مددگار لکڑہارا اور پَری

Updated: November 28, 2020, 3:08 AM IST | Patel Quresha Talha | Mumbai

ایک گاؤں میں ایک لکڑہارا رہتا تھا۔ وہ بہت غریب تھا۔ بہت مشکل سے کسی طرح اس کا اور اس کی بیوی کا گزارہ ہوتا تھا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایک گاؤں میں ایک لکڑہارا رہتا تھا۔ وہ بہت غریب تھا۔ بہت مشکل سے کسی طرح اس کا اور اس کی بیوی کا گزارہ ہوتا تھا۔ لکڑہارا اور اس کی بیوی دونوں بہت ہی صابر اور شکر گزار تھے۔ جو بھی ان کے پاس تھا وہ اس میں خوش رہتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے۔لکڑہارے کا ایک بھائی تھا، جو بہت امیر تھا۔ اس کے گھر میں کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہ تھی۔ لکڑہارا جب بھی اس سے مدد مانگنے کے لئے جاتا وہ اس کی غریبی کا مذاق اڑاتا اور اسے طعنے دیتا۔ لیکن لکڑہارا چپ رہتا اور کوئی جواب نہ دیتا۔ایک روز لکڑہارا لکڑیاں کاٹنے کے لئے جنگل جا رہا تھا۔ راستے میں اسے ایک زخمی کتا دکھائی دیا جو شاید پیاسا تھا لیکن زخمی ہونے کی وجہ سے چل نہیں پا رہا تھا۔ لکڑ ہارا اس کے پاس گیا، اس نے اس کا زخم ایک کپڑے سے صاف کیا اور اپنے لوٹے سے اسے پانی پلایا۔ اور وہ آگے بڑھا ہی تھا کہ اس کے سامنے پری اترآئی۔ لکڑہارا پری کو دیکھ کر ڈر گیا۔پری نے کہا، ’’تمہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تم نے تو اس کتے کی مدد کی ہے۔ کافی دیر سے وہ کتا زخمی بیٹھا ہوا تھا، بہت سارے لوگ یہاں سے گزرے، لیکن کسی نے بھی اس کی مدد نہیں کی، تم نے اس کی مدد کی، یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی۔ اس لئے میں تمہیں انعام دینا چاہتی ہوں ۔‘‘ یہ کہہ کر پری نے بہت سارے سونے کے سکے لکڑہارے کو دیئے اور غائب ہو گئی۔ 
لکڑ ہارا بہت خوش ہوا، اس نے ان سکوں کا صحیح استعمال کیا۔ لکڑہارے نے ایک اچھا سا کاروبار شروع کیا جس میں اسے بہت فائدہ ہوا۔ چند مہینوں میں لکڑہارے کا نام بھی گاؤں کے امیر لوگوں میں لیا جانے لگا۔ لکڑہارا اور اس کی بیوی بہت خوش تھے۔ کچھ برس بعد لکڑہارے کے بھائی کا کاروبار ڈوب گیا۔ وہ اور اس کی بیوی سڑک پر آ گئے۔ اس کی بیوی نے اسے لکڑہارے سے مدد مانگنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا ’’مَیں کس طرح اس سے مدد مانگوں ، مَیں اس کے سامنے جانے کے لائق نہیں ہوں ....‘‘ لیکن اس کے علاوہ ان لوگوں کے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ وہ دونوں لکڑہارے کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ لکڑہارے کی بیوی نے دروازہ کھولا، ان دونوں کو دیکھ کر اسے بڑی حیرت ہوئی۔ اس نے اپنے شوہر کو آواز دی۔ لکڑہارے نے اپنے بھائی اور بھابھی کو اندر بٹھایا اور یہاں آنے کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے سارا ماجرا لکڑہارے کو سنایا یا لکڑہارے کو بہت دکھ ہوا۔ ’’ہم دونوں بہت شرمندہ ہیں ۔‘‘ لکڑہارے کے بھائی اور بھابھی نے کہا۔لکڑہارے نے ان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور بہت سارے پیسے دیئے۔ انہوں نے لکڑہارے کے سامنے یہ عہد کیا کہ اب وہ ہمیشہ ہر کسی کی مدد کریں گے۔سبق: ہر حال میں ہر کسی کی مدد کرنی چاہئے چاہے وہ ہمارا دوست ہو یا پھر دشمن۔
مومن گرلز ہائی اسکول، بھیونڈی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK