EPAPER
Updated: September 07, 2026, 1:51 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
اس کے ذریعہ جدید دور کی اصطلاحات اور تقاضوں کے ساتھ ہی طلبہ کیلئے کورس کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہے۔
ادارہ انقلاب سے اشاعت کے ۹؍ سال مکمل کرنےوالے طلبہ کے ہفت روزہ جریدے ’تعلیمی انقلاب‘‘ کی سالگرہ کے موقع پر عذرا عرفان دلوی جو ممبرا میں رہنےوالی خاتون خانہ ہیں، نے بتایا کہ ’’یہ وہ منفرد پرچہ ہے جو طلبہ کی ضروریات کو نظر میں رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں جہاں ایک جانب الفاظ کے معنی اور کہاوت کے سیاق و سباق معلوم ہوتے ہیں وہیں جدید دور کے تقاضوں اور اصطلاحات اور کورس کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہے۔ ‘‘ ممبرا میں مقیم ۶۳؍ سالہ عذرا دلوی جو پابندی سے تعلیمی انقلاب کا مطالعہ کرتی ہیں، نے بتایا کہ ’’اسٹونٹ نہ ہونے کے باوجود میں اسے ہر جمعہ کو اپنے شوہر سے منگواتی ہوں، مجھے اس کا مطالعہ کرنا اچھا لگتا ہے۔ میں سبھی طلبہ کو مشورہ دوں گی کہ وہ تعلیمی انقلاب کا لازمی طور پر مطالعہ کریں اور اطلبہ کے تئیں ادارہ انقلاب کی فکر کو مزید کارآمد بنائیں۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ ’’ امتحان کے دوران اور تعطیلات میں طلبہ اپنے اوقات کس طرح کارآمد بنائیں اس تعلق سے بھی تعلیمی انقلاب میں بھر پور رہنمائی ملتی ہے جو دیگر اخبارات میں نہیں ہوتی۔ ‘‘ انہوں نے بطور خاص کہا کہ ’’تعلیمی انقلاب میں طلبہ کو قلم نگاری کا بھی موقع اور جگہ دی جاتی ہے۔ گویا نئے قلمکار بنانے کی جانب پیش قدمی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں ۹ سال کا سفر کامیابی سے مکمل کرنے پر میں ادارہ انقلاب کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’میں کئی اخبارات کا مطالعہ کرتا ہوں مگر ہر جمعہ تعلیمی انقلاب پہلے پڑھتا ہوں‘‘
ممبرا میں خاتون خانہ نسیم بانوجامبود والا(۶۴؍ سال) بھی پورے اہتمام سے تعلیمی انقلاب کا مطالعہ کرنے والوں میں شامل ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ’’ تعلیمی انقلاب طلبہ ، ہر شخص بلکہ ہمارے جیسے معمر افراد کیلئے علم کا خزانہ ہے۔ تعلیمی انقلاب میں آنے والے ’اسلامی تاریخ کے اوراق‘ کو پڑھ کر اپنے ۶؍ سال کے پوتے کو بتاتی ہوں۔ تعلیمی انقلاب کا ہر کالم اہمیت کا حامل ہے۔اس میں جہاں ایک جانب اردو میڈیم کے بچوں کیلئے دلچسپی اور علم کا خزانہ ہے وہیںدرمیانی ۲؍صفحات پر انگریزی کہانی ،اسکل اور معلومات میں اضافہ کرنے والی تحریریں ہوتی ہیں۔ اس سے ہمیں انگلش سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘
ان کے مطابق ’’مَیں نے انجمن اسلام گرلس اسکول ( مدنپورہ ) سے دسویں تک تعلیم حاصل کی لیکن تعلیمی انقلاب پڑھ پڑھ کر اپنی انگریزی بہتر بنائی ہے۔‘‘
انہوںنے بتایاکہ ’’ممبرا منتقل ہونے سے قبل جب ہم گھنسولی میں رہتے تھے ،وہاں اسٹال پر انقلاب تو آتا تھا لیکن تعلیمی انقلاب نہیںملتا تھا اس لئے مَیں اپنے شوہر سے اسے ممبرا سے منگواتی تھی۔ ایک سال قبل ہم ممبرا منتقل ہو گئے تو یہاں مَیں بلا ناغہ ہر ہفتہ خود ہی تعلیمی انقلاب خرید کر پڑھتی ہوں بلکہ ایک ایک کالم پوری دلچسپی کے ساتھ پڑھتی ہوں۔میرے بلا ناغہ تعلیمی لیتا دیکھ کر وینڈر بھی میرے لئے ایک کاپی محفوظ کر لیتا ہےتاکہ کوئی ہفتہ چھوٹ نہ جائے۔ اس پرچہ میں دین اور دنیا دونوں کی معلومات ہوتی ہے۔ تعلیمی انقلاب میں ’طلبہ کے قلم سے ‘ کالم میں طلبہ کو ان کی تحریر شائع کرنے کا موقع بھی دیاجاتا ہے تو قابل ستائش قدم ہے۔ میری دعا ہے کہ تعلیمی انقلاب اسی طرح دین دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا رہے۔(آمین)‘‘