EPAPER
Updated: October 30, 2026, 5:37 PM IST | Mumbai
Eadweard Muybridgeکی تحقیق نے فن، سائنس اور متحرک تصاویر کی ترقی میں اہم اور نمایاں کردار ادا کیا۔
ایڈورڈ موئبریج انیسویں صدی کے ایک غیر معمولی برطانوی نژاد فوٹوگرافر، موجد اور بصری تجربہ کار تھے، جنہوں نے اپنی منفرد تحقیق کے ذریعے حرکت کو سمجھنے اور دکھانے کے انداز میں انقلاب برپا کیا۔ وہ خاص طور پر گھوڑوں اور دیگر جانوروں کی حرکت کو تیزی سے لی گئی متعدد تصاویر کے ذریعے ریکارڈ کرنے کیلئےمشہور ہیں۔ ان کے تجربات نے یہ واضح کیا کہ انسانی آنکھ جس تیز رفتار حرکت کو مکمل طور پر نہیں دیکھ پاتی، اسے تصاویر کی مدد سے الگ الگ مراحل میں سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کا کام نہ صرف فوٹوگرافی بلکہ سائنسی تحقیق، بصری فنون اور سنیما کی ابتدائی تاریخ میں بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ای ایم فارسٹرممتاز برطانوی ناول نگار اور ادبی نقاد تھے
پیدائش، ابتدائی زندگی اورامریکہ کا سفر
ایڈورڈ موئبریج۹؍ اپریل۱۸۳۰ء کو برطانیہ کے شہر کنگسٹن اپون ٹیمز (Kingston upon Thames) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا بچپن ایسے دور میں گزرا جب فوٹوگرافی ابھی ایک نئی اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی تھی۔ تصاویر بنانے کیلئے پیچیدہ آلات اور کیمیائی طریقوں کی ضرورت پڑتی تھی جبکہ کسی متحرک شے کی تصویر لینا خاص طور پر مشکل تھا۔ موئبریج کی ابتدائی تعلیم اور گھریلو زندگی کے بارے میں تفصیلی معلومات نسبتاً محدود ہیں، تاہم ان کی بعد کی زندگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نئی چیزیں آزمانے، مشاہدہ کرنے اور عملی تجربات کے ذریعے مسائل حل کرنے میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے تھے۔ ۱۸۵۰ء کی دہائی میں موئبریج امریکہ چلے گئے۔ موئبریج نے ابتدائی طور پر کتابوں کی تجارت سے وابستہ ہو کر اپنی عملی زندگی شروع کی۔ بعد میں وہ کیلیفورنیا پہنچے۔ یہاں قیام نے ان کی زندگی کو نیا رخ دیا۔ انہوں نے فوٹوگرافی میں دلچسپی پیدا کی اور رفتہ رفتہ اس شعبے میں اپنی شناخت قائم کرنے لگے۔
فوٹوگرافر کی حیثیت سے شہرت
۱۸۶۰ءکی دہائی میں موئبریج نے فوٹوگرافی کے میدان میں اپنی مہارت کو نمایاں کیا۔ انہوں نے قدرتی مناظر، پہاڑوں، وادیوں، عمارتوں اور امریکی مغرب کے مختلف علاقوں کی تصاویر بنائیں۔
یہ بھی پڑھئے: راگنر فرشچ: معاشیات کے پہلے نوبیل یافتہ
اہم ایجاد ’زوپراکسی اسکوپ‘
موئبریج کی ایک اہم ایجاد زوپراکسی اسکوپ (Zoopraxiscope) تھی۔ یہ ایک ایسا آلہ تھا جس کی مدد سے حرکت کے مختلف مراحل کی تصویروں کو تیزی سے دکھا کر حرکت کا تاثر پیدا کیا جاتا تھا۔ اس مشین نے انہیں اپنی تحقیق کو صرف تصویروں کی شکل میں پیش کرنے کے بجائے متحرک منظر کے طور پر دکھانے کا موقع فراہم کیا۔ زوپراکسی اسکوپ کو تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل ہے، تاہم اسے جدید سنیما کا مکمل متبادل یا فلم پروجیکٹر جیسا آلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ ان ابتدائی تجربات میں سے ایک تھا جنہوں نے آگے چل کر فلمی ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ ہموار کی۔
آخری ایام اور وفات
۸؍ مئی ۱۹۰۴ء کو۷۴؍ برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ انگلستان کے اسی شہر میں وفات پا گئے جہاں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی باقیات کو بعد میں ووکنگ (Woking) میں سپردِ خاک کیا گیا۔