EPAPER
Updated: August 21, 2026, 7:00 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
فرانس کے معروف ادیب انتونی دی سینتگزیوپیری کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی لٹل پرنس‘‘ The Little Prince کا اردو ترجمہ۔
جب مَیں چھ سال کا تھا، تب ایک تصویر نے میری پوری دنیا بدل دی تھی۔ وہ تصویر جنگلوں اور دور دراز علاقوں سے متعلق ایک کتاب میں تھی جس کے ایک صفحے پر بہت بڑا اژدہا تھا۔ اس نے ایک جانور کو پوری طرح نگل لیا تھا۔ کتاب میں لکھا تھا کہ بعض اژدہے اپنے شکار کو چبائے بغیر نگل لیتے ہیں اور پھر چھ ماہ تک سوئے رہتے ہیں تاکہ اسے ہضم کر سکیں۔ یہ بات مجھے بہت دلچسپ لگی۔ میں نے فوراً ایک کاغذ لیا اور اپنی زندگی کی پہلی تصویر بنائی۔
وہ ایک اژدہا تھا جس کے پیٹ میں ایک ہاتھی تھا، کم از کم میرے خیال میں تو وہ اژدہا ہی تھا مگر بڑوں نے کہا، ’’یہ ٹوپی ہے۔‘‘ مجھے حیرت ہوئی کہ انہیں اژدہا ٹوپی کیوں نظر آ رہا ہے۔ میں نے دوسری تصویر بنائی جس میں اژدہے کے اندر کا منظر بھی دکھایا تاکہ سب کو سمجھ آ جائے کہ اندر ہاتھی ہے مگر بڑوں نے کہا، ’’ڈرائنگ چھوڑو اور جغرافیہ، حساب اور تاریخ پڑھو۔‘‘ اس دن مجھے احساس ہوا کہ بڑے لوگ چیزوں کو دیکھنے کے بجائے ان کی وضاحت زیادہ کرتے ہیں۔ مَیں نے تصویریں بنانا چھوڑ دیں۔
وقت گزرتا گیا اور میں بڑا ہوگیا۔ مَیں نے پائلٹ بننے کا فیصلہ کیا کیونکہ زمین کی بہ نسبت آسمان زیادہ آزاد محسوس ہوتا تھا۔ مَیں مختلف ملکوں پر سے گزرا، سمندروں کو پار کیا، پہاڑوں کے اوپر اڑا اور دنیا کے کئی لوگوں سے ملا لیکن ایک عجیب بات ہمیشہ ساتھ رہی۔ مَیں کسی نئے شخص کو اپنی پہلی تصویر دکھاتا تھا۔ اگر وہ بھی اسے ٹوپی سمجھتا تو میں فوراً سمجھ جاتا کہ اس سے خوابوں یا عجیب سوالوں پر بات نہیں کی جا سکتی۔ یوں زندگی چلتی رہی، اور لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی میں خود کو تنہا محسوس کرتا رہا۔
ایک دن مَیں صحرا پر پرواز کر رہا تھا کہ جہاز میں خرابی ہوئی۔ پہلے ہلکی سی آواز آئی، پھر انجن لرزنے لگا اور چند ہی لمحوں میں مجھے اندازہ ہوگیا کہ اگر فوراً لینڈنگ نہ کی تو شاید زندہ نہ بچ سکوں۔ بڑی مشکل سے جہاز کو نیچے اتارا اور تپتے صحرا میں تنہا رہ گیا۔ پورا دن جہاز کی خرابی سمجھنے میں نکل گیا۔ سورج سر پر آگ کی طرح جل رہا تھا اور ریت آنکھوں کو چکاچوند کر رہی تھی۔ شام تک مَیں تھک چکا تھا۔ رات آئی تو صحرا بدل گیا۔ دن میں جو جگہ بے رحم تھی، اب پراسرار لگ رہی تھی۔ آسمان تاروں سے بھر گیا، اور مَیں ریت پر لیٹ کر انہیں دیکھتے دیکھتے سو گیا۔
اگلی صبح ایک نرم مگر انتہائی سنجیدہ آواز نے مجھے جگایا: ’’براہِ کرم! میرے لئے ایک بھیڑ بنا دیجیے۔‘‘ مَیں اٹھ بیٹھا، لگا خواب دیکھ رہا ہوں کیونکہ سامنے ایک بچہ تھا جو صحرا میں کسی اجنبی سے ملنے کو معمولی بات سمجھ رہا تھا۔ اس کے بال سنہری تھے اور آنکھوں میں ایسی سنجیدگی جو بچوں میں کم ہی نظر آتی ہے۔ اس نے بھیڑ بنانے کا تقاضا پھر کیا۔ مَیں مصور نہیں تھا۔ چھ سال کی عمر کے بعد کبھی تصویر نہیں بنائی تھی۔ پھر بھی مَیں نے کاغذ اور قلم نکالا اور ایک بھیڑ بنائی۔ اس نے تصویر دیکھی اور کہا، ’’نہیں۔ یہ بہت بیمار لگ رہی ہے۔‘‘
مَیں نے دوسری تصویر بنائی۔
’’یہ مینڈھا ہے۔ اسکے سینگ ہیں۔‘‘
تیسری تصویر پر اس نے کہا، ’’یہ بوڑھی ہے۔ مجھے کافی عرصے تک زندہ رہنے والی بھیڑ چاہئے۔‘‘ آخر مَیں نےا یک ڈبہ بنا یا، صرف ایک مستطیل اور اس میں چند سوراخ۔
’’اس ڈبےمیں بھیڑ ہے۔‘‘ مجھے لگا وہ ناراض ہوگا مگر وہ خوش ہوگیا۔
’’بالکل ایسی ہی بھیڑ مجھے چاہئے تھی!‘‘
مَیں حیران رہ گیا۔ پہلی مرتبہ کسی نے میری تصویر میں وہ چیز دیکھی تھی جو کاغذ پر بنی ہی نہیں تھی۔ پہلی بار کسی نےتخیل کو تصویر سے زیادہ اہم سمجھا تھا۔ کچھ دیر بعد لڑکا فکر مند ہوگیا۔’’کیا یہ بہت زیادہ گھاس کھائے گی؟‘‘
’’کیوں؟‘‘ ’’کیونکہ میرے گھر میں جگہ کم ہے۔‘‘ مَیں مسکرایا۔ ’’فکر مت کرو۔ یہ بھیڑ بہت چھوٹی ہے۔‘‘ وہ مطمئن ہوگیا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ بچہ دنیا کو مختلف انداز سے دیکھتا ہے۔
اگلے چند دنوں میں، جب مَیں جہاز کی مرمت کرتا رہا، وہ پاس بیٹھا رہتا۔ کبھی سوال پوچھتا، کبھی خاموشی سے آسمان دیکھتا اور کبھی اپنے بھیڑ والے ڈبے کو یوں دیکھتا جیسے واقعی اس کے اندر کوئی جانور ہو۔ عجیب بات یہ تھی کہ وہ کبھی اپنے بارے میں براہِ راست بات نہیں کرتا تھا۔ مجھے اس کے سوالوں سے ہی اس کی دنیا کے بارے میں اندازہ لگانا پڑا۔
اس نے پوچھا، ’’کیا بھیڑ چھوٹے پودے کھا سکتی ہے؟‘‘ ’’ہاں، یقیناً۔‘‘
وہ خوش ہوکر بولا، ’’میرے سیارے پر ایک مسئلہ ہے۔‘‘ یہ پہلا موقع تھا جب اس نے اپنے سیارے کا ذکر کیا۔ مَیں چونک پڑا، ’’تمہارے سیارے پر؟‘‘
اس نے ایسے سر ہلایا جیسے یہ معمولی بات ہو۔ آہستہ آہستہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ واقعی کسی دوسرے سیارے سے آیا تھا، یا کم از کم وہ ایسا ہی سمجھتا تھا۔ اس کا سیارہ اتنا چھوٹا تھا کہ ایک گھر سے زیادہ بڑا نہیں تھا۔ اگر کوئی چند قدم چل لے تو تقریباً پورا چکر لگا سکتا تھا۔ پہلے تو لگا وہ مذاق کر رہا ہے مگر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر یقین ہوگیا کہ وہ سچ بول رہا ہے۔
اس کے سیارے پر تین چھوٹے آتش فشاں تھے، دو فعال اور ایک خاموش۔ ہر صبح وہ انہیں صاف کرتا تھا، بالکل اسی طرح جیسے کوئی شخص چولہا صاف کرتا ہے۔ ’’اگر آتش فشاں صاف رکھے جائیں تو وہ آرام سے جلتے رہتے ہیں،‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔
پھر اس نے باباب کے درختوں کا ذکر کیا۔ یہ میرے لئے نیا نام تھا۔ اس نے بتایا کہ ان کے بیج ہر جگہ ہوتے ہیں اور اگر وقت پر نہ نکالے جائیں تو بڑے درخت بن جاتے ہیں، اتنے بڑے کہ پورا سیارہ پھاڑ سکتے ہیں۔ وہ یہ بات اس قدر سنجیدگی سے کر رہا تھا کہ مَیںہنس نہ سکا۔’’جب تم صبح تازہ دم ہو جاؤ تو باباب کے پودے بھی نکال دو۔‘‘
مَیں اسے دیکھتا رہا۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ صرف درختوں کی بات نہیں کر رہا ہے۔ شاید ہر انسان کے دل میں بھی کچھ باباب ہوتے ہیں؛ بری عادتیں، تکبر اور نفرتیں، جو ابتدا میں معمولی لگتی ہیں اور اگر وقت پر نہ روکی جائیں تو پورا دل گھیر لیتی ہیں۔ اس وقت یہ بات پوری طرح نہیں سمجھ آئی لیکن بعد میں بہت کچھ واضح ہوا۔ شام کو وہ اکثر غروبِ آفتاب دیکھتا تھا۔ ایک شام اس نے کہا، ’’ایک دن میں نے ۴۳؍ غروبِ آفتاب دیکھے تھے۔‘‘
مَیں حیران رہ گیا۔ اس نے بتایا، ’’جب سیارہ بہت چھوٹا ہو تو یہ آسان ہوتا ہے۔ بس کرسی کو تھوڑا سا کھسکاؤ اور سورج دوبارہ ڈوبتا ہوا نظر آ جاتا ہے۔‘‘ پھر وہ خاموش ہوگیا۔ کافی دیر بعد اس نے کہا، ’’جب انسان اداس ہو تو غروبِ آفتاب اچھے لگتے ہیں۔‘‘ مجھے لگا کہ اس ننھے شہزادے کے دل میں کوئی ایسی اداسی ہے جس کے متعلق اس نے کچھ نہیں بتایا تھا۔
آہستہ آہستہ ننھا شہزادہ اپنے سیارے کے بارے میں مزید باتیں کرنے لگا۔ ایک صبح اس نے بتایا، ’’میرے سیارے پر ایک پھول تھا۔ پہلے ایک بیج آیا، بالکل معمولی۔ مجھے لگا شاید یہ بھی کسی اور جھاڑی کی طرح نکلے گا مگر وہ مختلف تھا۔ اس نے اپنے آپ کو آہستہ آہستہ بنایا۔ پہلے پتیاں نکلیں، پھر کلی بنی جو کئی دن بند رہی، جیسے وہ فیصلہ کر رہی ہو کہ دنیا کے سامنے کس شکل میں آئے۔ پھر ایک صبح وہ کھل گئی۔‘‘ ننھے شہزادے نے بتایا کہ اس نے اپنی زندگی میں اتنا حسین پھول نہیں دیکھا تھا۔ اس کی پنکھڑیاں نرم، رنگ روشن اور انداز میں ایک عجیب سا غرور تھا، جیسے جانتا ہو کہ وہ غیر معمولی ہے۔
’’اوہ!‘‘ پھول نے پہلی صبح انگڑائی لیتے ہوئے کہا تھا، ’’میں ابھی پوری طرح تیار نہیں ہوں۔‘‘ ننھا شہزادہ یہ یاد کرکے ہنس پڑا۔ پھول کبھی ٹھنڈ کی شکایت کرتا، کبھی ہوا سے ڈرتا، کبھی اپنی خوبصورتی اور نازکی کا ذکر کرتا اور کبھی ایسے بات کرتا جیسے پوری کائنات اسی کے گرد گھومتی ہو۔ ننھا شہزادہ صبح اسے پانی دیتا، شام کو شیشے کا غلاف رکھتا، کیڑوں کو دور کرتا اور اس کی ہر ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتا۔ مگر وہ بہت چھوٹا تھا اور محبت و غرور کے درمیان فرق نہیں سمجھتا تھا۔
’’مجھے اس کی باتوں پر نہیں جانا چاہئے تھا، مجھے اس کے عمل دیکھنے چاہئے تھے،‘‘ اس نے صحرا میں کہا۔ ’’وہ بہت باتیں کرتا تھا اور میں ان پر یقین کر لیتا تھا۔‘‘ کبھی پھول اپنے کانٹوں پر فخر کرتا، کبھی کھانسی کا بہانہ بنا کر اسے پریشان کرتا، اور کبھی اپنی اہمیت جتاتا۔ ننھا شہزادہ اس سے اپنی محبت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ آخر ایک صبح اس نے فیصلہ کیا کہ وہ سفر پر جائے گا، دوسرے سیارے دیکھے گا، دنیا کو سمجھے گا اور شاید خود کو بھی۔
روانگی سے پہلے اس نے آتش فشاں صاف کئے، باباب کے پودے نکالے اور اپنے چھوٹے سے سیارے کی صفائی کی۔ پھر پھول سے کہا، ’’الوداع!‘‘ پھول نے کھانستے ہوئے کہا، ’’مجھے معاف کر دو۔ مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ۔ مَیں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ ننھا شہزادہ حیران رہ گیا مگر اس نے جانے کا فیصلہ کرلیا تھا اس لئے خاموشی سے مڑ گیا۔
ننھا شہزادہ گلاب کو اپنی محبت میں روتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا تھا، اس لئے خاموشی سے مڑ گیا۔ اس نے آخری بار غروبِ آفتاب دیکھا اور پھر پرندوں کے ایک جھنڈ کے ساتھ ننھے شہزادے کا سفر شروع ہوگیا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا ڈھونڈ رہا ہے؛ شاید علم، تجربہ، اپنے گلاب کو سمجھنے کا راستہ یا اپنے دل کی الجھنوں سے کچھ دیر کی دوری۔ ایک کے بعد ایک چھوٹے سیاروں پر پہنچتے ہوئے اسے ایسے لوگ ملے جنہوں نے اسے انسانی فطرت کے مختلف پہلو دکھائے۔
پہلے سیارے پر ایک بادشاہ تھا جس کا سیارہ تقریباً ایک تخت کے برابر تھا مگر وہ ایسے حکم چلاتا جیسے پوری کائنات اس کی سلطنت ہو۔ اس نے ننھے شہزادے کو رعایا قرار دیا۔ وہ ایسا بادشاہ تھا کہ سورج کو غروب ہونے کا حکم اسی وقت دیتا جب سورج معمول کے مطابق غروب ہی ہونے والا ہوتا۔ ننھے شہزادے نے سوچا کہ اس شخص کو طاقت سے زیادہ طاقت کے خیال سے محبت ہے۔
دوسرے سیارے پر ایک خود پسند آدمی تھا جو صرف تعریفیں سننا چاہتا تھا۔ تیسرے پر ایک تاجر ستاروں کو گن کر اپنا سمجھتا تھا مگر ان کا خیال رکھنے سے اسے کوئی غرض نہ تھی۔ ننھے شہزادے کو اپنے گلاب کا خیال آیا۔ وہ بھی اس کا تھا مگر اس لئے کہ وہ اسے پانی دیتا، اس کی حفاظت کرتا اور اس کی باتیں سنتا تھا۔ تب اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ محبت صرف ملکیت نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔
چوتھے سیارے پر ایک چراغ جلانے والا رہتا تھا جس کا سیارہ اس تیزی سے گھومتا کہ ہر منٹ ایک دن بن جاتا، اور اسے ہر منٹ چراغ جلانا اور بجھانا پڑتا۔ ننھا شہزادہ اسے باقی لوگوں سے بہتر سمجھتا تھا کیونکہ وہ کم از کم اپنے علاوہ کسی اور چیز کی ذمہ داری نبھا رہا تھا۔ وہ وہاں رہنا چاہتا تھا تاکہ بار بار غروبِ آفتاب دیکھ سکے مگر سیارہ اتنا چھوٹا تھا کہ دو لوگوں کیلئے جگہ نہ تھی۔
اس کہانی کا پہلا حصہ تعلیمی انقلاب میں شائع ہوا ہے۔ دوسرا حصہ یہاں سے شروع ہوتا ہے:
چھٹے سیارے پر ایک بوڑھا جغرافیہ داں تھا جو پہاڑوں، دریاؤں اور سمندروں کا ریکارڈ رکھتا تھا مگر خود کہیں سفر نہیں کرتا تھا جب ننھے شہزادے نے اپنے تین آتش فشاں اور گلاب کا ذکر کیا تو جغرافیہ داں نے پوچھا، ’’تمہارا گلاب دائمی ہے یا عارضی؟‘‘ یہ سوال ننھے شہزادے کے دل میں اتر گیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کا گلاب نازک اور اکیلا ہے اور وہ اس سے بہت دور ہے۔ جغرافیہ داں نے اسے زمین کا سفر کرنے کا مشورہ دیا۔
زمین پر ننھے شہزادے نے پہاڑ، ریگستان، پھول، سانپ اور انسان دیکھے مگر دنیا کی وسعت کے باوجود اسے عجیب سی تنہائی محسوس ہوئی۔ پھر وہ ایک ایسے باغ میں پہنچا جہاں ہزاروں گلاب تھے۔ اس کا دل بیٹھ گیا کیونکہ اس کے گلاب نے یقین دلایا تھا کہ پوری کائنات میں اس جیسا کوئی نہیں۔ ہزاروں گلاب دیکھ کر اسے لگا کہ اس کا پھول بھی عام تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اسی وقت اسے ایک لومڑی ملی۔ ننھے شہزادے نے اسے ساتھ کھیلنے کی دعوت دی لیکن لومڑی نے کہا، ’’میں مانوس نہیں کی گئی۔‘‘
جب شہزادے نے اس لفظ کا مطلب پوچھا تو لومڑی نے یوں سمجھایا، ’’مانوس کرنے کا مطلب ہے رشتہ بنانا۔‘‘ ابھی وہ دونوں ایک دوسرے کیلئے عام تھے لیکن اگر وہ ایک دوسرے کو وقت دیں تو دنیا میں ایک دوسرے کیلئے منفرد ہوجائیں گے۔ اب ننھا شہزادہ روزانہ لومڑی سے ملنے لگا۔ پہلے کچھ فاصلے پر بیٹھتا، پھر آہستہ آہستہ قریب ہونے لگا۔ لومڑی نے اسے بتایا کہ رسمیں ضروری ہیں کیونکہ کسی مقرر وقت پر کسی کا انتظار کرنا خوشی کو پہلے ہی جنم دے دیتا ہے۔ یوں دونوں ایکدوسرے کے عادی، پھر ایکدوسرے کیلئے اہم ہوگئے۔ آخر وہ وقت آیا جب شہزادے کو آگے جانا تھا۔’’تو اب میں روؤں گی‘‘، لومڑی نے کہا۔ ننھے شہزادے کو دکھ ہوا۔ ’’پھر تو تمہیں مانوس کرنا نقصان کا سودا ہوا۔‘‘ لومڑی نے سنہرے گندم کے کھیتوں کی طرف دیکھا۔ پہلے وہ کھیت اس کیلئے بے معنی تھے مگر اب ننھے شہزادے کے سنہری بال اسے ہمیشہ اس کی یاد دلائیں گے۔ رخصت ہوتے وقت لومڑی نے اسے ایک راز بتایا: ’’اصل چیزیں آنکھوں سے نظر نہیں آتیں۔ دل سے دیکھنا پڑتا ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا، ’’تم ہمیشہ اس چیز کے ذمہ دار ہو جاتے ہو جسے تم مانوس کرتے ہو۔‘‘ اسی لمحے ننھے شہزادے کو اپنے گلاب کی حقیقت سمجھ آگئی۔ وہ اسلئے خاص نہیں تھا کہ دنیا میں صرف وہی ایک گلاب تھا بلکہ اس لئے خاص تھا کہ ننھے شہزادے نے اسے وقت دیا تھا، پانی دیا تھا، اس کی حفاظت کی تھی، اس کی باتیں سنی تھیں، اس کی ضدیں برداشت کی تھیں اور اس سے محبت کی تھی۔ اب اس کا دل اپنے سیارے کی طرف واپس کھنچنے لگا۔
ادھر صحرا میں ہمارے ساتھ گزرنے والے دن بھی ختم ہونے لگے تھے۔ جہاز کی مرمت کے ساتھ میرا زیادہ وقت ننھے شہزادے کے ساتھ گزرتا۔ اس کی موجودگی نے صحرا کی تنہائی بدل دی تھی۔ جو جگہ پہلے بے جان اور بے رحم محسوس ہوتی تھی، اب مجھے ایک ایسی کتاب لگتی تھی جس کے ہر صفحے پر کوئی نیا راز چھپا ہو۔ مگر ننھا شہزادہ دن بہ دن خاموش ہوتا گیا۔ وہ اکثر آسمان کو دیکھتا، کبھی مسکراتا اور کبھی ایسی اداسی میں ڈوب جاتا جیسے بہت دور کسی ایسی جگہ چلا گیا ہو جہاں مَیں اس کے ساتھ نہیں جا سکتا۔
ایک شام اس نے کہا، ’’جانتے ہو صحرا حسین کیوں؟ کیونکہ اس کے اندر کہیں ایک کنواں چھپا ہوتا ہے۔‘‘ پھر ستاروں کو دیکھتے ہوئے بولا، ’’بعض اوقات اہم چیزیں نظر نہیں آتیں لیکن وہ موجود ہوتی ہیں۔‘‘
اگلی صبح ہمارا پانی تقریباً ختم ہوچکا تھا۔ مَیں پریشان ہوگیا لیکن ننھے شہزادے نے سادگی سے کہا، ’’چلو کنواں ڈھونڈتے ہیں۔‘‘ ہم پورا دن ریت پر چلتے رہے۔ وہ کبھی کبھی بڑے لوگوں کے بارے میں بات کرتا اور کہتا کہ لوگ تیز رفتار ریل گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں لیکن اکثر انہیں خود نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کہاں جانا چاہتے ہیں۔ رات کو ہمیں صحرا کے بیچ ایک کنواں مل گیا۔ وہاں گاؤں تھا نہ آبادی مگر لکڑی کی چرخی، رسی اور بالٹی سب تھا۔ وہ صرف پانی نہیں تھا؛ اس میں ہمارے سفر کی تھکن، انتظار، ستاروں بھری رات اور دو دوستوں کی خاموش رفاقت شامل تھی۔ اسی لئے وہ دنیا کے ہر مشروب سے زیادہ میٹھا تھا۔
اس رات اس نے بتایا کہ اگلے دن اسے زمین پر آئے ایک سال ہوجائیگا اور اس کا ستارہ بھی قریب ہوگا۔ اب مجھے بہت سی باتیں سمجھنے لگی تھیں۔ وہ یہاں اتفاقاً نہیں آیا تھا۔ وہ اپنے گلاب، آتش فشاں اور ننھے سیارے پر واپس جانا چاہتا تھا۔ اگلے دن مَیں نے اسے ایک پرانی پتھریلی دیوار کے پاس ایک زرد سانپ سے باتیں کرتے دیکھا۔ جب مَیں نے اس کے متعلق دریافت کیا تو وہ مسکرا کر خاموش ہوگیا۔ مَیں سمجھ گیا کہ ننھا شہزادہ مجھ سے کچھ چھپا رہا ہے۔
اس رات میں سو نہ سکا۔ جہاز تقریباً ٹھیک ہوچکا تھا لیکن اب میری فکر جہاز نہیں، ننھا شہزادہ تھا۔ اگلی شام وہ پاس آیا۔ ستارے آسمان پر ایک ایک کرکے نمودار ہو رہے تھے۔ ’’لوگوں کیلئے ستارے ایک جیسے نہیں ہوتے،‘‘ اس نے کہا، ’’مسافروں کیلئے وہ راستہ ہیں، کچھ لوگوں کیلئے صرف روشنیاں، سائنسدانوں کیلئے مسئلہ اور تاجروں کیلئے دولت۔ مگر تمہارے لئے وہ کچھ اور بن جائیں گے۔‘‘’’کیوں؟‘‘
اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’کیونکہ میں ان میں سے ایک ستارے پر رہوں گا۔‘‘
میرے سینے میں درد اٹھا۔ اب مجھے معلوم تھا کہ وہ جانے والا ہے۔ ’’نہیں، ایسی بات مت کرو‘‘، مَیں نے کہا۔ وہ ہنسا۔ ’’تم نہیں سمجھو گے۔ میرا جسم بہت بھاری ہے۔ مَیں اپنے ستارے تک اسے ساتھ نہیں لے جا سکتا۔‘‘مجھے سانپ یاد آگیا۔
’’نہیں! یہ مت کرنا!‘‘
اس کی آنکھوں میں اداسی تھی، خوف نہیں۔
’’میرا گلاب تنہا ہے‘‘، اس نے سرگوشی کی۔
تب مَیں سمجھ گیا کہ وہ اپنے گلاب کے پاس جانا چاہتا ہے، اس پھول کے پاس جسے وہ کبھی پوری طرح سمجھ نہیں سکا تھا لیکن جس سے محبت کرنا کبھی نہیں چھوڑا تھا۔ رات گہری ہوگئی۔ صحرا خاموش تھا۔ پھر ریت میں ہلکی سی حرکت ہوئی اور وہی زرد سانپ ہمارے سامنے تھا۔ ننھے شہزادے نے مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔’’تم نے میرے لئے بھیڑ بنائی تھی، اور اس کیلئے ڈبہ بھی۔‘‘
مَیں کچھ نہ بول سکا۔ ’’بس ایک بات یاد رکھنا۔ جو چیزیں سب سے اہم ہوتی ہیں، وہ نظر نہیں آتیں۔‘‘
پھر وہ ایک قدم آگے بڑھا۔ سانپ نے جنبش کی اور اگلے ہی لمحے سب کچھ ختم ہوگیا۔ کوئی چیخ نہیں، کوئی شور نہیں، صرف ایک مختصر سا لمحہ۔ ننھا شہزادہ چند لمحے ساکت کھڑا رہا، پھر آہستہ سے زمین پر گرا۔ جیسے کوئی درخت نہیں، جیسے کوئی پرندہ۔ صحرا پھر خاموش ہوگیا۔
مَیں نہیں جانتا اس کے بعد مَیں وہاں کتنی دیر بیٹھا رہا۔ اگلی صبح جب سورج نکلا تو ننھا شہزادہ وہاں نہیں تھا۔ نہ کوئی جسم، نہ کوئی نشان، صرف ریت اور آسمان۔ اور اسی وجہ سے مَیں آج تک یقین کرتا ہوں کہ وہ واقعی اپنے سیارے پر لوٹ گیا۔
کئی سال گزر چکے ہیں۔ مَیں شہر شہر بھٹکتا ہوں، لوگوں سے ملتا ہوں اور زندگی گزارتا ہوں لیکن رات میں جب بھی آسمان کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہ یاد آجاتا ہے۔ دوسرے لوگوں کیلئے ستارے خاموش ہیں، میرے لئے نہیں۔ میرے لئے وہ ہنستے ہیں کیونکہ ان میں سے کسی ایک پر ننھا شہزادہ موجود ہے۔ کبھی کبھی مَیں سوچتا ہوں کہ کیا اس کی بھیڑ نے اس کے گلاب کو کھا لیا ہوگا؟ اگر ایسا ہوا تو پوری کائنات بدل جائے گی۔ اور اگر نہیں ہوا تو سب کچھ اب بھی خوبصورت ہے۔ شاید یہی زندگی کا راز ہے۔ ہم سب اپنے اپنے ستاروں، محبتوں اور یادوں کے ساتھ جیتے ہیں، اور آخرکار ہمیں یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ جو لوگ واقعی ہمارے دل میں بس جاتے ہیں، وہ کبھی مکمل طور پر رخصت نہیں ہوتے۔ اس لئے اگر کبھی رات میں تم آسمان کی طرف دیکھو اور تمہیں لگے کہ ستارے ہنس رہے ہیں تو حیران مت ہونا۔ شاید کسی دور افتادہ ستارے پر ایک سنہری بالوں والا ننھا شہزادہ اب بھی اپنے گلاب کی دیکھ بھال کر رہا ہو۔ اور شاید وہ تمہیں بھی سلام کہہ رہا ہو۔