Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کی ایران کے خلاف معاشی جنگ، ایران کی نئے ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی

Updated: August 20, 2026, 10:14 PM IST | Tehran

ایرانی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کی معاشی دہشت گردی عالمی معیشت کیلئے خطرے کا سبب بنے گی، انہوں نے ٹرمپ کی ایران کے خلاف معاشی جنگ کو امریکہ کے اپنے قرضوں اور بڑھتے ہوئے سود کے بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ ’’کچلنے والی معاشی کارروائی‘‘ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسے امریکہ کے اپنے قرضوں اور بڑھتے ہوئے سود کے بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ یہ ’’معاشی دہشت گردی‘‘ عالمی معیشت کے لیے خطرہ بنے گی۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ اس کا اثر صدر کی سوچ کے برعکس ہوگا۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ایران کے خلاف ’’کچلنے والی معاشی کارروائی‘‘ کا اعلان کیا جسے انہوں نے ’’غیر معمولی پیمانے پر معاشی جنگ اور تنہائی‘‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: آسٹریلوی امدادی کارکن کی ہلاکت کی مجرمانہ تحقیق نہیں، آسٹریلیا ناراض

بعد ازاں اس اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے عراقچی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’’نام نہاداقتصادی ‘‘ جنگ دراصل خود امریکہ کے بحران یعنی بے مثال قرضوں اور بڑھتے ہوئے سود کے اخراجات سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’امریکی معاشی دہشت گردی‘‘ عالمی معیشت اور دنیا بھر کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔ مزید برآں عراقچی نے کہا،’’ناکام پالیسیوں پر اصرار صرف مزید شکست اور ایرانیوں کی دشمنی کو بڑھائے گا۔ امریکی معاشی دہشت گردی عالمی معیشت اور دنیا بھر کی خودمختاری کو خطرے میں ڈال دےگی۔‘‘
علاوہ ازیں ایرانی وزیرِ خارجہ نے نیویارک ٹائمز کا ایک مضمون بھی شیئر کیا جس میں امریکی قومی قرض ۴۰؍کھرب ڈالر کی غیر معمولی حد کو عبور کرنے کی بات تھی۔ ذہن نشین رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بظاہر ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، جب کہ ٹرمپ نے تہران کو ’’کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کی سب سے کچلنے والی معاشی کارروائی‘‘ کی دھمکی دی، جس کے جواب میں ایران کے پاسداران انقلاب  (IRGC) نے سخت انتباہ جاری کیا۔ پاسداران نے خبردار کیا کہ اگر جنگ دوبارہ بھڑکی تو وہ اپنے ہتھیاروں میں سے ’’زیادہ درست اور زیادہ تباہ کن‘‘ ہتھیار استعمال کرے گا۔ پاسداران  کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے ایرانی سرکاری ٹی وی IRIB کو بتایا کہ ایران مسلسل اپنے نظامِ دفاع کو بہتر بنا رہا ہے، بشمول میزائل ہتھیار درستی اور رینج۔محبی نے کہا کہ ایران کے وارہیڈز امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ گزشتہجھڑپوں میں استعمال ہونے والے ہتھیار سے ’’مکمل طور پر مختلف‘‘ ہوں گے۔محبی نے کہا، ’’اگر کوئی نئی جنگ شروع ہوتی ہے تو ہمارے ہتھیار یقیناً ماضی سے مختلف ہوں گے،‘‘ اور مزید کہا کہ تبدیلیوں میں ہتھیاروں کی نئی کھیپ زیادہ درستگی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل شامل ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شام کے فوجی اڈے کو نشانہ بنانے پر امریکہ اسرائیل سے ناراض

بعد ازاں محبی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے جنگ کے دوران بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی فوجی صلاحیتوں کو فروغ دینا جاری رکھا اور وہ ہتھیاروں کو ’’زیادہ درست، زیادہ تباہ کن اور زیادہ جدید‘‘بنا رہا ہے۔دوسری جانب چین نے ایران کے خلاف معاشی جنگ کی مذمت کی،’’اقتصادیجنگ‘‘کے اعلان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مزید پابندیاں مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوں گی۔چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بیجنگ میں صحافیوں کو بتایا، ’’پابندیاں لگانا اور دباؤ ڈالنا مسئلے کو حل کرنے میں معاون نہیں ہے۔چین متعلقہ فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ اقدامات کریں اور سفارتی اور سیاسی ذرائع سے مسائل حل کریں۔‘‘ذہن نشین رہے کہ چین پر امریکی اقدامات کا شدید اثر پڑنے کا امکان ہے کیونکہ تجزیاتی فرم کلپر کے۲۰۲۵ء کے اعداد و شمار کے مطابق، چین ایران کی برآمد ہونے والی تیل کی۸۰؍ فیصد سے زیادہ مقدار خریدتا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK