Updated: December 13, 2019, 9:54 PM IST
|
Gopal Mishra
| Mumbai
گزشتہ ہفتہ ہم نےاسی کالم میں دیکھا تھا کہ انٹرپرینیورشپ کیا ہوتی ہے اوراس کےتقاضےکیا ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گےکہ ایک کامیاب انٹرپرینیور کیسے بنا جاسکتا ہے اور اس کیلئے کیاخصوصیات ضروری ہیں۔ اور یہ کہ اس کے تعلق سےعام طور پرکیاکچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔
انٹرپرینیورشپ کے تعلق سے محض سوچتے رہنے سے کام نہیں ہوتا۔
گزشتہ ہفتہ ہم نےاسی کالم میں دیکھا تھا کہ انٹرپرینیورشپ کیا ہوتی ہے اوراس کےتقاضےکیاہیں وغیرہ وغیرہ۔ آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گےکہ ایک کامیاب انٹرپرینیور کیسے بنا جاسکتا ہے اور اس کیلئے کیاخصوصیات ضروری ہیں۔ اور یہ کہ اس کے تعلق سےعام طور پرکیاکچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔
اس موضوع پر بات کرنے سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے ایسے کئی لوگ ملتے ہیں جو اکثر کچھ اپنا کرنے کی بات کرتے ہیں۔ انٹرپرینیور بننے کی بات کرتے ہیں کیا کوئی بزنس شروع کرنے کی بات کرتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ بات کئی مہینوں یا برسوں تک کرتے رہتے ہیں لیکن حقیقت میں اس سمت میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتے۔ جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ بھائی تم کیا کرنے کا منصوبہ بنارہے ہواور اسے کب سے شروع کرنے والے ہو؟ تو مجھے کچھ ایسے جواب ملتے ہیں۔
ابھی فیصلہ نہیں کیااس پر،بیٹھ کرسوچتے ہیں اس پر۔
سوچ رہے ہیں ایک اسکول ڈال دیں یا پھر پاپڑ اچار کا کام کیا جائے ۔
ایک کام سوچے تو ہیں لیکن کوئی پارٹنر نہیں مل رہا ہے۔
تمہی بتائو یار کیا کیا جائے۔
کئی لوگ اس بات پر ہی واضح طور پر نہیں سوچ پاتے کہ وہ کرنا کیا چاہتے ہیں، توکب سے شروع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
لوگ اپنے منصوبے پر عمل کیوں نہیں کرپاتے
انٹرپرینیور بننے کی بات پر وہ سنجیدہ نہیں ہوتے۔ شاید ایسا کہنا کہ ’’میں ایک انٹرپرینیور بننا چاہتا ہوں‘‘وہ بس ایک فیشن اسٹیٹمنٹ کے طور پر ہی استعمال کرتے ہیں اور اصل میں ان کے دل میں ایسا کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔ وہ ایسا سوچتے ہیں کہ ابھی اس کام کیلئے میں تیار نہیں ہوں۔ ’’مجھے تجربہ نہیں ہے‘‘، ’’میرے پاس ابھی اتنے پیسے نہیں‘‘ ناکامی کا ڈر۔’’کہیں میرا منصوبہ ناکام ہوگیاتو…‘‘ جب ناکامی کا ڈر ، کامیابی کی خوشی سے زیادہ ہوتا ہے تو انٹرپرینیور بن پانا مشکل ہوتا ہے۔
موجودہ صورتحال کا صحیح ہونا۔ جب ملازمت میں ہی ٹھیک ٹھاک پیسے مل رہے ہیں تو انسان سوچ سکتا ہے کہ جوکھم لینے سے کیا فائدہ اور وہ بھی اسی میں لگا رہتا ہے۔ میں ملازمت کرنے کو برا نہیں مانتا، اگر آپ اس میں مطمئن ہیں تو آپ کیلئے وہی صحیح ہے۔
کامیاب انٹرپرینیور بننے کیلئے کیا ضروری ہے؟
کچھ اپنا کرنے کی خواہش کا ہونا۔
کیا کرنا ہے اس تعلق سے دماغ میں واضح منصوبہ ہونا۔
اپنے آئیڈیا پر مکمل اعتماد ہونا۔ آپ جو کرنے جارہے ہیں اگر اس کے تعلق سے بہت سارے شکوک و شبہات ہیں تو آپ کا کامیاب ہو پانا مشکل ہے۔
ناکامی کیلئے تیار رہنا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کا آئیڈیا کامیاب نہ ہو، ایسے میں اسےصرف ایک سبق کے طور پر لیں اور نئے آئیڈیا کے ساتھ دوبارہ جٹ جائیں۔
بیک اپ پلان تیار رکھنا۔ ہم سبھی کیلئے خطرہ جھیلنے کی ایک حدہوتی ہےجس کے آگے ہم خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ تو اگر آپ کا منصوبہ ناکام ہوجاتا ہے توایسے میں آپ دوبارہ کیسے ابھریں گےاس کیلئے منصوبہ ہونا ضروری ہے۔ میرے خیال میں اگر کہیں ملازمت کررہے ہیں اور آپ کے دماغ میں کوئی بزنس آئیڈیا ہے اور آپ اسے دل و جان سے کرنا چاہتے ہیں تو ملازمت چھوڑ کر اسے شروع نہ کریں بلکہ اسے سائڈ بزنس کے طور پر شروع کریں یا ایک لمبی چھٹی لے کر اس آئیڈیا پر کام کریں۔
مستقل مزاجی:اپنے کام کے تعلق سےمستقل مزاجی اختیار کریں۔ درمیان میں کئی مرتبہ ایسا لگ سکتا ہے کہ آپ کامیاب نہیں ہوسکیں گے، لیکن ایسے موقع پر آپ کو خود سے مثبت باتیں کرنا ہونگی۔زیادہ تر انٹرپرینیور اسی خصوصیت کے نہ ہونے کی وجہ سےکامیاب نہیں ہوپاتے۔ وہ کبھی یہ جان ہی نہیں پاتے کہ اگر وہ کچھ دیر اور ہمت نہیں ہارتے اور ٹک کر کام کرتے تو وہ ایک کامیاب تاجر ہوتے۔
تھوڑی سی قسمت۔ پہلے میں قسمت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن میرے سامنے کچھ ایسے معاملات آئے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ قسمت بھی ایک اہم پہلو ہے۔
انٹرپرینیورشپ سے متعلق کچھ غلط فہمیاں اور اس کی حقیقت
انٹرپرینیور پیدا ہوتے ہیں، بنائے نہیں جاسکتے: ایسا نہیں ہے۔ کوئی بھی کبھی بھی ایک انٹرپرینیور بن سکتا ہے۔
انٹرپرینیور بننے کیلئے کسی نئے آئیڈیا کا ہونا ضروری ہے: ایسا بالکل نہیں ہے، آپ دوسروں کے ذریعہ شروع کئے گئے کام کے آئیڈیا کو دوبارہ اپنے طریقے سے شروع کرکے ایک کامیاب انٹرپرینیور بن سکتے ہیں۔
انٹرپرینیور بننے کیلئے تجربہ کا ہونا ضروری ہے:ایسا بھی ضروری نہیں ہے۔ ایسے بھی کئی افراد ہیں جو چھوٹی سی عمر میں ہی بہت بڑے انٹرپرینیور بنے ہیں۔
انٹرپرینیور بننے کیلئے کسی چیز کے تعلق سے جو ش و جذبہ ہونا چاہئے: میرے حساب سے ایسا بھی ضروری نہیں ہے۔ لیکن اگر ایسا ہوگا تو آپ کے بزنس کے کامیاب ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ مثال کے طور پر کپل دیومیں کرکٹ کے تعلق سے جوش و جذبہ ہےلیکن وہ ایک کامیاب انٹرپرینیور بھی ہیں۔ چندی گڑھ میں ان کا ہوٹل بزنس ہے۔ ضرورت ہے اپنے بزنس میں دلچسپی لینے کی اور اس میں کوشش کرنے کی۔ اگر آپ میں اس کے تعلق سے جو ش وجذبہ بھی ہے توسونے پہ سہاگہ والی بات ہے۔ انٹرپرینیور بننا ایک منطقی فیصلہ ہے۔ جتنی کوشش آپ اپنی نوکری میں کرتے ہیں اتنی ہی اگر اپنے بزنس میں کریں تو شاید زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں۔
انٹرپرینیورشپ بننے کیلئے کسی طرح کی پڑھائی لکھائی یا ٹریننگ ضروری ہے:یہ بھی ضروری نہیں ہے۔ شری مہیلا گرہ ادیوگ لجت پاپڑ کا قیام کچھ ان خواتین کے ذریعہ عمل میں آیا تھا اور آج اس کا ٹرن اوور ۶۵۰؍کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے۔
اپنا بزنس شروع کرنے سے پہلےمنصوبہ پوری طرح تیار ہونا چاہئے: یہ بھی ایک غلط فہمی ہے۔ کئی لوگ میدان عمل میں کچھ کرنے سے پہلے سارا وقت کاغذات پر فیصلہ سازی میں ہی لگادیتے ہیں۔ ضرورت ہے کچھ آگے کی پلاننگ کرکے اپنا کام شروع کرنے کی بعد میں خود بخود راستے بنتے جاتے ہیں۔
بزنس کرکے راتوں رات کروڑ پتی بنا جاسکتا ہے: بالکل غلط۔ کسی تجارت میں سب سے پہلے اپنی اہمیت ثابت کرنا ہوتا ہے اور پھر اسے بیچ کر آپ دولت کماسکتے ہیں۔اور یہ سب کرنے میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔بزنس دولت مند بننے کا راستہ ہے لیکن شارٹ کٹ نہیں۔