• Sat, 21 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: سپریم کورٹ کے تاریخی ٹیرف فیصلے سے دنیا میں ہلچل، عالمی لیڈران کا ردِعمل

Updated: February 21, 2026, 12:08 PM IST | Washington

امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت کے مطابق صدر نے کانگریس کی منظوری کے بغیر اختیارات سے تجاوز کیا، جس کے بعد اربوں ڈالر کی ممکنہ واپسی کا راستہ کھل گیا۔

Donald Trump. Photo: INN.
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔

ایک تاریخی فیصلے میں، جسے چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا، سپریم کورٹ آف یو ایس نے ڈونالڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت بغیر کانگریس کی واضح منظوری کے محصولات (ٹیرف) لگا کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ جمعہ کو سنائے گئے اس فیصلے میں ان ٹیرف کو کالعدم قرار دیا گیا جو امریکہ کے اتحادی ممالک جیسے کنیڈااور میکسیکو کے ساتھ دنیا کے کئی دیگر ممالک پر بھی عائد کیے گئے تھے، جن میں بڑے تجارتی شراکت دار جیسے چین بھی شامل ہیں۔ اس فیصلے کے مالی اثرات بہت بڑے بتائے جا رہے ہیں۔ ماہرین معاشیات کے مطابق یہ ٹیرف ایک سال سے زیادہ عرصے تک نافذ رہے اور انہوں نے اربوں ڈالر کی آمدنی تو پیدا کی، مگر اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے خوراک، گاڑیوں اور فرنیچر کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ فیصلے کے بعد وہ درآمد کنندگان جنہوں نے یہ محصولات ادا کئے تھے جو اکثر صارفین پر منتقل کر دیئے جاتے تھے اب رقم کی واپسی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ تجارتی اعداد و شمار اور جاری مقدمات کی بنیاد پر یہ رقم۱۵۰؍ ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ 

ٹرمپ کا متبادل منصوبہ
کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر برائے معاشیات ا سکاٹ لنکیکوم نے کہا:’’آج کے سب سے بڑے فاتح وہ چھوٹے کاروبار ہیں جن کے پاس وکلا، لابیسٹ یا بڑی خریداری کی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ ان غیر متوقع نئے ٹیکسوں کا مقابلہ کر سکیں۔ اب حکومت کو چاہئےکہ انہیں عدالتوں میں گھسیٹے بغیر ان کی رقم واپس کرے۔ ‘‘تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ پورے ٹیرف نظام کو ختم کرنے کیلئے ابھی بہت کام باقی ہے، کیونکہ سیکشن ۳۰۱؍ اور ۳۰۲؍ کے تحت لگائے گئے بعض ٹیرف جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر محصولات اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوئے۔ فیصلے کے ردعمل میں ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا۔ وہائٹ ہاؤس میں گورنروں کے ساتھ ایک نجی ناشتے کی میٹنگ کے دوران جب انہیں اس فیصلے کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے بلند آواز میں اسے ’شرمناک‘ قرار دیا اور کچھ دیر بعد کمرہ چھوڑ کر چلے گئے۔ بعد میں وہائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے فیصلے کو ’انتہائی مایوس کن‘ اور’قوم کیلئے شرمناک‘قرار دیا اور بعض ججوں پر تنقید کی جن میں سے کچھ کو انہوں نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں مقرر کیا تھا — کہ انہوں نے’ملک کیلئے درست قدم اٹھانے کی ہمت نہیں دکھائی۔ ‘
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ٹریڈ ایکٹ آف ۱۹۷۴؍ جیسے دیگر اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایک نیا عارضی۱۰؍ فیصد عالمی ٹیرف لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور عدالت کی پابندیوں سے بچنے کیلئے’متبادل راستے‘ اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا:’’اچھی خبر یہ ہے کہ ایسے طریقے، قوانین اور اختیارات موجود ہیں جو IEEPA ٹیرف سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔ ‘‘ان کے مطابق تجارتی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور جو غیر ملکی ممالک اس فیصلے پر خوشی منا رہے ہیں ’زیادہ دیر خوش نہیں رہیں گے۔‘

یہ بھی پڑھئے: فلوریڈا کے ہوائی اڈے کا نام ڈونالڈ ٹرمپ کے نام پر رکھنے کی منظوری

اختیارات کے ناجائز استعمال پر قدغن
ڈیموکریٹ لیڈر نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اسے صدارتی اختیارات کے ناجائز استعمال پر قدغن اور عوام کیلئے ریلیف قرار دیا۔ سینیٹ میں اقلیتی لیڈر چک شومر نے اسے ’ہر امریکی صارف کے بٹوے کی جیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا:’’ٹرمپ کا غیر قانونی ٹیرف اب ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے حکم کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش کی اور اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا۔ اب اس تجارتی جنگ کو ختم ہونا چاہئے۔ ‘‘گیون نیوزوم نے بھی رقم کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا:’’ڈونالڈ ٹرمپ ایک سال سے زائد عرصے سے آپ کی خوراک، فرنیچر اور گاڑیوں پر غیر قانونی ٹیکس لگا رہے تھے۔ اب رقم واپس کرنے کا وقت ہے۔ ‘‘انہوں نے ان ٹیرف کو’غیر قانونی رقم بٹورنے کا طریقہ‘ قرار دیا جس سے قیمتیں بڑھیں اور محنت کش خاندان متاثر ہوئے۔ 
سینیٹر الزبتھ وارن نے بھی اس فیصلے کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا:’’سپریم کورٹ کا کوئی بھی فیصلہ اس نقصان کو ختم نہیں کر سکتا جو ٹرمپ کے بے ترتیب ٹیرف نے پہنچایا۔ امریکی عوام نے یہ قیمت ادا کی ہے اور انہیں اپنی رقم واپس ملنی چاہئے۔ ‘‘دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے بعض سابق اتحادی بھی اس معاملے میں ان سے اختلاف کرتے نظر آئے۔ سابق نائب صدر مائیک پینس نے اس فیصلے کو’عوام، اختیارات کی علاحدگی اور آزاد تجارت کی جیت‘ قرار دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کیلئے ۳۵ ملین ڈالر تک کے سمجھوتے پر اتفاق، رقم ترکہ سے ادا کی جائے گی

امریکی آئین کی جیت
ریپبلکن لیڈروں نے بھی مختلف انداز میں ردعمل دیا۔ ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ ان ٹیرف نے آمدنی پیدا کی اور مذاکرات میں فائدہ دیا، تاہم اب کانگریس اور حکومت آئندہ کا راستہ طے کریں گے۔ ماہرین قانون اور تجزیہ کاروں نے بھی اس فیصلے پر تبصرہ کیا۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی لاء سینٹر کی پروفیسر جینیفر ہل مین نے اسے ’امریکی آئین کی جیت ‘قرار دیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا۔ ڈوگ فورڈ نے اس فیصلے کو ٹیرف کے خلاف جدوجہد میں ایک اہم کامیابی قرار دیا، تاہم کہا کہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ فیصلہ اہم ہے، مگر امریکی حکومت کے پاس تجارت کو محدود کرنےکیلئے اب بھی دوسرے قانونی راستے موجود ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ یورپ کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس فیصلے سے مکمل ریلیف مل جائے گا، کیونکہ مختلف قوانین کے ذریعے اسی طرح کے معاشی اثرات دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا پہلا اجلاس: اربوں ڈالر کےعطیات، سیکوریٹی فورس اور تعمیرِ نو کےمنصوبوں کی منظوری

جیرالڈو الکمن نے کہا کہ اس فیصلے سے امریکہ اور برازیل کے درمیان تجارتی مذاکرات کو تقویت مل سکتی ہے، تاہم بات چیت جاری رہے گی۔ اب جب کہ رقم کی واپسی کے دعوے سامنے آ رہے ہیں اور منڈیاں اس فیصلے کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں، یہ معاملہ امریکہ میں صدارتی اختیارات اور آئینی حدود کے درمیان کشیدگی کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ فی الحال ٹیرف کا یہ تنازع جاری ہے اور ٹرمپ کے ممکنہ جوابی اقدامات اس مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنائے رکھے ہوئے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK