• Sat, 21 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۳): ’’پڑھائی کرنا بھی ایک عبادت ہے‘‘

Updated: February 21, 2026, 11:27 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

جنوبی ممبئی کی نویں جماعت کی ایک طالبہ، اس ماہِ مبارک میں جو نیکی کا کام کررہی ہے، وہ مثالی ہے۔ اس نے اپنے اسکول کی دسویں جماعت کی ایک معذور ساتھی طالبہ کیلئے بحیثیت رائٹر اپنی خدمات فراہم کرنےکی پیشکش کی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

طلبہ پر، بالخصوص وہ جو ایچ ایس سی اور ایس ایس سی بورڈ امتحان میں شریک ہیں، پڑھائی اور امتحان کی حتمی تیاری نیز پرچہ دینے کا دبائو فطری ہے۔ اس کےباوجود ماہِ مبارک میں روزہ، نماز، تراویح اور تلاوت ِ قرآن کی پابندی بھی طلبہ کے معمولات میں داخل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پڑھائی بھی ایک عبادت ہے، اسے بھی ہمیں دین کا ایک جز سمجھنا چاہئے۔ اسی جذبہ کے ساتھ طلبہ نے اپنی زندگی کے اہم تعلیمی پڑائو یعنی ایس ایس سی امتحان کی تیاری کی ہے۔ 
مروڈ جنجیرہ کی دسویں جماعت کی طالبہ کوثر مشرف اُلدے بھی مانتی ہیں کہ پڑھائی عبادت ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’اگر ہم پڑھائی، عبادت سمجھ کر کرتےہیں، تو پڑھائی پر توجہ زیادہ ہوتی ہے اور پڑھائی کا احساس بھی رہتا ہے۔ میں نے اسی جذبہ کے تحت بورڈ امتحان کی تیاری کی ہے۔ ہمارے اساتذہ نے پہلے ہی بتادیاتھاکہ امسال دسویں کاامتحان ماہِ صیام میں آرہاہے چنانچہ سارا نصاب رمضان کے آغاز سے قبل مکمل کرلیا جائے۔ اسی صلاح پر عمل کرتےہوئے امتحان کی پوری پڑھائی رمضان سے پہلے کرلی تھی۔ ‘‘ کوثر اس کیلئے اساتذہ کی رہنمائی کو ان الفاظ میں خاص طور پر اُجاگر کرتی ہیں کہ’’ اس کی تکمیل میں ہمارے اساتذہ کا اہم رول رہا۔ ہر مرحلہ پر اُنہوں نے ہماری رہنمائی فرمائی اور امتحان کیلئے پوری طرح تیار کیا۔ جس کیلئے ہم ان کے بےحد مشکور ہیں۔ اب صرف اعادہ کا سلسلہ جاری ہے۔ ‘‘
کوثرکے مطابق امتحان کے پہلے دن علی الصباح ساڑھے ۳؍بجے میں اپنی امی کےساتھ بیدار ہوئی۔ سحری کی تیاری میں امی کا ہاتھ بٹانے کے بعد سحری کی، فجرکی نماز کےبعد کچھ دیر تلاوت کی۔ ۷؍سے ۹؍بجےتک اُردو کا پرچہ دینے کیلئے جو تیاری کی ہے، اس کا اعادہ کیا۔ اس کےبعد اپنے اسکول سے امتحان گاہ جانےکی تیاری کی۔ نہایت اطمینان اور سکون سے میں نے پرچہ دیا۔ مجھے روزہ رکھ کر پرچہ دینےمیں کسی طرح کی دقت نہیں ہوئی کیونکہ میں نے ذہن بنا لیا تھا کہ روزہ کے ساتھ مجھے اپنی پڑھائی پر بھی پوری توجہ دینی ہے۔ ‘‘ 
جنوبی ممبئی کی نویں جماعت کی ایک طالبہ، اس ماہِ مبارک میں جو نیکی کا کام کررہی ہے، وہ مثالی ہے۔ اس نے اپنے اسکول کی دسویں جماعت کی ایک معذور ساتھی طالبہ کیلئے بحیثیت رائٹر اپنی خدمات فراہم کرنےکی پیشکش کی ہے۔ حالانکہ یکم مارچ سے اس کا اپنا امتحان شروع ہو رہا ہے اس کےباوجود اس ذہین طالبہ نے معذور طالبہ کیلئے روزہ رکھ اس کی مدد کرنے کاعزم کیا ہے۔  اس طالبہ کاکہناہےکہ رمضان المبارک ہمیں صبر، قربانی، ایثار اور ہمدردی کاپیغام دیتاہے۔ اسی وجہ سے میں نے اسکول کے پرنسپل اور اساتذہ کی درخواست پر اپنے اسکول کی معذور طالبہ کی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔ بحیثیت رائٹر خدمت انجام دینے کے ساتھ مجھے اپنے امتحان کی بھی تیاری کرنی ہے، ساتھ ہی تمام روزے رکھنے کا مصمم ارادہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲): اللہ نے اگر اسی طرح رزق دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہی سہی

چند دنوں سے مہاراشٹر کےدیہی علاقوں میں گرمی بڑھ رہی ہے، ایسے میں دوردرازعلاقوں کے سینٹروں پر جاکر امتحان دینےمیں طلبہ کو دقت ہوسکتی ہے۔ اس بات کاذکر کرتےہوئے رتناگیری کی منال عرفان مقادم نے بتایا کہ میرا سینٹر گھر سے ۹؍ کلو میٹر کی دوری پر لگاہے۔ پہلے دن روزہ رکھ کر جب میں سینٹرپرپہنچی تو میرے ذہن میں ۸۰؍ مارکس کا اُردو کا پورا پرچہ حل کرنے کا جنون سوار تھا۔ ہاتھ میں پیپر آتےہی پہلے اسے پورا پڑھا، جو سوالات آسان تھے، پہلےانہیں حل کیا۔ بعدازیں دیگر سوالات حل کئے۔ پوراپیپر کرنےکےبعد مجھے گرمی کا احساس تو ہوا لیکن پیپر حل کرنےکے دوران بھوک پیاس کاکوئی احساس نہیں ہوا۔ 
اسی طرح جنوبی ممبئی کے ایک اسکول کےکچھ طلباء روزہ رکھ کر سینٹر پر جانے سے پہلے اپنے کلا س ٹیچر سے ملاقات کرنے اسکول پہنچے۔ ان سب نے ٹیچر سےکہا: آپ نےہم پر بڑی محنت کی ہے چنانچہ آپ کی دُعائوں کے ساتھ ہم امتحان دینے کیلئے جاناچاہتےہیں ۔ طلباء کی فرمانبرداری سے ٹیچر کی آنکھیں بھر آئیں ، انہوں نے ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر ان سب کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کے بعد وہ امتحان دینے گئے۔ 
رمضان اور امتحان، طلبہ دونوں کیلئے پُرجوش ہیں۔ وہ بہت کچھ جانتے ہیں مگر شاید یہ بات ذہن میں نہ ہو کہ رمضان کا امتحان عرصۂ دراز تک یاد رہے گا۔ اس کی ایک ایک بات یاد رہے گی ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK