Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کی بھینس کے گوشت کی برآمدات ۵ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں

Updated: August 20, 2026, 10:13 PM IST | New Delhi

ہندوستان نے ۲۶-۲۰۲۵ء میں ۰۶ء۴ ارب ڈالر مالیت کے ۵۵ء۱۲ لاکھ ٹن بھینس کے گوشت کی مصنوعات برآمد کی تھیں۔ یہ تیزی موجودہ مالی سال میں بھی جاری رہی، جہاں اپریل تا جون ۲۰۲۶ء کے دوران برآمدات تقریباً ۵ء۱ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران ۸ء۸۹۶ ملین ڈالر کی برآمدات کے مقابلے، اس سال ۶ء۶۶ فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ وزارتِ تجارت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہندوستان نے پہلی بار ۵ ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کیا ہے اور اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو ۲۷-۲۰۲۶ء میں برآمدات ۶ ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

نئی برآمدی منڈیوں، فی ٹن بہتر قیمتوں، ایپیڈا (APEDA) کے نافذ کردہ کوالٹی معیارات اور ریٹیل کے پھیلاؤ کے باعث، ہندوستان کی بھینس کے گوشت کی برآمدات مالی سال ۲۶-۲۰۲۵ء میں تقریباً ۱ء۵ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ہیں۔ اس میں سال بہ سال ۶ء۲۵ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بین ایپیڈا کے اعداد و شمار کے مطابق، الاقوامی سطح پر ”کیرا بیف“ (carabeef) کے نام سے معروف بھینس کا گوشت اب ہندوستان کی جانوروں سے حاصل کردہ مجموعی مصنوعات کی برآمدات کا تقریباً ۴ء۷۹ فیصد بنتا ہے۔

ہندوستان نے ۲۶-۲۰۲۵ء میں ۰۶ء۴ ارب ڈالر مالیت کے ۵۵ء۱۲ لاکھ ٹن بھینس کے گوشت کی مصنوعات برآمد کی تھیں۔ یہ تیزی موجودہ مالی سال میں بھی جاری رہی، جہاں اپریل تا جون ۲۰۲۶ء کے دوران برآمدات تقریباً ۵ء۱ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران ۸ء۸۹۶ ملین ڈالر کی برآمدات کے مقابلے، اس سال ۶ء۶۶ فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ وزارتِ تجارت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہندوستان نے پہلی بار ۵ ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کیا ہے اور اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو ۲۷-۲۰۲۶ء میں برآمدات ۶ ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بھارت ٹیکسی کو چھ ماہ مکمل؛ ٹیکسی ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ بکنگز بدستور کم ہیں

برآمدات کی مقدار کے علاوہ، فی ٹن برآمدی قیمت میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ۲۴-۲۰۲۳ء میں اس کی فی ٹن قیمت تقریباً ۲۷۰۰ سے ۳۰۰۰ ڈالر تھی جو بڑھ کر ۲۶-۲۰۲۵ء میں ۳۵۹۱ ڈالر اور اپریل تا جون ۲۰۲۶ء میں مزید بڑھ کر ۴۳۹۲ ڈالر ہو گئی، یہ اضافہ مصنوعات کے بہتر معیار، پروسیسنگ کے معیارات اور منڈیوں تک رسائی کی عکاسی کرتا ہے۔ برآمد کنندگان کی انجمنوں کے مطابق، ہندوستانی بھینس کے گوشت اور برازیلین بیف کے درمیان قیمت کا فرق تقریباً ۲۰۰۰ ڈالر فی ٹن سے کم ہو کر محض ۵۰۰ سے ۷۰۰ ڈالر رہ گیا ہے۔

ہندوستان کے بھینس کے گوشت کی برآمدی منڈیوں میں بھی نمایاں تنوع آیا ہے۔ ۱۵-۲۰۱۴ء میں ویتنام کا برآمدات میں حصہ ۴۵ فیصد تھا، لیکن اب مصر، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ازبکستان، انڈونیشیا اور عراق جیسے بڑے خریداروں کی موجودگی میں ویتنام کا حصہ کم ہوگیا ہے، جبکہ روس، اردن، جارجیا، عمان اور فلپائن میں نئی ابھرتی ہوئی منڈیاں سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فضائی مسافروں کی تعداد جولائی میں کم ہو کر ۴۴؍ مہینے کی نچلی سطح پر

واضح رہے کہ ہندوستانی قوانین کے تحت صرف بغیر ہڈی کے بھینس کے گوشت کی برآمد کی اجازت ہے؛ گائے، بیل اور بچھڑے کے گوشت کی برآمد پر بدستور پابندی عائد ہے۔ یہ رجحان ڈیری کسانوں کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے جو اپنی معمر یا کم دودھ دینے والی بھینسوں کو جن کی قیمت ۴۰۰ کلوگرام وزنی جانور کیلئے تخمینہ کے مطابق ۵۷۰۰۰ سے ۶۰۸۰۰ روپے ہوتی ہے. بیچ کر زیادہ پیداواری مویشیوں کی خریداری کیلئے رقم حاصل کر سکتے ہیں، جس سے گوشت کی برآمد میں آنے والا یہ عروج براہِ راست ہندوستان کی ڈیری معیشت سے جڑ جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK