• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاور پلے کے بعد ہم پر دباؤ نہیں تھا: شبھ من گِل

Updated: October 01, 2026, 9:07 PM IST | Guwahati

ہندوستانی کپتان شبھ من گِل نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ون ڈے میں ۴۰۰؍ سے زائد رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ابتدائی طور پر کچھ دباؤ محسوس ہونے کی بات تسلیم کی، لیکن کہا کہ پاور پلے کے بعد یہ دباؤ ختم ہوگیا تھا۔

Shubman Gill.Photo:X
شبھ من گل۔ تصویر:ایکس

ہندوستانی کپتان شبھ من گِل  نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ون ڈے میں ۴۰۰؍ سے زائد رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ابتدائی طور پر کچھ دباؤ محسوس ہونے کی بات تسلیم کی، لیکن کہا کہ پاور پلے کے بعد یہ دباؤ ختم ہوگیا تھا۔میچ کے بعد براڈکاسٹرس سے بات کرتے ہوئے گل نے کہاکہ ’’اننگز کے نصف مرحلے پر اسکور بورڈ پر۴۰۰؍ رنز تھے اور ہم پر تھوڑا دباؤ تھا۔ وکٹ کتنی بھی اچھی ہو اور میدان کتنا بھی چھوٹا ہو، ۴۰۰؍ رنز کا تعاقب کبھی آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے پوری آزادی کے ساتھ بلے بازی کی اور بہت اچھی بیٹنگ کی۔ ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ۴۲۰؍ سے ۴۳۰؍ رنز تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اننگز کے آخری حصے میں میچ کو واپس کھینچنا اور انہیں مزید ۲۵۔۳۰؍ رنز بنانے سے روکنا ہمارے لیے بونس تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:عالیہ بھٹ ارتھ شاٹ پرائز ۲۰۲۶ء کی ممبئی تقریب میں شرکت کریں گی

انہوں نے کہاکہ روہت شرما اور میرے درمیان پاور پلے میں یہ ہدف تھا کہ اگر ہم بغیر کوئی وکٹ گنوائے تقریباً ۷۵؍ سے ۸۰؍ رنز بنا لیتے ہیں تو یہ اچھی شروعات ہوگی۔ ہمیں ابتدا میں لگا تھا کہ نئی گیند کچھ مدد کرسکتی ہے، لیکن ایک بار گیند پرانی ہوجائے تو وکٹ بلے بازی کے لیے کافی بہتر ہوجائے گی۔  روہت اور گل نے پاور پلے میں بغیر کوئی وکٹ گنوائے ۹۲؍ رنز بنائے اور ہندوستان ریکارڈ ہدف کے تعاقب میں تیزی سے آگے بڑھا۔ گل نے کہا کہ میدان کا ایک حصہ بہت چھوٹا تھا، اس لیے ہم نے سوچا کہ جب بھی تیز گیندباز آئیں گے، ہم اس جانب کو نشانہ بنائیں گے۔ تقریباً  ۲۵؍ اوورز کے آس پاس میں نے سوچا کہ اگر ہم  ۲۰۰؍ سے ۲۱۰؍ رنز کے قریب ہیں تو ہم اچھی پوزیشن میں ہوں گے۔ لیکن ہم اس وقت تقریباً ۲۳۰؍،۲۴۰سے ۲۵۰؍ رنز تک پہنچ چکے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ پاور پلے کے بعد دباؤ دراصل ہم پر نہیں بلکہ ان پر زیادہ تھا۔ ہم نے اپنی اننگز کے نصف مرحلے تک کوئی وکٹ نہیں گنوائی تھی۔ اس لیے یہ ہمارے لیے شاندار بونس تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:نتیش سیواچ نے۶۴؍ سال کا انتظار ختم کیا، گریکو رومن کشتی کا چاندی کا تمغہ جیتا

روہت اور گل نے پہلی وکٹ کے لیے  ۲۵۵؍ رنز کی شراکت داری کی، جس میں روہت نے ۷۵؍ گیندوں پر ۱۰۱؍ رنز بنائے۔ میچ کے بعد روہت نے کہاکہ ہم بس مسلسل بلے بازی کرتے رہنا چاہتے تھے۔ سچ کہوں تو ہم اسکور بورڈ کے بارے میں زیادہ نہیں سوچ رہے تھے۔ ہم صرف گیند کی میرٹ کے مطابق کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب آپ ۴۰۶؍ جیسے ہدف کا تعاقب کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کو بڑی شراکت داریاں بنانا ہوتی ہیں۔ ہم نے وہی کیا۔ دوسری طرف گل شاندار تھے اور پوری اننگز کے دوران ان کی بلے بازی پر بہت اچھا کنٹرول تھا۔ 
 گل نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ہندوستان سیریز میں اب تک میچ نہ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو موقع دینے پر غور کرسکتا ہے۔ ان میں محمد سراج، دھرو جورل اور یشسوی جیسوال شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مثالی طور پر ہم ان کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہیں گے جنہیں اب تک کھیلنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ امید ہے کہ اس سے ہمیں یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ ۲۰۲۷ء کے ون ڈے عالمی کپ کے لیے کون سا امتزاج ہمارے لیے موزوں رہے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK