نتیشسیواچ نے مردوں کے ۹۷؍ کلوگرام زمرے میں چاندی کا تمغہ جیت کر ایشیائی کھیلوں کی گریکو رومن کشتی میں ہندوستانی فائنلسٹ کے لیے ۶۴؍ سال کا انتظار ختم کردیا اور ملک کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi
نتیشسیواچ نے مردوں کے ۹۷؍ کلوگرام زمرے میں چاندی کا تمغہ جیت کر ایشیائی کھیلوں کی گریکو رومن کشتی میں ہندوستانی فائنلسٹ کے لیے ۶۴؍ سال کا انتظار ختم کردیا اور ملک کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔
ہندوستانی پہلوان نتیش سیواچ نے جمعرات کو مردوں کے ۹۷؍ کلوگرام زمرے میں چاندی کا تمغہ جیت کر ایشیائی کھیلوں کی گریکو رومن کشتی میں ہندوستانی فائنلسٹ کے لیے ۶۴؍ سال کا انتظار ختم کردیا اور ملک کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔
64 YEARS LATER. HISTORY MADE. 🇮🇳🔥
— Wrestling Federation of India (WFI) (@wfi_wrestling) October 1, 2026
Nitesh Siwach has become the first Indian Greco-Roman wrestler since 1962 to reach an Asian Games final. 🤼♂️
9–0 technical superiority over Mongolia’s Gankhuyag Ganbaatar sends Nitesh into the 97 KG Gold Medal Match. 🇮🇳🥇 pic.twitter.com/Bj2nZecoep
یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز:ابھیشیک کے گول سے ہندوستان نے ہاکی کے فائنل میں جگہ بنائی
جمعرات کو طلائی تمغے کے مقابلے میں سیواچ کو جاپان کے یوری ناکازاتو نے شکست دے کر طلائی تمغہ جیتا، جبکہ سیواچ دوسرے مقام پر رہے اور انہیں چاندی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔ یہ اس کھیل میں ہندوستان کا تاریخی تمغہ ہے، جہاں ملک نے اس سے قبل صرف چار کانسی کے تمغے جیتے تھے۔ سیواچ فائنل تک کے سفر میں شاندار نظر آئے۔ انہوں نے اپنی مہم کا آغاز کوارٹر فائنل میں ترکمانستان کے امان بردی اگامامیدوف کے خلاف ۱۔۷؍کی جیت سے کیا، جس کے بعد سیمی فائنل میں منگولیا کے گنخو یانگ گن باتار کے خلاف اس سے بھی زیادہ مضبوط کارکردگی پیش کی۔ایشین چیمپئن شپ کے چاندی کا تمغہ فاتح سیواچ نے `ٹیکنیکل سپیریئرٹی (تکنیکی برتری) کی بنیاد پر گن باتار کو ۰۔۹؍سے شکست دی اور ابتدائی تین منٹ کے پیریڈ میں ہی مقابلہ ختم کردیا۔ سیواچ کے سیمی فائنل مقابلے میں گراؤنڈ پوزیشن سے دو فور پوائنٹ تھرو (چار پوائنٹس والے داؤ) دیکھنے کو ملے، جن کا منگولین پہلوان کوئی جواب نہیں دے سکا اور ہندوستانی پہلوان نے طلائی تمغے کے مقابلے میں اپنی جگہ پکی کرلی۔
یہ بھی پڑھئے:اجے دیوگن نے ’’درِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ کے لیے موہن لال کی منظوری طلب کی
فائنل مقابلہ زیادہ مشکل ثابت ہوا، جس میں ناکازاتو نے ابتدا ہی میں ۰۔۲؍کی برتری حاصل کرلی۔ سیواچ اس فرق کو ختم نہیں کرسکے اور جاپانی پہلوان نے اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے طلائی تمغہ جیت لیا۔ پوڈیم پر سرفہرست مقام حاصل نہ کرنے کے باوجود سیواچ کا چاندی کا تمغہ ایشیائی کھیلوں کی گریکو رومن کشتی میں ہندوستان کی اب تک کی بہترین کارکردگی ہے اور اس کھیل میں ہندوستانی فائنلسٹ کے لیے طویل عرصے سے جاری انتظار بھی ختم ہوگیا۔