امریکہ اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی اور۱۱؍ ہفتوں سے جاری جنگی صورتحال کے باوجود، ریاست ایریزونا کا شہر ٹوسان اگلے ماہ ہونے والے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے ایرانی قومی فٹ بال ٹیم (ٹیم ملی) کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: May 13, 2026, 5:02 PM IST | New Delhi
امریکہ اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی اور۱۱؍ ہفتوں سے جاری جنگی صورتحال کے باوجود، ریاست ایریزونا کا شہر ٹوسان اگلے ماہ ہونے والے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے ایرانی قومی فٹ بال ٹیم (ٹیم ملی) کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی اور۱۱؍ ہفتوں سے جاری جنگی صورتحال کے باوجود، ریاست ایریزونا کا شہر ٹوسان اگلے ماہ ہونے والے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے ایرانی قومی فٹ بال ٹیم (ٹیم ملی) کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر رہا ہے۔ایک طرف خلیج ہرمز میں امریکی جنگی جہاز ایران کے خلاف صف آراء ہیں اور واشنگٹن میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ ’مکمل فتح‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ٹوسان میں انتظامیہ ایرانی ٹیم کو ایک بہترین اور مثبت تجربہ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
کینو اسپورٹس کمپلیکس اسٹیڈیم ایرانی ٹیم کا بیس کیمپ ہوگا جہاں گھاس کی کٹائی سے لے کر سیکوریٹی کے انتظامات تک سب کچھ فیفا کے ضوابط کے مطابق کیا جا رہا ہے۔انتظامیہ کا موقف: کمپلیکس کی ڈائریکٹر سارہ حنا کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے لیے یہ پروگرام ۱۰۰؍ فیصد یقینی ہے، جب تک کہ فیفا کی جانب سے کچھ اور نہ کہا جائے۔‘‘
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایرانی کھلاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ٹورنامنٹ میں شرکت کرنا مناسب نہیں ہو سکتا۔ تاہم، ٹوسان کے مقامی باشندے اور فٹ بال کلب ایف سی ٹوسان کے صدر جان پرلمین ان دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں’’ہم کھلے دل سے ان کا استقبال کرتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ کھیل قوموں کو قریب لاتا ہے، دور نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’پتی پتنی اور وہ دو‘‘کے ساتھ آیوشمان کھرانہ مزاحیہ سلسلے کو آگے بڑھائیں گے
جہاں ٹوسان کی اکثریت ایرانی ٹیم کی آمد پر پرجوش ہے، وہیں مقامی ایرانی نژاد امریکی برادری میں ملا جلا ردِعمل پایا جاتا ہے۔دوسری جانب، کچھ مقامی ایرانی شہری ان کھلاڑیوں کو اس حکومت کا نمائندہ سمجھتے ہیں جس نے جنوری میں احتجاجی مظاہروں کو سختی سے کچلا تھا۔ علی رضائی نامی ایک شہری کا کہنا ہے کہ ان کھلاڑیوں کی حمایت کرنا ناممکن ہے اور وہ ان کے خلاف احتجاج بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:پلےآف کی جنگ: کیا آر سی بی اپنی برتری برقرار رکھ پائے گی یا کے کے آر کا جادو چلے گا؟
ایرانی فٹ بال فیڈریشن نے شرکت کی تصدیق تو کی ہے لیکن ویزوں کے حصول اور عملے کے ساتھ برتاؤ جیسے معاملات پر کچھ مطالبات بھی رکھے ہیں۔ اس تمام غیر یقینی صورتحال کے باوجود، ٹوسان کے ہوٹل، تربیتی مراکز اور سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں تاکہ دنیا کے اس سب سے بڑے کھیل کے میلے کو کامیاب بنایا جا سکے۔