• Sat, 21 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈاکٹر بیبھا چودھری ماہر طبیعیات اور کائناتی شعاعوں کی محقق تھیں

Updated: February 20, 2026, 3:23 PM IST | Mumbai

Bibha Chowdhuriنے سائنسداں ڈی ایم بوس کی زیر نگرانی کام کیا اورایسے ذرات کے آثار دریافت کئے جو بعد میں ’میسن‘ کہلائے۔

Dr. Bibha Chowdhuri. Photo: INN
ڈاکٹر بیبھا چودھری۔ تصویر: آئی این این

 بیبھا چودھری برصغیر کی اُن اولین خواتین سائنسدانوں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے جدید طبیعیات کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ ۳؍ جولائی ۱۹۱۳ء کو کولکاتا،بنگال (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئی تھیں۔ ابتدائی تعلیم ہی سے ان میں ریاضی اور سائنس کے مضامین سے گہری دلچسپی پائی جاتی تھی۔ اُس دور میں جب خواتین کیلئے اعلیٰ تعلیم کے مواقع نہایت محدود تھے، بیبھا چودھری نے نہ صرف تعلیم جاری رکھی بلکہ طبیعیات جیسے مشکل اور تحقیقی میدان کو اپنا شعبہ بنایا۔

یہ بھی پڑھئے: ولیم جے مرتاگ: تاریخی عمارتوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے علمبردار

بیبھا چودھری نے کلکتہ یونیورسٹی کے راجا بازار سائنس کالج میں طبیعیات کی تعلیم حاصل کی اور ۱۹۳۶ء میں ایم ایس سی کی ڈگری مکمل کرنے والی وہ واحد خاتون تھیں۔۱۹۳۹ء میں وہ بوس انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہوئیں اور دیبیندر موہن بوس(ڈی ایم بوس)کے ساتھ کام کیا۔ بیبھا چودھری کی سائنسی زندگی کا اہم ترین پہلو ان کی کائناتی شعاعوں (Cosmic Rays) پر تحقیق ہے۔۱۹۳۰ء اور۱۹۴۰ء کی دہائی میں انہوں نے کائناتی شعاعوں کے مطالعے کے دوران ایسے ذرات کے آثار دریافت کئے جو بعد میں میزون (Meson) کہلائے۔ اگرچہ اس دریافت کا بین الاقوامی اعتراف بعد میں دوسرے سائنسدانوں کے نام سے ہوا لیکن بعد کی تحقیق سے یہ تسلیم کیا گیا کہ بیبھا چودھری اور ڈی ایم بوس کی تحقیق اس میدان میں بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔ اس طرح بیبھا چودھری کو میزون کی ابتدائی دریافت کرنے والی سائنسدانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہال بور لینڈ مشہور امریکی ادیب،صحافی، شاعر اور ماہر فطرت تھے

بیبھا چودھری بعد ازاں برطانیہ گئیں جہاں انہوں نے مانچسٹر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔وہاں انہوں نے ممتاز سائنسدانوں کے ساتھ کام کیا اور ذراتی طبیعیات (Particle Physics) کے میدان میں مزید مہارت حاصل کی۔ ان کی تحقیق نے نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سائنسی برادری میں بھی اہم مقام حاصل کیا۔ بعد ازاں وہ ہندوستان لوٹیں اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈا مینٹل ریسرچ(ٹی آئی ایف آر) اور دیگر تحقیقی اداروں سے وابستہ رہیں۔

بیبھا چودھری کی خدمات صرف سائنسی تحقیق تک محدود نہ تھیں بلکہ انہوں نے ہندوستان میں سائنسی تحقیق کے فروغ اور نئی نسل کی تربیت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ ان خواتین میں شامل تھیں جنہوں نے مردوں کے غلبے والے سائنسی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور آنے والی خواتین سائنسدانوں کیلئے راہیں ہموار کیں۔ ان کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ محنت، لگن اور علمی جستجو کے ذریعے معاشرتی رکاوٹوں کو عبور کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نادین گورڈیمر مشہور افریقی ادیبہ ، ڈراما نگار اور سماجی کارکن تھیں

ڈاکٹر بیبھا چودھری کا انتقال ۲؍ جون ۱۹۹۱ء کو کولکاتا میں ہوا تھا۔ وہ وفات پاگئیں لیکن ان کی علمی خدمات آج بھی سائنسی دنیا میں یاد کی جاتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ان کی تحقیق اور کردار کو دوبارہ اجاگر کیا گیا ہے اور انہیں ہندوستان کی اولین خواتین پارٹیکل فزسسٹ میں نمایاں مقام دیا جاتا ہے۔ بیبھا طالبات کیلئے ترغیب کا باعث ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK