EPAPER
Updated: October 10, 2026, 7:07 PM IST | Mumbai
Charles Richard Drewکی بڑی سائنسی کامیابی خون کے پلازما کو الگ کرکے محفوظ رکھنے کا طریقہ تھا۔
چارلس رچرڈ ڈریو ایک امریکی سرجن اور طبی محقق تھے۔ انہوں نے خون کی منتقلی کے شعبے میں تحقیق کی، خون کو محفوظ رکھنے کے بہتر طریقے وضع کئے اور دوسری جنگِ عظیم کے ابتدائی دور میں بڑے پیمانے پر بلڈ بینک قائم کرنے کیلئے اپنی ماہرانہ معلومات کو بروئے کار لائے۔ اس کی بدولت جنگ کے دوران اتحادی افواج کے ہزاروں فوجیوں کی جانیں بچانے میں طبی عملے کو مدد ملی۔ چارلس کودنیا بھر میں ’’فادر آف بلڈ بینک‘‘ (Father of the Blood Bank) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور پیدائش
ڈاکٹر چارلس رچرڈ ڈریو ۳؍جون۱۹۰۴ء کو واشنگٹن ڈی سی، امریکہ میں ایک متوسط افریقی نژاد امریکی خاندان میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے وہ ذہین، محنتی اور منظم طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے پال لارنس ڈنبر ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی، جو اس دور میں افریقی نژاد امریکی طلبہ کیلئے ایک ممتاز تعلیمی ادارہ تھا۔ نوجوانی میں انہوں نے اخبار بھی تقسیم کئے۔
کھیل اور تعلیم سے وابستگی
چارلس ڈریو کو تعلیم کے ساتھ کھیلوں میں بھی خاص دلچسپی تھی۔ انہوں نے ایمہرسٹ کالج میں تعلیم حاصل کی اور اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر نمایاں مقام بنایا۔ بعد ازاں انہوں نے طب کے شعبے میں جانے کا فیصلہ کیا۔ اس زمانے میں امریکہ میں افریقی نژاد امریکی طلبہ کیلئے طبی تعلیم کے مواقع محدود تھے، چنانچہ ڈریو نے کنیڈا کی میک گل یونیورسٹی کے شعبۂ طب میں داخلہ لیا۔ دورانِ تعلیم خون کی منتقلی اور اس کے تحفظ کے مسائل میں گہری دلچسپی پیدا کی۔ انہوں نے ۱۹۳۳ء میں میڈیکل ڈگری حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے: میکس پیروٹز برطانوی مالیکیولر بایو لوجسٹ تھے
خون اور پلازما پر تحقیق کا آغاز
طبی تربیت کے دوران ڈریو کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول ہوئی کہ خون کو زیادہ عرصے تک محفوظ کیسے رکھا جائے۔ ڈریو نے خون کے مختلف اجزا، خصوصاً پلازما، کے تحفظ اور منتقلی پر تحقیق شروع کی۔
کولمبیا یونیورسٹی اور ’’بینکڈ بلڈ‘‘
۱۹۳۸ء میں ڈریو کو راک فیلر فیلوشپ ملی اور وہ کولمبیا یونیورسٹی کے پریسبیٹیرین اسپتال میں اعلیٰ تحقیق کیلئے گئے۔ وہاں انہوں نے جان اسکیڈر کے ساتھ خون کے تحفظ، خون کی کیمیائی خصوصیات اور منتقلی کے طریقوں پر تحقیق کی۔ ان کی تحقیق کا مرکز یہ سوال تھا کہ خون کے اہم اجزا کو کس طرح الگ کرکے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ اسی تحقیق کا نتیجہ تھا۔ ۱۹۴۰ءمیں انہیں کولمبیا یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف میڈیکل سائنس کی ڈگری ملی اور وہ اس ڈگری کے حصول والے پہلے افریقی نژاد امریکی بنے۔ چارلس نسلی امتیاز کے خلاف بھی آواز اٹھاتے رہے۔
کم عمری میں وفات
چارلس آر ڈریو کی زندگی کا اختتام انتہائی کم عمری میں ہوا۔ یکم اپریل ۱۹۵۰ءکو وہ شمالی کیرولائنا میں ایک کار حادثے کا شکار ہوکر انتقال کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف۴۵؍ سال تھی۔