’’دی ٹیلی گراف‘‘ کے سابق ایڈیٹر کو ایس آئی آر (خاص گہری نظرثانی) میں نام کٹنے کے بعد بالآخر پاسپورٹ مل گیا،اگرچہ حکام نے آر راجگوپال کو بتایا کہ ان کے دستاویزات ناکافی ہیں، تاہم پاسپورٹ کی تجدید سے قبل ان سے کوئی اضافی تفصیلات طلب نہیں کی گئیں۔
EPAPER
Updated: July 04, 2026, 10:37 PM IST | Kolkata
’’دی ٹیلی گراف‘‘ کے سابق ایڈیٹر کو ایس آئی آر (خاص گہری نظرثانی) میں نام کٹنے کے بعد بالآخر پاسپورٹ مل گیا،اگرچہ حکام نے آر راجگوپال کو بتایا کہ ان کے دستاویزات ناکافی ہیں، تاہم پاسپورٹ کی تجدید سے قبل ان سے کوئی اضافی تفصیلات طلب نہیں کی گئیں۔
’’دی ٹیلی گراف‘‘ کے سابق ایڈیٹر کو ایس آئی آر (خاص گہری نظرثانی) میں نام کٹنے کے بعد بالآخر پاسپورٹ مل گیا،اگرچہ حکام نے آر راجگوپال کو بتایا کہ ان کے دستاویزات ناکافی ہیں، تاہم پاسپورٹ کی تجدید سے قبل ان سے کوئی اضافی تفصیلات طلب نہیں کی گئیں،آر راجگوپال، جو دی ٹیلی گراف کے سابق ایڈیٹر ہیں، کو سنیچر کو ان کا تجدید شدہ پاسپورٹ موصول ہوا، یہ کامیابی مہینوں کی دقتوںکے بعد ملی جو مغربی بنگال کی ووٹر فہرستوں سے ان کے نام کے حذف ہونے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ راجگوپال نے فروری میں پاسپورٹ کی تجدید کے لیے درخواست دی تھی۔جبکہ ان کا نام ایس آئی آر سے ہدف کردیا گیا تھا۔ ، جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ نہ ان کا اور نہ ہی ان کے والد کا نام ۲۰۰۲ء کی ووٹر فہرستوں میں مل سکا۔
یہ بھی پڑھئے: چمبور اسکول بس واقعہ پرمیونسپل کمشنر اور دیگر محکموں کیخلاف پولیس میں شکایت
بعد ازاں ۱۷؍ جون کو، کولکاتا کے علاقائی پاسپورٹ دفتر نے انہیں بتایا کہ پولیس نے ان کی پاسپورٹ تجدید کی درخواست پر منفی رپورٹ جمع کرائی تھی، جس کی وجہ ووٹر لسٹ سے ان کا نام کٹنا تھا۔جبکہ انہیں بتایا گیا کہ ان کے جمع کرائے گئے متبادل دستاویزات ناکافی تھے۔ حالانکہ اس کے بعد اور تجدید شدہ پاسپورٹ کے جاری ہونے کے درمیان، حکام نے راجگوپال سے کوئی اضافی دستاویزات طلب نہیں کئے۔جبکہ انہوں نے کہا کہ کیرالا کے وزیر اعلیٰ نے پیر کو مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوبندو ادھیکاری کو اس معاملےکے حوالے سے خط لکھا تھا۔ اسی دن، کولکاتا پاسپورٹ آفس نے انہیں ای میل کر کے نئی پولیس تصدیق کی درخواست کرنے کو کہا۔ای میل کے فوراً بعد، انہیں پیغام ملا کہ ان کا پاسپورٹ پروسیس ہو چکا ہے۔اس تناظر میں، انہوں نے کہا کہ یہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا معاملہصرف سیاسی دباؤ کے سبب تیز کیا گیا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مرکزی حکومت اور مغربی بنگال کی انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے کہ کیا خاص گہری نظرثانی کے دوران جمع کردہ ڈیٹا کو ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’جب تک اس مسئلے پر پالیسی کی وضاحت نہیں ہو جاتی، کسی حقیقی راحت کا دعویٰ کرنا مشکل ہے۔انہوں نے دی پروب کو بتایا کہ’’ اگر پولیس ووٹر فہرست نظرثانی کے ڈیٹا کو من مانی طور پر استعمال کر سکتی ہے، تو یہ عوام کے لیے ایک خطرناک صورتحال ہے۔‘‘
واضح رہے کہ ۲۷؍مئی کو، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے کی گئی ووٹر فہرستوں کی خاص نظرثانی کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا، اور کہا کہ یہ عمل آزاد اور منصفانہ انتخابات کے آئینی تقاضے کو آگے بڑھاتا ہے۔تاہم، عدالت نے کہا کہ پول پینل کی جانب سے کسی شخص کو ووٹر فہرست میں شامل کرنے کے مقصد سے کی گئی انکوائری کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ فیصلہ کر سکے کہ آیا وہ شخص ہندوستانی شہری ہے۔ تاہم بدھ کو، وزارت خارجہ نے دوبارہ تاکید کی کہ پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے، شہریت کا ثبوت نہیں۔