے ہیں۔ آربی آئی نے سخت اقدامات کرتے ہوئے ڈجیٹل بینک ڈپازٹس کو ’’رسک اسکور‘‘ دینے کا اصول بنایا ہے، جس سے مشکوک ٹرانزیکشنز کی فوری شناخت ممکن ہو سکے گی۔
مَیول اکاؤنٹس پر قابو پانے کی کوشش
اس کے تحت سائبر مجرموں کے’’مَیول اکاؤنٹس‘‘ پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے لیے آر بی آئی انوویشن ہب نے ایک نظام تیار کیا ہے۔آئی ڈی پی آئی سی (Indian Digital Payment Intelligence Corporation) اس نظام کو چلائے گا۔ مشکوک بینک اکاؤنٹس کی ایک مشترکہ رجسٹری بنائی جائے گی۔ آر بی آئی انوویشن ہب نے mulehunter.ai نام کا ایک ٹول تیار کیا ہے۔ کچھ بینک پہلے ہی اس مشترکہ رجسٹری انفراسٹرکچر سے منسلک ہو چکے ہیں۔
یہ اقدام ہندوستان میں سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر شروع کیا گیا ہے۔ اس سے مالی جرائم میں کمی آنے کی امید ہے۔ اے آئی ٹول MuleHunter.ai جدید مشین لرننگ الگورتھمز استعمال کر کے مَیول اکاؤنٹس کی شناخت کے عمل کو تیز اور زیادہ درست بناتا ہے۔ یہ ٹول ڈیٹا کا تجزیہ (analysis) جدید ایم ایل الگورتھمز کے ذریعے کرتا ہے اور روایتی قواعد پر مبنی نظام کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔ دو بڑے سرکاری بینکوں میں اس کا پائلٹ ٹیسٹ کیا گیا ہے جہاں مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ آر بی آئی تمام بینکوں کو اس ٹول کے استعمال کی ترغیب دے رہا ہے تاکہ پورے بینکنگ نظام کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے:’’امّا اَریان‘‘ کو ریلیز کے تقریباً ۴۰؍ سال بعد عالمی سطح پر دوبارہ پیش کیا گیا
mulehunter.ai کیا ہے؟
mulehunter.ai ٹول کو ریزرو بینک انوویشن ہب نے حکومت کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔ یہ ایک اے آئی پر مبنی ٹول ہے جو ریئل ٹائم میں مَیول اکاؤنٹس کی شناخت میں مدد دیتا ہے، یعنی ایسے اکاؤنٹس کی پہچان کرتا ہے جنہیں منی لانڈرنگ اور سائبر کرائم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ٹول مشین لرننگ کے ذریعے ٹرانزیکشن پیٹرنز کا تجزیہ کرتا ہے جس سے بینکوں کو غیر قانونی اکاؤنٹس کی نشاندہی میں مدد ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کانز ۲۰۲۶ء: ہاویئر بارڈیم کی ٹرمپ، نیتن یاہو، پوتن پر شدید تنقید
مَیول اکاؤنٹس کیا ہوتے ہیں؟
جس طرح ’’مَیول‘‘ (یعنی خچر) کا استعمال سامان ڈھونے کے لیے کیا جاتا ہے، اسی طرح مَیول اکاؤنٹس بھی اسی نوعیت کا کام کرتے ہیں۔ فنانشل فراڈ کی دنیا میں مَیول اکاؤنٹس ایسے بینک اکاؤنٹس ہوتے ہیں جن کے ذریعے سائبر فراڈ کے پیسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جاتے ہیں۔ اس سے مجرموں کو پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عام طور پر یہ وہ اکاؤنٹس ہوتے ہیں جنہیں اصل اکاؤنٹ ہولڈر استعمال نہیں کر رہا ہوتا، یا بعض اوقات لوگ لالچ میں آ کر انجانے میں بھی ایسے اکاؤنٹس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسکیمرز لوگوں کو زیادہ منافع یا گھر بیٹھے کام کا لالچ دے کر اس عمل میں پھنساتے ہیں۔