Updated: October 30, 2026, 10:02 PM IST
| Tokyo
جاپان کی سومیٹومو فارما نےرعشہ( پارکنسنز) کی بیماری کے لیے دنیا کی پہلی اسٹیم سیل برین سرجری انجام دی، سومیٹومو فارما کے علاج کو مارچ میں جاپانی ریگولیٹرز نے کامیاب کلینیکل ٹرائلز اور مریض کے دماغ میں لاکھوں انڈیوسڈ پلیوری پوٹنٹ اسٹیم (آئی پی ایس) سیلز کی پیوند کاری کے بعد مشروط طور پر منظور کیا تھا، جو کسی بھی قسم کے سیل میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
دنیا کے پہلے طبی سنگ میل میں، جاپان میں ایک مریض کورعشہ( پارکنسنز) کی بیماری کے لیے سومیٹومو فارما کی جدید آئی پی ایس اسٹیم سیل تھراپی ملی ہے۔ایک جاپانی دوا ساز کمپنی نے جمعہ۳۰؍ اکتوبرکو اعلان کیا کہ ایک مریض کو رعشہ( پارکنسنز) کی بیماری کے لیے دنیا کی پہلی اسٹیم سیل تھراپی ملی ہے۔ سومیٹومو فارما کے علاج کو مارچ میں جاپانی ریگولیٹرز نے کامیاب کلینیکل ٹرائلز اور مریض کے دماغ میں لاکھوں انڈیوسڈ پلیوری پوٹنٹ اسٹیم (آئی پی ایس) سیلز کی پیوند کاری کے بعد مشروط طور پر منظور کیا تھا، جو کسی بھی قسم کے سیل میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔کمپنی نے جمعہ کوایک پریس ریلیز میں کہا، ’’پہلی پیوند کاری اکتوبر میں کیوٹو یونیورسٹی اسپتال میں کی گئی۔جبکہ اس نے مزید کوئی تفصیل نہیں دی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ پر مستعفی ہونے والے سابق امریکی حکام کا مطالبہ: صدارتی امیدوار جنگ کےحامیوں کو ملازمت نہ دیں
واضح رہے کہ دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد کو متاثر کرنے والی رعشہ ایک دائمی دماغی بیماری ہے جو حرکت پر قابو پانے کی صلاحیت کو نقصان پہنچاتی ہے اور کپکپاہٹ کا سبب بنتی ہے۔ جہاں موجودہ ادویات صرف علامات کو کنٹرول کرتی ہیں اور بیماری کو سست نہیں کرتیں، وہیں سومیٹومو فارما کا علاج اس کی بنیادی وجہ کو نشانہ بناتا ہے۔ پختہ عطیہ دہندگان کے خلیوں کو لے کر انہیں ورسٹائل آئی پی ایس خلیوں میں تبدیل کر کے، سائنسدان ڈوپامائن پیدا کرنے والے نئے دماغی خلیے اگا سکتے ہیں تاکہ اس بیماری سے تباہ شدہ خلیوں کی جگہ لے سکیں۔ بعد ازاں فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ فی الحال دستیاب علاج بیماری کے بڑھنے کو سست یا روکے بغیر علامات کو بہتر بناتے ہیں۔ سومیٹومو فارما کے علاج میں، صحت مند عطیہ دہندگان کے آئی پی ایس خلیوں کو ڈوپامائن پیدا کرنے والے دماغی خلیوں کے پیش رو خلیوں میں تیار کیا جاتا ہے، جو رعشہ کے مریضوں میں موجود نہیں رہتے۔
کلینیکل ٹرائل میں،۵۰؍ سے ۶۹؍ سال کی عمر کے سات مریضوں میں سے ہر ایک کو دماغ کے دونوں جانب۵۰؍ لاکھ یا ایک کروڑ خلیوں کے امپلانٹس لگائے گئے۔ ان کی دو سال تک نگرانی کی گئی۔ کوئی بڑا منفی اثر نہیں پایا گیا، اور چار مریضوں میں علامات میں بہتری دیکھی گئی۔ سومیٹومو فارما نے جمعہ کو کہا کہ وہ مارچ۲۰۲۹ء تک ۲۰؍ سے۳۰؍ مریضوں کی پیوند کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ساتھ ہی کمپنی امریکہ میں بھی کلینیکل ٹرائل کر رہی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق، اگر اگلے سات سالوں میں اس کی حفاظت اور افادیت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ علاج جاپان میں مکمل منظوری حاصل کر لے گا۔
یہ بھی پڑھئے: سائنسدانوں نے پہلی بار اے آئی سے تیار کردہ وائرس انسانی جسم میں انجیکٹ کیا
ذہن نشین رہے کہ یہ اعلان ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے جب اوساکا کے ایک اسپتال نے دل کے پٹھوں کے آئی پی ایس خلیوں کی شیٹس کا استعمال کرتے ہوئے دنیا کی پہلی سرجری کی تھی جو نئی خون کی نالیاں بنانے اور دل کے افعال کو بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ جاپان نے مارچ میں اس تھراپی کو بھی مشروط منظوری دی تھی۔