دہلی فساد ۲۰۲۰ء کے معاملے میں ایک عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردیں، عدالت نے کہا کہ کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے اس سے قبل کے ضمانت مسترد کرنے والے حکم کی پابند ہے اور ان کی نئی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔
EPAPER
Updated: July 04, 2026, 10:37 PM IST | New Delhi
دہلی فساد ۲۰۲۰ء کے معاملے میں ایک عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردیں، عدالت نے کہا کہ کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے اس سے قبل کے ضمانت مسترد کرنے والے حکم کی پابند ہے اور ان کی نئی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔
دہلی کی ایک عدالت نے سنیچرکو عمر خالد اور شرجیل امام کی، ۲۰۲۰ء دہلی فساد سے متعلق باقاعدہ ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں، اور کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے اس سے قبل کے ضمانت مسترد کرنے والے حکم کی پابند ہے اور ان کی نئی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ککڑ ڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے خالد اور امام کی جانب سے بھارتیہ ناگریک سورکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ۴۸۳؍ کے تحت درخواستوں کو، جو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ۴۳؍ ڈی (۵؍) ، مسترد کر دیا۔اے ایس جے باجپائی نے کہا، ’’عدالت کے پاس سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے پر عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، جس میں دونوں درخواست گزاروں کی عرضیاں مسترد کر دی گئی تھیں۔‘‘عدالت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ درخواست گزار استغاثہ کے زیر انحصار محفوظ گواہوں کی جانچ پڑتال کے بعد یا اپنے ۵؍ جنوری کے حکم سے ایک سال کی مدت ختم ہونے پر، جو بھی پہلے ہو، ضمانت کی درخواست کی تجدید کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔عدالت نے کہا، ’’اس طرح، سپریم کورٹ کے مذکورہ حکم کی پیروی کرتے ہوئے، یہ عدالت درخواستوں پر سماعت نہیں کر سکتی اور درخواست گزاروں کو ضمانت نہیں دے سکتی۔ درحقیقت، درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں اور اس طرح یہ مسترد کی جاتی ہیں۔‘‘
سماعت کے دوران، دونوں ملزمان کے وکلاء نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ کے۵؍ جنوری کے فیصلے کے بعد حالات میں تبدیلی آئی ہے، جس میں انہیں ضمانت سے انکار کرتے ہوئے پانچ سہ ملزمان گلفشا فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو راحت دی گئی تھی۔دفاع نے سپریم کورٹ کے بعد کے فیصلے "سید افتخار اندرابی بمقابلہ نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی" پر انحصار کیا، اور استدلال کیا کہ اس نے اس طریقہ کار پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا جس میں اس سے قبل کے فیصلے ’’گلفشا فاطمہ بمقابلہ ریاست (دہلی کی حکومت)‘‘میں تین ججوں کے بینچ کے فیصلے ’’یونین آف انڈیا بمقابلہ کے اے نجیب‘‘ کو نافذ کیا گیا تھا۔دفاع نے سپریم کورٹ کے حالیہ حکم کا بھی حوالہ دیا جس میں سہ ملزمان تسلیم احمد اور خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دی گئی تھی، جب عدالت نے گلفشا فاطمہ اور سید افتخار اندرابی کے فیصلوں میں فرق کو نوٹ کیا اور قانونی مسئلے کو بڑے بینچ کے حوالے کیا تھا۔اس کے علاوہ عمر خالد کے وکیل نے دہلی ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں خرم پرویز کو طویل قید کی بنیاد پر ضمانت دی گئی تھی، اور کہا کہ خالد کاچھ سال سے زیادہ عرصہ حراست میں گزرا ہے۔ بعد ازاں دفاع نے ٹرائل کورٹ سے درخواست کی کہ وہ باقاعدہ ضمانت دے، یا متبادل طور پر چھ ماہ کی عبوری ضمانت تسلیم احمد اور خالد سیفی کی طرز پر دے۔
یہ بھی پڑھئے: تحفظ قانون حکومت کوعوامی مفاد کیلئے عبادت گاہ کے حصول سے نہیں روکتا: ہائی کورٹ
جبکہ درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے، استغاثہ نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی دونوں درخواست گزاروں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر چکی ہے اور اس سال اپریل میں عمر خالد کی نظرثانی کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔اس کا کہنا تھا کہ حالات میں کوئی اہم تبدیلی نہیں آئی جس کی بنا پر ٹرائل کورٹ اس معاملے پر نظرثانی کرے۔ استغاثہ کے دلائل کو قبول کرتے ہوئے، عدالت نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ نہیں لے سکتی کہ آیا حالات میں کوئی تبدیلی آئی ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے متضاد فیصلوں سے پیدا ہونے والا مسئلہ پہلے ہی بڑے بینچ کے حوالے کیا جا چکا ہے۔حکم میں کہا گیا، جب تک یہ مسئلہ طے نہیں ہو جاتا، عدالت موجودہ درخواستوں پر کسی بھی بنیاد پر غور نہیں کر سکتی۔
واضح رہے کہ یہ معاملہفروری۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں پھوٹنے والے فرقہ وارانہ تشدد کی مبینہ سازش سے متعلق ہے۔ خالد اور امام متعدد ملزمان میں شامل ہیں جن کے خلاف یو اے پی اے اور دیگر تعزیراتی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ مزید بررآں حال ہی میں، سپریم کورٹ نے تسلیم احمد اور خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دی جبکہ اس سوال کو بڑے بینچ کے حوالے کیا کہ کیا طویل قید اور مقدمے کی سماعت میں تاخیر یو اے پی اے کی دفعہ۴۳؍ ڈی (۵؍) کی پابندیوں کے باوجود ضمانت کی منظوری کا جواز فراہم کر سکتی ہے۔