Updated: March 14, 2026, 6:00 PM IST
| Washington
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں فوجی کارروائیوں اور اسٹریٹجک حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق جنگ کے ابتدائی پندرہ دنوں میں امریکہ کو تقریباً چار بلین ڈالر کا فوجی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب میں امریکی فضائیہ کے پانچ ایندھن بھرنے والے طیارے مار گرائے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران کے اہم تیل مرکز خارک جزیرے پر بمباری کی جس کے بعد ایران نے امریکہ سے منسلک تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی حملوں سے اسرائیل میں ہونے والی تباہی کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
(۱) ایران جنگ کے پہلے پندرہ دن میں امریکہ کو تقریباً ۴؍ بلین ڈالر کا فوجی نقصان
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے ابتدائی پندرہ دنوں میں امریکی فوج کو تقریباً چار بلین ڈالر کا فوجی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس نقصان میں تباہ ہونے والے فوجی سازوسامان، میزائل دفاعی نظام، فضائی کارروائیوں کے اخراجات اور دیگر عسکری سرگرمیوں کے اخراجات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگی کارروائیوں میں صرف ہتھیاروں کی تباہی ہی نہیں بلکہ آپریشنل اخراجات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک دفاعی ماہر کے مطابق ’’موجودہ جنگ میں ہر روز ہونے والی فضائی کارروائیاں اور میزائل حملے اربوں ڈالر کے اخراجات کا سبب بن سکتے ہیں۔‘‘ امریکی حکام نے اس حوالے سے تفصیلی تبصرہ نہیں کیا، تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگی کارروائیوں کے باعث فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے مالی اثرات نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی عالمی توانائی اور تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل۔ ایران جنگ کے دو ہفتے مکمل، لڑائی جاری
(۲) ایران نے سعودی عرب میں امریکی فضائیہ کے پانچ ایندھن بھرنے والے طیارے مار گرائے
رپورٹس کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب میں موجود امریکی فضائیہ کے پانچ ایندھن بھرنے والے طیاروں کو نشانہ بنا کر مار گرایا ہے۔ یہ طیارے فضائی آپریشنز کے دوران جنگی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو اسے جنگ میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جائے گا کیونکہ ایسے طیارے فضائی کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ’’ایندھن فراہم کرنے والے طیارے فضائی جنگ کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے طیارے طویل فاصلے تک کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔‘‘ امریکی حکام نے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم بعض میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حملے کے بعد خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ بھی پرھئے: امریکی فوجی طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ، کشیدگی میں اضافہ
(۳) امریکہ نے ایران کے تیل کے مرکز خارک جزیرے پر بمباری کی
امریکہ نے ایران کے اہم تیل مرکز خارک جزیرے پر فضائی حملہ کیا ہے جو ایران کی تیل برآمدات کیلئے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس حملے کے بعد ایران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ سے منسلک تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق خارک جزیرہ ایران کی معیشت کیلئے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں سے ملک کی بڑی مقدار میں تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ’’اگر ہماری توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ہم بھی دشمن کے اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے اقدامات کریں گے۔‘‘