EPAPER
Updated: September 21, 2026, 6:06 PM IST | Mumbai
Qazi Abdul Sattar نے تاریخ، تہذیب اور انسانی نفسیات کو اردو فکشن میں ایک دوسرے سے مربوط کردیا۔
قاضی عبد الستار کا شمار ان ممتاز افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو فکشن کو تاریخی شعور، تہذیبی احساس، زبان و بیان کی شان اور انسانی نفسیات کی گہری بصیرت عطا کی۔ قاضی عبد الستار کی پیدائش۱۹۳۳ء میں ضلع سیتاپور، اتر پردیش کے قصبے مچھریٹا میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک ایسے ماحول سے تھا جہاں اودھ کی جاگیردارانہ اور تہذیبی زندگی کے آثار ابھی پوری طرح موجود تھے۔ ان کے بچپن اور ابتدائی زندگی پر اس معاشرتی ماحول کا گہرا اثر پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں جب انہوں نے افسانے اور ناول لکھے تو زمینداروں، تعلقہ داروں، نوابوں، رئیسوں اور اس تہذیب کے زوال کو محض باہر سے دیکھنے والے مصنف کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جس نے اس ماحول کو قریب سے محسوس کیا تھا۔
ابتدائی تعلیم اور علمی ترتیب
قاضی عبد الستار نے ابتدائی تعلیم سیتاپور میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کیلئے لکھنؤ یونیورسٹی کا رخ کیا۔ انہوں نے بی اے آنرز۱۹۵۲ء اور ایم اے۱۹۵۴ء میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دونوں امتحانات میں انہوں نے اول پوزیشن حاصل کی۔ ۱۹۵۴ء میں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بحیثیت ریسرچ اسکالر وابستہ ہوئے۔ انہوں نے معروف استاد اور ادیب رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں تحقیقی کام کیا اور بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے تدریسی حیثیت سے وابستہ ہوگئے۔ قاضی عبد الستار کی زندگی کا ایک بڑا حصہ مسلم یونیورسٹی کے علمی اور ادبی ماحول میں گزرا۔ وہ شعبۂ اردو میں استاد، پروفیسر اور صدرِ شعبہ کے منصب پر بھی فائز رہے۔ ان کی تدریسی خدمات نے طلبہ کی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ ان کی شخصیت اپنے آپ میں ایک ادبی ادارے کی حیثیت رکھتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: جیرارڈس مرکٹر: مشہور نقشہ ساز اور جغرافیہ داں
افسانہ نگاری کا آغاز اور ’’پیتل کا گھنٹہ‘‘
قاضی عبد الستار کو افسانہ نگاری میں غیر معمولی شہرت ان کے افسانے ’’پیتل کا گھنٹہ‘‘(۱۹۶۴ء) سے ملی۔ یہ افسانہ اودھ کی زوال پذیر اشرافیائی اور جاگیردارانہ تہذیب کی ایک مؤثر تصویر پیش کرتا ہے۔
ناول نگاری کا آغاز
قاضی عبد الستار کا پہلا ناول ’’شکست کی آواز‘‘ تھا، ان کا دوسرا اہم ناول ’’شب گزیدہ‘‘ ہے اور’غبارِ شب‘‘ بھی ان کے اہم ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ قاضی عبد الستار کی ادبی شہرت کا سب سے روشن باب ان کی تاریخی ناول نگاری ہے۔ انہوں نے تاریخ کے بڑے کرداروں کو ان کے عہد، ماحول، تہذیب، سیاسی حالات، جذبات اور انسانی نفسیات کو تخلیقی انداز میں پیش کیا۔ ان کے نمایاں تاریخی ناولوں میں ’’دارا شکوہ‘‘، ’’صلاح الدین ایوبی‘‘، ’’خالد بن ولید‘‘ اور ’’غالب‘‘ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اردو تنقید نگاری میں بھی اپنا اثر چھوڑا ہے۔
وفات اور آخری آرام گاہ
پروفیسر قاضی عبد الستارکا طویل علالت کے بعد ۲۹؍ اکتوبر ۲۰۱۸ءکو نئی دہلی میں انتقال ہوگیا۔ انہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قبرستان کے احاطے میں دفن کیا گیا تھا۔ وہ اے ایم یو کے المنائی میں شامل ہیں۔