ڈراؤنی فلم دیکھتے یا موسیقی سنتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، کیوں؟

Updated: March 20, 2020, 3:16 PM IST | Mumbai

اکثر کسی منظر، فلم کا سین، کوئی انوکھی یا ڈراؤنی بات سنتے ہوئے، کتاب پڑھتے ہوئے اور نغمہ یا موسیقی سنتے ہوئے جلد میں حرکت محسوس ہوتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ؟ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا ہونے کی کیا وجہ ہے؟

For Representation Purpose Only.
علامتی تصویر۔

اکثر کسی منظر، فلم کا سین، کوئی انوکھی یا ڈراؤنی بات سنتے ہوئے، کتاب پڑھتے ہوئے اور نغمہ یا موسیقی سنتے ہوئے جلد میں حرکت محسوس ہوتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ؟ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا ہونے کی کیا وجہ ہے؟انسانی جسم کا نظام کافی پیچیدہ ہے جس کو سمجھنا ہمارے لئے کافی ہے۔ اکثر افراد جسم کے دفاعی میکنزم کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں ، جیسے کہ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ انگڑائی یا جمائی لینے کا در اصل مقصد کیا ہے۔ یہ دفاعی نظام پیدائش کے بعد سے انسان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جب موسم ٹھنڈا ہوتا ہے تو جسم رونگٹے کھڑے کرکے جسم سے حرارت کے اخراج کی شرح کو کم کردیتا ہے، اس طرح سرد موسم میں گرم رہنا آسان ہوجاتا ہے۔
 اسی طرح جب انسان شدید جذباتی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے، تب انسانی جسم کئی طرح سے رد عمل کا اظہار کرتا ہے جیسے کہ کھال کے نیچے پٹھوں میں برقی حرکت ہونا اور جسم کا ٹھنڈا پڑ جانا۔ دونوں ہی صورتوں میں جسم کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ان عوامل سے جسم گرم ہو جاتا ہے ۔ 
 ایک دوسری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رونگٹے کھڑے ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آپ صحت مند اور خوش باش زندگی گزار رہے ہیں ۔ ہارورڈ یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رونگٹے کھڑے ہونے کا تجربہ کسی فرد کی صحت اور شخصیت کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔
 محققین نے دریافت کیا کہ جن لوگوں کو اس کا تجربہ ہوتا ہے ان کا دیگر افراد سے تعلق مضبوط ہوتا ہے، وہ تعلیمی میدان میں کامیابیاں حاصل کرتے ہیں جبکہ دیگر کے مقابلے میں ان کی صحت بھی زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران ۱۰۰؍ رضاکاروں پر مختلف تجربات کئے گئے۔ اس دوران انہیں ایک مانیٹرنگ ڈیوائس پہنائی گئی۔ محققین نے موسیقی پر رضاکاروں کے نفسیاتی ردعمل کا تجزیہ کیا جبکہ ان کے دیگر ٹیسٹ بھی کئے گئے تاکہ تعین کیا جاسکے کہ کب ان کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں ۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ۵۵؍ فیصد خواتین اور ۴۵؍  فیصد مردوں کو اس کا تجربہ ہوا اور یہ ایسے افراد تھے جن کا اپنے رشتے داروں سے تعلق مضبوط اور صحت اچھی تھی۔ محققین کا کہنا تھا کہ رونگٹے کھڑے ہونے کا تجربہ ان افراد کو ہوتا ہے جن کا مزاج مثبت جبکہ جسمانی ساخت اچھی ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیق سے رونگٹے کھڑے ہونے کی وجہ جاننے میں مدد ملی اور معلوم ہوا کہ مختلف شخصی عادات اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK