ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ گرین لینڈ میں امریکی پرچم لہراتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ قریب ہی ایک بورڈ پر لکھا ہے: ”گرین لینڈ، امریکی علاقہ، قائم شدہ ۲۰۲۶ء۔“
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 7:01 PM IST | Washington/Brussels
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ گرین لینڈ میں امریکی پرچم لہراتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ قریب ہی ایک بورڈ پر لکھا ہے: ”گرین لینڈ، امریکی علاقہ، قائم شدہ ۲۰۲۶ء۔“
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو بتایا کہ ان کی نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُوٹے کے ساتھ گرین لینڈ مسئلہ پر ”انتہائی اچھی“ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا: ”میں نے ڈیووس، سوئٹزرلینڈ میں مختلف فریقین کے اجلاس پر اتفاق کیا ہے۔ میں نے سب پر واضح کر دیا ہے، گرین لینڈ قومی اور عالمی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ اس بات پر سب متفق ہیں!“
بعد ازاں، صدر نے بظاہر مارک رُوٹے کی طرف سے ٹرمپ کو بھیجا گیا ٹیکسٹ میسیج کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔ اسکرین شاٹ کے مطابق رُوٹے نے پیغام میں کہا: ”جناب صدر، پیارے ڈونالڈ۔ آپ نے آج شام میں جو کچھ حاصل کیا وہ ناقابلِ یقین ہے۔ میں ڈیووس میں میڈیا کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران شام، غزہ اور یوکرین میں آپ کے کام کو اجاگر کروں گا۔ میں گرین لینڈ پر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنے کیلئے پرعزم ہوں۔ آپ سے ملنے کا انتظار رہے گا۔ آپ کا، مارک۔“ ٹرمپ نے اس تصویر کے کیپشن میں لکھا: ”نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُوٹے کا شکریہ!“
ٹرمپ گزشتہ کئی دنوں سے زور دے رہے ہیں کہ امریکہ کو قومی سلامتی اور آرکٹک میں حریفوں کو روکنے کیلئے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا چاہئے۔ انہوں نے ان یورپی اتحادیوں پر ٹیرف لگانے کی دھمکی بھی دی ہے جو گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس علاقے میں تھوڑی تعداد میں فوجی روانہ کرچکے ہیں۔ تاہم، ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں نے اس جزیرے کو فروخت کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔
ٹرمپ کا ناروے کو دھمکی آمیز پیغام
ناروے کے وزیر اعظم جوناس گہر اسٹور نے تصدیق کی کہ انہیں امریکی صدر کی جانب سے دھمکی آمیز ٹیکسٹ میسج موصول ہوا ہے، جس میں صدر نے امن کا نوبیل انعام نہ ملنے کا شکوہ کیا اور اشارہ دیا کہ اس ”توہین“ نے عالمی امور اور اتحادوں کے بارے میں ان کے ”پرامن“ نقطہ نظر کو بدل دیا ہے۔ اسٹور نے بتایا کہ یہ پیغام انہیں براہِ راست بھیجا گیا تھا اور یہ ناروے اور فن لینڈ کی جانب سے واشنگٹن کی ان ٹیرف دھمکیوں کی مخالفت کے بعد آیا جو گرین لینڈ سے منسلک ہیں۔
ناروے کے وزیر اعظم کو بھیجے گئے پیغام میں ٹرمپ نے کہا: ”۸ سے زیادہ جنگی روکنے کے باوجود آپ کے ملک نے مجھے نوبیل امن انعام نہ دینے کا فیصلہ کیا، اب میں خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند محسوس نہیں کرتا، اگرچہ یہ ہمیشہ غالب رہے گا، لیکن اب میں اس بارے میں سوچ سکتا ہوں کہ امریکہ کیلئے کیا بہتر اور مناسب ہے۔“ اپنے پیغام میں ٹرمپ نے یہ الزام بھی دہرایا کہ ڈنمارک روس یا چین سے گرین لینڈ کا تحفظ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے گرین لینڈ پر ڈنمارک کے دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے سوال کیا کہ ”...ویسے بھی ان کا ’ملکیت کا حق‘ کیوں ہے؟ کوئی تحریری دستاویزات موجود نہیں ہیں، بس یہ ہے کہ سیکڑوں سال پہلے ایک کشتی وہاں لنگر انداز ہوئی تھی، لیکن ہماری کشتیاں بھی تو وہاں لنگر انداز ہوئی تھیں۔“
جواب میں ناروے کے وزیر اعظم نے ٹرمپ پر واضح کیا کہ نوبل امن انعام دینے میں ناروے کی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ اسٹور نے بتایا کہ انہوں نے ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ نوبیل انعام دینے میں ناروے کی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”میں نے واضح طور پر صدر ٹرمپ کو بھی وہی سمجھایا ہے جو سب جانتے ہیں، یہ انعام ایک آزاد نوبل کمیٹی دیتی ہے، ناروے کی حکومت نہیں۔“ اسٹور نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کا پیغام ان کے اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کی طرف سے بھیجے گئے ایک مشترکہ نوٹ کے جواب میں آیا، جس میں انہوں نے ناروے، فن لینڈ اور دیگر یورپی ممالک پر ٹیرف میں اضافے کی مخالفت کی تھی۔ اسٹور کے مطابق، ٹرمپ نے تھوڑی دیر بعد جواب دیا اور بعد میں اپنا پیغام دیگر نیٹو لیڈران کے ساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسٹور نے ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے موقف کو بھی سختی سے مسترد کر دیا اور جزیرے پر ڈنمارک کی خودمختاری کیلئے ناروے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آرکٹک میں سیکیورٹی کو یکطرفہ کارروائی کے بجائے نیٹو کے ذریعے سنبھالا جانا چاہئے۔
ناروے کے وزیراعظم کو ٹرمپ کے میسج پر روس اور چین کا شدید ردِعمل
گرین لینڈ حاصل کرنے کی ٹرمپ کی مہم کے درمیان، روس اور چین نے پیر کو امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ روس نے کہا کہ اگر ایسا قدم اٹھایا گیا تو ٹرمپ ”تاریخ میں رقم“ ہو جائیں گے۔ دوسری طرف بیجنگ نے ان پر اپنے مفادات کیلئے ”نام نہاد چینی خطرے“ کو استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ یہ ردِعمل ٹرمپ کی جانب سے ناروے کے وزیر اعظم کو بھیجے گئے ایک غیر معمولی ٹیکسٹ میسج کے بعد سامنے آیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیا کون نے کہا کہ امریکہ کو اپنے اقدامات کے جواز کے طور پر چین کے خطرے کا حوالہ دینا بند کرنا چاہئے۔ گو نے کہا کہ ”ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے خود غرضانہ مفادات کے حصول کیلئے چین کی طرف سے نام نہاد خطرے کو بہانے کے طور پر استعمال کرنا بند کرے۔“
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ گرین لینڈ کے الحاق کا مسئلہ حل کرنا ٹرمپ کو ایک تاریخی شخصیت بنا دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جائزے سے اختلاف کرنا مشکل ہے، تاہم انہوں نے اس پر تبصرہ نہیں کیا کہ آیا ایسا اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوگا یا نہیں۔
تناؤ کے درمیان امریکہ نے طیارے تعینات کر دیئے
نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (نو اے آر اے ڈی) کے مطابق، امریکی فوج نے گرین لینڈ کے ’پٹوفک اسپیس بیس‘ (Pituffik Space Base) پر طیارے روانہ کئے ہیں۔ امریکہ اور کنیڈا کی مشترکہ دفاعی تنظیم نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ”نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ کے طیارے جلد ہی پٹوفک اسپیس بیس، گرین لینڈ پہنچیں گے۔“ نو اے آر اے ڈی کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی طویل مدتی منصوبہ بند سرگرمیوں کا حصہ ہے جو امریکہ، کنیڈا اور ڈنمارک کے درمیان دفاعی تعاون پر مبنی ہے۔ کمانڈ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ گرین لینڈ کو منصوبہ بند آپریشنز کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے اور یہ طیارے شمالی امریکہ کے دفاع کٹ معمول کے مختلف آپریشنز میں مدد کریں گے۔
پٹوفک اسپیس بیس، جسے پہلے ’تھول ایئر فورس بیس‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، شمال مغربی گرین لینڈ میں امریکی فوجی اڈے اور مواصلاتی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے اور یہاں میزائل وارننگ سسٹم بھی موجود ہے۔ گرین لینڈ اپنی اسٹریٹجک آرکٹک لوکیشن، معدنی وسائل اور روس و چین کی موجودگی کے خدشات کی وجہ سے ٹرمپ کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ٹرمپ نے کنیڈا اور گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ دکھانے والا نیا نقشہ شیئر کیا؛ میلونی اور میکرون تماشائی
صدر ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں امریکہ کے ایک نئے نقشے میں گرین لینڈ اور کنیڈا کو اس کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ پوسٹ میں ٹرمپ کو اوول آفس کے اندر بیٹھا دکھایا گیا ہے، جبکہ ان کے ساتھ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین سمیت دیگر نیٹو لیڈران موجود ہیں۔
ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ گرین لینڈ میں امریکی پرچم لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ قریب ہی ایک بورڈ پر لکھا ہے: "گرین لینڈ، امریکی علاقہ، قائم شدہ ۲۰۲۶ء"۔
ناروے نے شہریوں کو جنگی حالات میں جائیدادوں پر قبضے کے بارے میں خبردار کر دیا
نارویجین حکومت نے اپنے شہریوں کو جنگی حالات میں نجی جائیدادوں، جیسے مکانات، گاڑیاں، کشتیاں اور مشینری پر سرکاری قبضے کے متعلق الرٹ کر دیا ہے۔ آرکٹک کا خطہ امریکہ، روس اور چین جیسی عالمی طاقتوں کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی جنگ کا مرکز بن کر ابھرا ہے جس کے بعد ناروے نے شہریوں کو تقریباً ۱۳ ہزار ۵۰۰ پیشگی نوٹس بھیجے ہیں۔ یہ نوٹس ۱۹ جنوری کو بھیجے گئے ہیں اور ایک سال کیلئے فعال رہیں گے۔ بھیجے گئے خطوط میں سے ایک تہائی نئی درخواستیں تھیں، جبکہ دو تہائی گزشتہ سال کے نوٹس تھے۔ فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ ”ان نوٹسز کا مقصد جنگی صورتحال میں مسلح افواج کو ملک کے دفاع کیلئے ضروری وسائل تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔“
روس اپنے جغرافیے کی بدولت آرکٹک کا سب سے بڑا ملک ہے اور خطہ میں اس کے ۲ⁿ لاکھ لوگ آباد ہیں۔ آرکٹک میں روس کی پہلے سے ہی بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی ہے۔ آرکٹک کے ساحل کا تقریباً ۵۳ فیصد حصہ روس کی ملکیت ہے۔ چین بھی ”قریبی آرکٹک کی قریبی ریاست“ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ روس نے اپنے میگا ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے ”آئس سلک روڈ“ (Ice Silk Road) یا پولر سلک روڈ کے ذریعے چین کو سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی ہے۔ نیٹو کے چار دفاعی ماہرین، جن میں امریکی سدرن کمانڈ کے سابق سربراہ گلین وان ہرک بھی شامل ہیں، نے کہا ہے کہ نیٹو ریاستوں کو روس کا مقابلہ کرنے کیلئے مزید ایک دہائی درکار ہوگی۔
ناروے کی سرحد کے قریب واقع ’کولا‘ (Kola) تنصیب دنیا میں ایٹمی وار ہیڈز کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ ناروے کی وزارتِ دفاع کے ٹور سینڈوِک نے بتایا کہ ”ایٹمی ہتھیار ناروے ہی نہیں، بلکہ برطانیہ کی طرف اور قطب کے اوپر سے کینیڈا اور امریکہ کی طرف بھی تنے ہوئے ہیں۔“