• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں کئی اخبارات کا مطالعہ کرتا ہوں مگر ہر جمعہ تعلیمی انقلاب پہلے پڑھتا ہوں‘‘

Updated: September 05, 2026, 4:19 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

دفتر انقلاب سے شائع ہونے والا ’’تعلیمی انقلاب‘‘ جو اسکولی بچوں کامقبول اور عمررسیدہ قارئین کا پسندیدہ اخبار ہے، اس کی ۹؍ ویں سالگرہ پر نمائندے نے ایسی قارئین سے ملاقات کی جو ۸۔۹؍ ؍سال سے پابندی سے اس کامطالعہ کررہےہیں۔

Rafiq Ahmed Ansari. Source: Abdullah Mullaji. Ayesha Siddiqa Aqeel Ahmed Ansari. Picture: INN
رفیق احمد انصاری۔ مصدر عبداللہ ملاجی۔ عائشہ صدیقہ عقیل احمد انصاری۔ تصویر: آئی این این

دفتر انقلاب سے شائع ہونے والا ’’تعلیمی انقلاب‘‘ جو اسکولی بچوں کامقبول اور عمررسیدہ قارئین کا پسندیدہ اخبار ہے، اس کی ۹؍ ویں سالگرہ پر نمائندے نے ایسی قارئین سے ملاقات کی جو ۸۔۹؍ ؍سال سے پابندی سے اس کامطالعہ کررہےہیں۔ ان میں سے ایک ہی رفیق احمد انصاری (عمر ۷۵؍ سال)۔

سب سے پہلے تعلیمی انقلاب

رفیق احمد انصاری سانکلی اسٹریٹ مدنپورہ کے ساکن ہیں اور کہتے ہیں کہ اُنہیں ہر ہفتے (جمعہ کو) انقلاب کے ساتھ تعلیمی انقلاب کا بھی بے چینی سے انتظار رہتا ہے۔ اُن کے بقول: ’’میرے لئے تعلیمی انقلاب کے مشمولات اس قدر اہم اور قیمتی ہیں کہ ان کے بارے میں تاثرات پیش کرنا، مجھ جیسے کم علم کیلئے مشکل ہے ۔ ہر جمعہ کو تعلیمی انقلاب کا بے صبری سے منتظر رہتا ہوں۔ میرے گھر پر انقلاب، اُردو ٹائمز اور اُردو نیوز اخبارات آتے ہیں لیکن جمعہ کو ریگولر انقلاب سے پہلے میں تعلیمی انقلاب کا مطالعہ کرتا ہوں۔ اس کے مضامین لاجواب ہوتے ہیں۔ طلبہ کے علاوہ بڑوں کی تربیت اور علم میں اضافہ کرنے والا یہ واحد اخبار ہے جسے میں اپنی زندگی کا اہم جزتسلیم کرتا ہوں بالخصوص سرورق کے ترغیب دینے والے مضامین بہت پسند آتے ہیں ۔ جس کیلئے ادارہ انقلاب کے تمام متعلقہ اراکین کو سلام و مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ ‘‘ رفیق احمد انصاری اس خیال کے حامل ہیں کہ علم کی طلب کیلئے عمر کی کوئی حد نہیں۔ تعلیمی انقلاب کا بھی یہی معاملہ ہے۔ یہ کسی بھی عمر کے قاری کیلئے مفید ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: میرے جانے کے بعد کوئی یہ کام نہیں کریگا اسلئے ہر جگہ خود اپنا نام لگا رہا ہوں: ٹرمپ

’’تعلیمی انقلاب: پہلے ہی شمارہ سے بھا گیا!‘‘

تلوجہ میں مقیم مصدر عبداللہ ملا ّجی (عمر ۶۴؍ سال) پہلے شمارہ سے تعلیمی انقلاب کا مطالعہ کررہے ہیں۔ اُنہوں نے اس نمائندہ سے کہا کہ ’’ستمبر ۲۰۱۷ء میں تعلیمی انقلاب کی اشاعت کا اعلان ایسا ہی تھا جیسے کسی آنگن میں نومولود کی آمد ، جس سے گھر میں خوشیاں پھیل جائیں۔ طلبہ کیلئے تعلیمی انقلاب کی ترتیب ایسی تھی کہ اپنی نوعیت کا یہ منفرد اخبار پہلی اشاعت سے ایسے بھاگیا کہ دل میں یہ خیال آیا کہ یہ صرف آج کی نہیں بلکہ آئندہ نسل کیلئے بھی اہم اثاثہ ہوگا۔ اسی جذبہ کے تحت تمام شمارے محفوظ کررکھے ہیں۔ تعلیمی انقلاب میں طلبہ کی ذہنی تربیت اور نشوونما کیلئے ضروری معلومات موجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فیصلہ کرنے سے پہلے درست انتخاب اور ممکنہ نتائج کے بارے میں غور کرلیں

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK