پورے جسم کا روزہ

Updated: May 01, 2021, 8:56 PM IST | Hussain Qureshi

امینہ بیگم رمضان کے مہینے اور روزہ کی حالت میں اپنے بچوں کو موبائل گیم کھیلنے سے منع کرتی ہیں۔ امینہ بیگم کے بچے حنا اور حسن کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ موبائل فون پر گیم کھیلنے اور گانے سننے میں کیا برائی ہے۔ امینہ بیگم انہیں روزہ کا اصل معنی سمجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ جانیں مکمل کہانی:

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

بندوق سےگولیاں چلنے کی آواز ٹھے ٹھیں ٹھے ٹھیں.... ٹھے ٹھے ٹھیں.... ٹھے ٹھے ٹھے ٹھیں ٹھیں ٹھاں....!!! کے ساتھ ہی گانے کی آوازوں نے امینہ بیگم کی دوپہر کی نیند میں خلل پیدا کردیا وہ ابھی تو آنکھیں بند کرکے لیٹی تھیں مگر اس شور و غل نے انھیں بیدار کردیا تھا وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھیں۔ وہ ظہر کی نماز پڑھ کر ایک پارہ تلاوت کرکے قیلولہ کررہی تھیں۔ اس آواز سے وہ بیزار ہوگئیں اور فوراً اٹھیں.... دیکھا کہ بڑے کمرے میں حنا اور حَسن موبائل پر گیم کھیلتے ہوئے موسیقی سن رہے ہیں۔ امینہ بیگم نے منہ دھویا اور دونوں کے پاس جاکر بیٹھتے ہوئے پوچھا، ’’تم دونوں کیا کر رہے ہو؟ تم لوگ کہنا نہیں سنتے، بیٹا.... مَیں نے کہا تھا نا.... کہ تھوڑا آرام کرلو۔ دوپہر کا تھوڑا سونا سنت ہے۔ اس سے تمہیں روزہ بھی معلوم نہیں پڑے گا۔ پھر بھی تم دونوں....؟‘‘ 
 ’’ممی! ہمیں نیند نہیں آرہی ہے۔ اس لئے ہم موبائل پر گیم کھیل رہے ہیں۔‘‘ حنا اور حسن نے جواب دیا۔  ’’گیم کے ساتھ گانے بھی سن رہے ہو۔ بیٹا! تم دونوں روزہ دار ہو۔ روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے۔ روزہ ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہےروزہ پورے جسم کا ہوتا ہے۔‘‘ امینہ بیگم نے حسن کے سرپر ہاتھ پھیرتے ہوئے نرم لہجے میں کہا۔ 
 ’’پورے جسم کا روزہ.....مطلب؟ وہ کیسے ممی!‘‘ حنا نے تعجب سے تجسس کےاندازمیں گال پر شہادت کی انگلی اور انگوٹھا رکھتے ہوئے پوچھا۔  ’’دیکھو! بیٹا دونوں غور سے سنو؛ روزہ اپنے اندر اچھے اخلاق پیدا کرنے کا ایک عمدہ اورمؤثر عمل ہے۔ روزہ صرف کھانے پینے سے رکے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ پورے جسم کے اعضاء اس عمل میں شریک ہوتے ہیں بالکل اسی طرح کہ جس طرح ایک کارخانہ میں کوئی مشین اس کے کسی پرزے کے کام نہ کرنے سے صحیح طریقے سے کام نہیں کر سکتی اسی طرح ہمارے جسم کےہر ایک عضو کا روزہ ہوتا ہے اس طرح مجموعی طور روزہ پورے جسم کے روزہ دار ہونےکا نام ہے.... سمجھے‘‘ امینہ بیگم نے بچوں کو سمجھاتے ہوئے کہا۔ 
 ’’ممی! وہ کیسے؟ ہم کوئی غلط کام نہیں کررہے ہیں۔ گیم ہی تو کھیل رہے ہیں!‘‘ حسن نے فوراً جواز پیش کر دیا۔  ’’گیم کھیلنا، موسیقی سننا رمضان کے دنوں میں فضول و غلط کام ہیں ویسے بھی موسیقی اور گانے وغیرہ دین اسلام میں منع ہیں۔ روزہ پورے جسم کا ہوتا ہے آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پیر اور دل و دماغ سب کا روزہ ہوتا ہے۔ موبائل یا ٹی وی پر فلم، گانے، کارٹون وغیرہ غلط چیزوں کو دیکھنے سے بچنے کا مطلب آنکھ کا روزہ ہے۔ کانوں سے گانے، گیت، فلم اور بے ہودہ ڈرامے وغیرہ سننے سے اپنے آپ کو بچانا یعنی.... کان کا روزہ ہے۔ ٹھیک.... اسی طرح گالم گلوج کرنے، بے ہودہ اور غلط باتیں کرنے، جھوٹ بولنا، چغلی کرنا، گیت یا فلمی گانے گانے وغیرہ جیسی باتوں سے زبان کو روکنا.... زبان کا روزہ ہے۔ اسی طرح ہاتھوں و پیروں سے لڑائی وغیرہ کرنا، کسی کی چیز بگاڑ دینا، گندے کھیل کھیلنا یا گندی جگہوں پر جانا ان سب باتوں سےبچنا چاہئے....‘‘ 
 ’’اچھا! ممی یہ بات ہے! اب سمجھ میں آیا....‘‘ دونوں نے ایک آواز میں کہا۔ 
 ’’مگر.... مگر.... ممی! دل و دماغ کا روزہ کیسے رکھتے ہیں؟ یہ مَیں نہیں سمجھ پارہا ہوں۔‘‘ حسن نے سوال پوچھا۔  ’’دیکھو بچو! ہمارے دل و دماغ میں اچھے خیالات ہونا چاہئے۔ جیسے ﷲ کا ذکر، تلاوت، درود و سلام اور نیک اور پاکیزہ خیالات، بڑوں کی عزت اپنے چھوٹوں سے محبت، کسی کا دل نہ دکھانے کی بات، غریب محتاج لوگوں کے ساتھ ہمدردی۔ اس طرح کی پاکیزہ سوچ و خیالات ہی دل و دماغ کا روزہ ہے۔‘‘ 
 حنا نے کہا ’’ہاں! ممی، یہ بات ہوئی.... مطلب ہمیں روزہ رکھنے کے بعد ہمارے جسم کے ہر عضو کا جس طرح آپ نے بتایا روزہ ہونا چاہئے۔ جیسے کانوں سے تلاوت سنو... حمد خدا، نعت رسول، اور حدیث و قرآن کا درس سنو۔ زبان سے تلاوت، ذکر و اذکار، درود شریف اور اچھی اچھی نیک باتیں کرتے رہو۔ ہاتھوں سے قرآن شریف، اور دینی کتابوں کو چھوناپڑھنا، گھر کے کام کاج میں ممی کی مددکرنا چاہئے۔‘‘  امینہ بیگم بچوں کی بات پر مسکراتے ہوئے بولیں ’’ہاں! بالکل انہیں ہی اچھے اخلاق کہتے ہیں۔ اس کی اچھی مشق کرنے کے لئے اﷲ عزوجل نے ہمیں یہ ماہِ رمضان المبارک عطا کیا ہے۔ جو لوگ.... اچھے اخلاق پیدا کرلیتے ہیں انہیں سب لوگ پسند کرتے ہیں ان سے اﷲ بھی راضی اور خوش ہوتے ہیں۔ جو اﷲ تعالیٰ سے قربت دلاتا ہے۔‘‘  ’’جی... ممی! یہ لیجئے موبائل فون آپ اسے الماری میں رکھ دیجئے۔ اب آج سےہم پورے جسم کا روزہ رکھیں گے۔‘‘ امینہ بیگم نے بچوں کو پیار کرتے ہوئے اﷲ سےدعا کی کہ یا اﷲ.... ان بچوں کے اخلاق بلند کر ان کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق دے ان کو زندگی میں کامیابی اور خوشیاں دے۔ افطار کا وقت نزدیک آرہا تھا اس کی تیاری کے لئے وہ باورچی خانہ میں چلی گئیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK