• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ٹرمپ کی تصویر والے سکےکی چو طرفہ مذمت، سوشل میڈیا پر ٹرول، اسے ’’آزادی کی موت‘‘ قرار دیاگیا

Updated: September 04, 2026, 9:03 PM IST | Washington

ٹرمپ امریکی کرنسی پر نمودار ہونے والے دوسرے برسرِ اقتدار صدر بن گئے ہیں۔ ملک کی ۲۵۰ ویں سالگرہ کے موقع پر امریکی ٹکسال کے ذریعے جاری کئے گئے اس سکے پر ٹرمپ کے چہرے کے اوپر لفظ ”LIBERTY“ (آزادی) لکھا ہے جس کے ساتھ ایک ڈیش کے ذریعے جڑے سال ۱۷۷۶ء اور ۲۰۲۶ء درج ہیں۔ اس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ آزادی کی پیدائش اور موت کی تاریخوں کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی مِنٹ (ٹکسال) نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تصویر والے ایک ڈالر کے ”سونے“ کے سکوں کی فروخت شروع کر دی ہے۔ اس طرح ٹرمپ امریکی کرنسی پر نمودار ہونے والے دوسرے برسرِ اقتدار صدر بن گئے ہیں۔ ملک کی ۲۵۰ ویں سالگرہ کے موقع پر تیار کئے گئے اس سکے پر ٹرمپ کے چہرے کے اوپر لفظ ”LIBERTY“ (آزادی) لکھا ہے جس کے ساتھ ایک ڈیش کے ذریعے جڑے سال ۱۷۷۶ء اور ۲۰۲۶ء درج ہیں۔ اس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ آزادی کی پیدائش اور موت کی تاریخوں کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اقتصادیات کے میدان کی معروف مصنفہ کیتھرین رمپیل نے اس ڈیزائن تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیزائن ”آزادی کی تاریخِ پیدائش ۱۷۷۶ء اور اس کی تاریخِ وفات ۲۰۲۶ء ظاہر کرتا ہے۔“ محکمہ خزانہ ان سکوں کو ان کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ پر فروخت کر رہا ہے، جن کے رولز اور تھوک تھیلوں کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ ایران جنگ ختم کرنے کیلئے صلاح مشورہ کر رہے ہیں؟

سکے کو قانونی مخالفت کا سامنا

ڈیموکریٹک قانون سازوں اور کرنسی ڈیزائن کا جائزہ لینے والی ایک دو طرفہ کمیٹی نے اس سکے کی پہلی تجویز پر ہی اعتراض کیا تھا اور دلیل دی تھی کہ کسی برسرِ اقتدار صدر کو سکے پر پیش کرنا جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی تو ہے ہی، ساتھ میں یہ اس وفاقی قانون کی بھی خلاف ورزی ہو سکتی ہے جس کے تحت سکوں پر تصاویر کو صرف متوفی افراد تک محدود کیا گیا ہے۔ 

منٹ کے حکام کا مؤقف ہے کہ سالگرہ کی تھیم والے ایک ڈالر کے سکوں کی اجازت دینے والا ۲۰۲۰ء کے قانون یہ ڈیزائن تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے دستخط کردہ ۲۰۲۱ء کے ایک ایکٹ کی طرف اشارہ کیا جو صرف سکے کی پشت پر زندہ شخصیات کو دکھانے سے روکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ۱۹۲۶ء میں سکے پر کیلوِن کولج کے نمودار ہونے کی نظیر بھی موجود ہے۔ ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کو سکے پر آنے سے واضح طور پر روکنے کیلئے قانون سازی متعارف کرائی تھی، جس پر سینیٹر جیف مرکلی نے اس اقدام کو آمرانہ اطوار سے تشبیہ دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا دعویٰ: ’’خوش ہوں‘‘ کہ پرنس ہیری، میگھن امریکہ چھوڑ کر برطانیہ گئے

تازہ سکہ، ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ

یہ سکہ ٹرمپ کی جانب سے وفاقی اداروں پر اپنا نام اور تصویر چسپاں کرنے کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جس میں سرکاری عمارتوں پر بینرز، نئے ڈیزائن کردہ ”پیٹریاٹ پاسپورٹ“، ٹرمپ کے برانڈ والی پالیسیاں مثلاً TrumpRx اور ٹرمپ گولڈ کارڈ، اور ٹرمپ کلاس کے جنگی جہازوں سمیت فوجی منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں کینیڈی سینٹر کا نام تبدیل کرنے، وائٹ ہاؤس کے احاطے کی ازسرِ نو تزئین اور ایک نئے بال روم کمپلیکس کے لیے ایسٹ ونگ کو مسمار کرنے کے معاملے پر بھی مسلسل قانونی جنگوں کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK