EPAPER
Updated: July 23, 2026, 12:06 PM IST | New Delhi
دہلی کے جنتر منتر میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے لوگ آن لائن کھانا بھیج کر مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں سویگی اور زومیٹو کے ڈیلیوری رائیڈرز بھی اس منفرد سلسلے کا اہم حصہ بن گئے ہیں۔ رائیڈرز کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کی جانب سے بھیجے گئے کھانے کے پیکٹ ضرورت مندوں تک پہنچاتے ہوئے انہیں محض اپنی ملازمت نہیں بلکہ ایک انسانی خدمت انجام دینے کا احساس ہوا۔
دہلی کے جنتر منتر میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران صرف مظاہرین ہی نہیں بلکہ آن لائن فوڈ ڈیلیوری کرنے والے رائیڈرز بھی اس تحریک کی ایک غیر متوقع مگر اہم کڑی بن گئے ہیں۔ روزانہ درجنوں رائیڈرز ٹریفک، پولیس کی ناکہ بندیوں اور بندشوں کے باوجود احتجاجی مقام تک کھانے کے پیکٹ پہنچا رہے ہیں، جنہیں ملک اور بیرونِ ملک میں موجود ایسے افراد نے آرڈر کیا ہے جو خود احتجاج میں شریک نہیں ہو سکتے لیکن مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کرنا چاہتے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جنتر منتر کے قریب جن پتھ پر گزشتہ چند دنوں سے سویگی اور زومیٹو کے درجنوں ڈیلیوری پارٹنرز مسلسل آتے رہے۔ ان کے ذریعے برگر، پیزا، چھولے بھٹورے، مکمل کھانے، ٹاکوز، ٹھنڈے مشروبات اور دیگر اشیائے خور و نوش احتجاجی مقام تک پہنچائی گئیں۔ کئی مرتبہ یہ کھانا صرف مظاہرین ہی نہیں بلکہ وہاں موجود رضاکاروں اور ضرورت مند افراد میں بھی تقسیم کیا گیا۔
Somebody cracked the code of making more crowd available at the Jantar Mantar protest.
— The Bong Head (@TheBongHead) July 23, 2026
People from middle east, kerala, etc ordering food on swiggy. pic.twitter.com/74xo7QGbrW
سویگی کے ۳۸؍ سالہ ڈیلیوری پارٹنر ویرندر نے بتایا کہ وہ گزشتہ تین روز سے مسلسل اس مقام پر آرڈر پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حیدرآباد میں موجود ایک گاہک نے انہیں پیغام بھیجا کہ ’’بیٹا، اسی آرڈر میں سے اپنا دوپہر کا کھانا بھی کھا لینا اور اپنا خیال رکھنا۔‘‘ ویرندر نے بتایا کہ انہیں امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک سے بھی ایسے آرڈرز موصول ہوئے جن میں صرف کھانا ہی نہیں بلکہ مظاہرین اور ڈیلیوری پارٹنرز کیلئے حوصلہ افزا پیغامات بھی درج تھے۔ اسی طرح ۲۰؍ سالہ ڈیلیوری پارٹنر روشن نے بتایا کہ جب انہیں پہلی مرتبہ جنتر منتر کیلئے آرڈر ملا تو انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہاں جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ تاہم جب وہ موقع پر پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ کھانا کسی مخصوص شخص کیلئے نہیں بلکہ جسے ضرورت ہو اسے دینا ہے۔ روشن کے الفاظ میں ’’مجھے احتجاج کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں، لیکن یہ کام کرنا مجھے درست لگا۔‘‘
Heartwarming scene at #JantarMantar. ❤🥲
— Gobinath (@Itsme_Gobinath) July 22, 2026
Several anonymous supporters send Food to students present at Jantar Mantar through Swiggy and Zomato.#Delhi #CJP #CJPProtest pic.twitter.com/8wMkwyA41K
رپورٹ کے مطابق متعدد آرڈرز میں گاہکوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی بلکہ صرف اتنی ہدایت دی کہ کھانا ’’جو بھوکا ہو اسے دے دیا جائے۔‘‘ اس منفرد طرزِ تعاون نے ڈیلیوری رائیڈرز کو بھی محض سامان پہنچانے والے کارکنوں کے بجائے انسان دوستی اور سماجی یکجہتی کے پیغام رساں بنا دیا۔ احتجاج کے دوران آن لائن کھانے اور ضروری سامان کی اتنی بڑی تعداد پہنچنے لگی کہ بعض اوقات منتظمین کو سوشل میڈیا پر اپیل کرنا پڑی کہ فی الحال مزید کھانا نہ بھیجا جائے تاکہ کسی قسم کا ضیاع نہ ہو۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ ڈجیٹل پلیٹ فارمز نے دور بیٹھے افراد کو بھی زمینی سطح پر جاری سماجی تحریکوں سے جوڑنے کا ایک نیا ذریعہ فراہم کیا ہے۔