دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے نورا فتحی کو اس معاملے میں استغاثہ کے گواہ کے طور پر پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیا ہے۔ عدالت نے انہیں ۲ ؍نومبر ۲۰۲۶ء کو پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت دی ہے۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 10:03 PM IST | Mumbai
دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے نورا فتحی کو اس معاملے میں استغاثہ کے گواہ کے طور پر پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیا ہے۔ عدالت نے انہیں ۲ ؍نومبر ۲۰۲۶ء کو پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت دی ہے۔
بالی ووڈ اداکارہ اور معروف ڈانسر نورا فتحی ایک بار پھر مبینہ ٹھگ سکیش چندر شیکھر سے جڑے ۲۰۰؍ کروڑ روپے کے جبری وصولی معاملے کے باعث خبروں میں ہیں۔ دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے نورا فتحی کو اس معاملے میں استغاثہ کے گواہ کے طور پر پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیا ہے۔ عدالت نے انہیں ۲ ؍نومبر ۲۰۲۶ء کو پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت دی ہے۔ ان کا نام اس معاملے میں داخل کی گئی تیسری ضمنی چارج شیٹ میں گواہ کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق نورا فتحی کو مقدمے سے متعلق حقائق اور واقعات کے بارے میں اپنا بیان دینا ہوگا۔ ایڈیشنل سیشن جج گگندیپ سنگھ نے ۱۶ اکتوبر کو جاری کیے گئے حکم میں نورا فتحی عرف نورہ فتحی کو تیسری ضمنی چارج شیٹ میں گواہ نمبر ۳ (LW-3) کے طور پر درج کرتے ہوئے ۲ ؍نومبر کو عدالت میں طلب کرنے کی ہدایت دی تھی۔
واضح رہے کہ نورا فتحی کو اس معاملے میں ملزم نہیں بلکہ استغاثہ کی گواہ کے طور پر طلب کیا گیا ہے۔ گواہی کے لیے سمن جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عدالت مقدمے کی کارروائی کے دوران ان کا بیان اور متعلقہ معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ معاملہ دہلی پولیس کی اقتصادی جرائم شاخ میں درج اس شکایت سے شروع ہوا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ سکیش چندر شیکھر نے جیل میں رہتے ہوئے تقریباً ۲۰۰؍ کروڑ روپے کی جبری وصولی اور دھوکہ دہی کی واردات انجام دی۔شکایت فورٹس ہیلتھ کیئر کے سابق پروموٹر شیویندر موہن سنگھ کی اہلیہ ادیتی سنگھ نے درج کرائی تھی۔ الزام کے مطابق سکیش چندر شیکھر نے ۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۱ء کے دوران خود کو اعلیٰ سرکاری عہدیدار ظاہر کرکے ادیتی سنگھ سے رابطہ کیا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ جیل میں بند ان کے شوہر کو رہائی دلانے میں مدد کرسکتا ہے۔ اس وعدے کے بدلے اس نے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی۔
دہلی پولیس کی اقتصادی جرائم شاخ نے اس معاملے کی تحقیقات کرتے ہوئے مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (MCOCA) کے تحت چارج شیٹ داخل کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:شردھا کپور کی فلم ’’ایٹھا‘‘ کا ٹریلر جاری، رندیپ ہڈا بھی نظر آئیں گے
تحقیقات کے دوران نورا فتحی کا نام بھی سکیش چندر شیکھر اور اس کی اہلیہ لینا ماریا پالوس سے مبینہ تعلقات کے حوالے سے سامنے آیا تھا۔ دہلی پولیس کی اقتصادی جرائم شاخ نے ستمبر ۲۰۲۲ء میں نورا فتحی سے کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی تھی۔ نورا نے تفتیش کے دوران بتایا تھا کہ وہ سکیش کی اہلیہ لینا ماریا پالوس کی جانب سے منعقدہ ایک فلاحی تقریب میں شریک ہوئی تھیں۔ ان کے بیان کے مطابق اس تقریب میں انہیں ایک گوچی بیگ اور آئی فون تحفے میں دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کی فون پر سکیش چندر شیکھر سے بات بھی کرائی گئی تھی۔
نورا کے مطابق سکیش نے خود کو ان کا مداح بتایا تھا اور انہیں بی ایم ڈبلیو کار تحفے میں دینے کی پیشکش کی تھی۔ اس کار کے سلسلے میں شیکھر نامی ایک شخص نے ان سے رابطہ کیا تھا، تاہم نورا نے مبینہ طور پر گاڑی لینے سے انکار کردیا اور اپنے رشتہ دار بوبی خان کا رابطہ نمبر دے دیا تھا۔ بعد میں یہ بی ایم ڈبلیو کار بوبی خان کے نام پر رجسٹرڈ پائی گئی تھی۔ پولیس کی پوچھ گچھ میں بوبی نے مبینہ طور پر سکیش سے تقریباً ۶۵؍ لاکھ روپے کی بی ایم ڈبلیو کار ملنے کی بات قبول کی تھی ۔
یہ بھی پڑھئے:’’ایکس مین‘‘ کے اداکار سر پیٹرک اسٹیورٹ ۸۶؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے
سکیش چندر شیکھر کے اس معاملے کی تحقیقات کے دوران بالی ووڈ کی ایک اور اداکارہ جیکلین فرنانڈیز کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ دونوں اداکاراؤں کے نام جنوری ۲۰۲۳ء میں داخل کی گئی ضمنی چارج شیٹ میں گواہوں کے طور پر بھی درج کیے گئے تھے۔تاہم دونوں کے قانونی معاملات کی حیثیت مختلف رہی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے سکیش سے مبینہ طور پر ملنے والے قیمتی تحائف اور منی لانڈرنگ کے معاملے میں جیکولین فرنانڈیز کو ملزم بنایا تھا، جبکہ نورا فتحی کا نام دہلی پولیس کی تیسری ضمنی چارج شیٹ میں استغاثہ کی گواہ کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ نورا نے تحقیقات کے دوران خود کو اس پورے معاملے میں سازش کا شکار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں سکیش کی اصل شناخت اور اس کی مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں کے بارے میں علم نہیں تھا۔ ان کے نمائندوں نے بھی ماضی میں غیر قانونی سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ میں ان کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
اس معاملے کے دوران نورا فتحی نے جیکلین فرنانڈیز اور ۱۵؍ میڈیا اداروں کے خلاف ۲۰۰؍ کروڑ روپے کا ہتک عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔ نورا کا الزام تھا کہ ان کے بارے میں غلط اور توہین آمیز معلومات پھیلائی گئیں، جس سے ان کی ساکھ اور شہرت کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ سکیش چندر شیکھر کے معاملے میں ان کا نام غلط طریقے سے جوڑا گیا ہے۔ اب ۲ ؍نومبر کو راؤز ایونیو عدالت میں نورا فتحی کی پیشی اور گواہی اس ہائی پروفائل معاملے میں اہم پیش رفت سمجھی جارہی ہے۔ عدالت میں ان کے بیان سے سکیش چندر شیکھر کے مبینہ وصولی نیٹ ورک اور اس سے متعلق تحقیقات کے بعض پہلوؤں پر مزید روشنی پڑنے کی توقع ہے۔