فلسطینی انتخابات ملتوی ہوگئے، صدر محمود عباس نے قانون ساز ووٹ منسوخ کر دیا،تاہم قومی اتفاق رائے کے بعد فلسطینی انتخابات۲۰۲۷ء تک دوبارہ منعقد کئے جائیں گے۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 9:01 PM IST | Jerusalem
فلسطینی انتخابات ملتوی ہوگئے، صدر محمود عباس نے قانون ساز ووٹ منسوخ کر دیا،تاہم قومی اتفاق رائے کے بعد فلسطینی انتخابات۲۰۲۷ء تک دوبارہ منعقد کئے جائیں گے۔
سرکاری فلسطینی میڈیا کے مطابقفلسطینی صدر محمود عباس نے سنیچر کو حکم نامہ جاری کیا کہ صدارتی اور قانون ساز دونوں انتخابات۱۱؍ ستمبر ۲۰۲۷ء کو منعقد ہوں گے، جس کے بعد طے شدہ قانون ساز انتخابات ملتوی ہو گئے ہیں۔یہ حکم نامہ تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلے اور فلسطینی دھڑوں اور سیاسی گروپوں کے ساتھ مشاورت کے بعد آیا۔عباس کے دفتر نے وفا نیوز ایجنسی کے ذریعہ شائع کردہ بیان میں کہا، ’’عباس نے سنیچر کو ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا جس میں۱۱؍ ستمبر۲۰۲۷ء کو بیک وقت صدارتی اور قانون ساز انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔‘‘وفا کے مطابق، مشاورت میں قومی اتفاق رائے تک پہنچا کہ اسرائیلی اقدامات طے شدہ انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ انہوں نے آزادانہ، منصفانہ اور جامع انتخابات کے لیے مناسب سیاسی، سیکیورٹی اور زمینی حالات قائم کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
یہ بھی پڑھئے: ریاستِ فلسطین نے نوی پلے کو ۲۰۲۶ء کیلئے امن کا نوبیل انعام دیئے جانے کا خیرمقدم کیا
واضح رہے کہ قانون ساز انتخابات، جن کی بین الاقوامی برادری نے بھرپور حمایت کی تھی، اس سال ۲۸؍ نومبر کو ہونے والے تھے، جب کہ صدارتی ووٹ۲۰۲۷ء کے اوائل میں متوقع تھا۔۸۵؍ سالہ عباس نے اس غیر یقینی صورتحال کا الزام اسرائیل پر عائد کیا کہ آیا وہ یروشلم کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں بھی قانون ساز انتخابات کی اجازت دے گا۔یاد رہے کہ یہ فیصلہ اس کے تین ماہ بعد آیا جب اس نے۱۵؍ سالوں میں پہلے قومی انتخابات کا اعلان کیا تھا جسے بڑے پیمانے پر فلسطینی اداروں کی جمہوری قانونی حیثیت پر تنقید کے جواب کے طور پر دیکھا گیا، بشمول ان کی اپنی صدارت۔
یہ بھی پڑھئے: سابق جج کے نوبیل امن انعام جیتنے کے چند گھنٹوں بعد آئی سی سی پر امریکی پابندیاں
مزید برآں جمعہ کی صبح ایک تقریر میں عباس نے یروشلم پر تنازعہ کو بنیادی وجہ قرار دیا۔عباس نے فلسطینی ٹی وی پر تقریر میں کہا، ’’اس مشکل صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے، ہم نے قانون ساز انتخابات کے انعقاد کی تاریخ اس وقت تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا جب تک کہ یروشلم اور اس کے عوام کی شرکت کی ضمانت نہ دی جائے۔یروشلم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور یروشلم میں ہمارے لوگ اپنے جمہوری حقوق کے استعمال کا حق ترک نہیں کریں گے۔‘‘