ڈبلیو ڈبلیوای کے سپر اِسٹار انڈر ٹیکر کا اب رِنگ میں نہ اترنے کافیصلہ

Updated: June 24, 2020, 2:06 PM IST | Agency

ڈبلیو ڈبلیوای کے سپراسٹار انڈر ٹیکر نے ریسلنگ کی دنیا سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئےاب رِنگ میں نہ اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔۰نوے کی دہائی میں اپنے خاص انداز اورداؤ پیچ سے ناظرین بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنانے والے ۵۲؍ سالہ انڈر ٹیکر نے جن کا اصل نام مارک کیلوے ہے ، ایک حالیہ دستاویزی فلم میں کہا کہ ان کیلئے اب ’ جیتنے کے لیے کچھ نہیں بچا۔‘ان کے اس بیان سے ایسا لگ رہا ہے کہ ریسلنگ رِنگ میں ۳۰؍ برس گزارنے کے بعد اب وہ ریٹائر ہونے جا رہے ہیں۔

Undertaker - Pic : INN
انڈر ٹیکر ۔ تصویر : آئی این این

۰نوے کی دہائی میں اپنے خاص انداز اورداؤ پیچ سے ناظرین بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنانے والے ۵۲؍ سالہ انڈر ٹیکر نے جن کا اصل نام مارک کیلوے ہے ، ایک حالیہ دستاویزی فلم میں کہا کہ ان کیلئے اب ’ جیتنے کے لیے کچھ نہیں بچا۔‘ان کے اس بیان سے ایسا لگ رہا ہے کہ ریسلنگ رِنگ میں ۳۰؍ برس گزارنے کے بعد اب وہ ریٹائر ہونے جا رہے ہیں۔لیکن ابھی تک انڈر ٹیکر اور ڈبلیو ڈبلیو ای نے اس بات کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا۔ ’ڈیڈ مین‘ کہلائے جانے والے کیلوے نے اپنی ویڈیو سوانح حیات یا ’بائیوپک‘ میں بہت سی باتیں کی ہیں۔انہوں  نے اے جےسٹائلز کے ساتھ اپنے حالیہ میچ  پر بھی گفتگو کی۔ اس میچ میں وہ اے جے سٹائلز کو دفن کرنے کے بعد اپنی موٹر سائیکل پر روانہ ہوتے دیکھے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے کریئرکے اختتام کا بہترین انداز تھا اور اس طرح کے مواقع بار بار نہیں آتے۔ان کا کہنا تھا کہ `وقت آگیا ہے کہ یہ کاؤ بوائے اب بالآخر رخصت ہو جائے۔ میں رِنگ کے باہر رہ کر وہ کچھ کر سکتا ہوں جو میں رنگ میں نہیں کرسکتا۔ اور میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں جہاں مجھے یہ بات سمجھ آ گئی ہے۔انہوں  نے کہا کہ وہ ایک آخری میچ کے لیے واپس آنے کے لیے سوچیں گے لیکن اس کا حتمی فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ کیلوے متعدد بار ورلڈ ہیوی ویٹ چمپئن بن چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ رائل رمبل اور ۴؍ریسلرز کے مقابلے ٹیگ ٹیم کے بھی ۶؍ بار فاتح قرار دئیے جا چکے ہیں۔
 ان کے کرئیر کا آغاز ورلڈ کلاس چمپئن شپ  ریسلنگ کمپنی سے۱۹۸۴ء میں ہوا تھا۔وہ۱۹۹۰ء  میں ڈبلیو ڈبلیو ای میں آئے جہاں وہ ٹیڈ ڈیبائس کی ملین ڈالر ٹیم کا حصہ بنے۔کیلوے کو ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلنگ کے بانیوں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔ وہ پہلے کاسکٹ میچ اور۱۹۹۲ء میں ہونے والی پہلی سروائیور سیریز میں بھی شامل تھے ۔بہت زیادہ شہرت حاصل کرنے کے باوجود انہوں  نے اپنے ہم عصر کھلاڑی دا راک اور جان سینا کی طرح ہالی ووڈ کا رخ نہیں کیا۔میڈیا سے گزشتہ ماہ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا تھاکہ ان کے پاس ایسا کرنے کے کئی مواقع تھے لیکن انہوں  نے نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے لیے نہیں۔انڈر ٹیکر کے بقول’’ریسلنگ میرا جنون ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں میں اپنے دل و دماغ کے ساتھ پوری محنت سے کام کرتا ہوں۔‘‘اتوار کو ایک ٹویٹ میں انہوں  نے اپنی ڈاکیومینٹری فلم کا لنک شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ’ ’آپ تب تک اس راستے کی قدر نہیں کرتے جب تک آپ اس کے اختتام کو نہیں پہنچتے۔‘‘انڈر ٹیکر سے سوشل میڈیا پر بہت لوگوں نے ہمدردی کا اظہار کیا۔رِنگ میں نہ اترنے کے ان فیصلے کے بعد ہیش ٹیگ ’یو دی ٹیکر‘ ٹرینڈ کرنے لگا۔ ریسلر اے جے اسٹائلز نے کہا کہ یہ ان کے لیے فخر کی بات ہے کہ انڈر ٹیکر کا آخری میچ ان کے ساتھ تھا۔ رنگ میں کھلاڑیوں کی آمد کا اعلان کرنے والے اناؤنسر مائک روم نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بچپن اتنا خوشگوار بنانے کیلئے وہ ان کے شکر گزار ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK