کائنات وسیع ہورہی ہے، کیوں ؟

Updated: March 19, 2021, 6:15 AM IST | Mumbai

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ہماری کائنات تیزی سے پھیل رہی ہے۔ سائنس داں اس کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ہماری کائنات تیزی سے پھیل رہی ہے۔ سائنس داں اس کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں ماہرین ایسی دریافت کرنے والے تھے جس کے بعد فلکیاتی میدان میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا۔ماہرین کو اس دریافت سے پہلے یہ معلوم تھا کہ یہ کائنات ’’بگ بینگ‘‘ یعنی نقطہ آغاز سے مادّے اور توانائی کے تیز پھیلاؤ کے بعد وجود میں آئی ہے۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا تھا کہ ۱۳؍ ارب سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد اس کے پھیلاؤ میں کمی دکھائی دینی چاہئے تھی لیکن نتائج اس کے برعکس ہیں ۔ ۱۹۹۸ء میں ہونے والی اس دریافت میں ماہرین فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم بنائی گئی تھی جس میں امریکی آسٹرو فزسسٹ ڈاکٹر آدم ریس، آسٹریلوی آسٹرو فزسسٹ ڈاکٹر برائن شمٹ اور ڈاکٹر سول پرلمٹر شامل تھے۔یہ ٹیم ایک قسم کے سپرنووا، جسے سپرنووا ٹائپ ون اے کہتے ہیں ، اس سے آنے والی روشنی کا جائزہ لے رہی تھی۔ جب ایک بڑا ستارہ اپنی آخر عمر کو پہنچ جاتا ہے تو وہ زوردار دھماکے کی صورت میں پھٹ جاتا ہے اور خلاء میں اپنے اندر موجود مادّے کو پھیلا دیتا ہے جس کے بعد اسی مادّے سے نئے ستارے جنم لیتے ہیں اور اس دھماکے کو فلکیاتی اصطلاح میں سپرنووا کا نام دیا جاتا ہے۔اس کی۲؍ اقسام (ٹائپ ون اے اور ٹائپ ٹو) ہوتی ہیں ۔سپرنووا ٹائپ۲؍ میں ہمارے سورج سے۸؍ گنا بڑا ستارہ پھٹتا ہے اور بعد میں نیوٹرون ستارہ یا بلیک ہول بن جاتا ہے جبکہ ٹائپ ون اے میں ستاروں کا جوڑا موجود ہوتا ہے، جن میں ایک بونا ستارہ ہوتا ہے، اور اس کا ساتھی کوئی بھی دوسرا ستارہ ہوسکتا ہے۔ جب دوسرا ستارہ اپنی آخر عمر کو پہنچ جاتا ہے تو بونا ستارہ اس کی سطح سے مادّہ اپنی جانب کھینچنے لگتا ہے۔
 جب اس بونے ستارے میں موجود مادّے کی مقدار ہمارے سورج سے۱ء۴؍ گنا زیادہ ہوجاتی ہے تو یہ بونا ستارہ زوردار دھماکے کی صورت میں پھٹ جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ۱۹۲۹ء میں مشہور سائنسداں ایڈون ہبل نے یہ دریافت کی تھی کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ ۱۹۹۸ء کی ٹیم نے کہا کہ اگر کائنات کے پھیلاؤ میں تیزی واقع ہورہی ہے تو سپرنووا کی روشنی حساب سے حاصل شدہ روشنی سے کم ہوگی۔اس ٹیم نے پہلے ریاضی کی مدد سے یہ معلوم کیا کہ اس وقت یہ سپرنووا زمین سے جتنی دوری پر ہے، اس حساب سے کتنی روشنی زمین تک پہنچنی چاہئے، ساتھ ہی جب اس کو بڑی دوربینوں سے دیکھا گیا تو آنے والی روشنی کی مقدار حساب لگائی گئی مقدار سے کم تھی۔ یہ دیکھ کر ماہرین حیران ہوئے اور سوچا کہ شاید دوربین میں کسی طرح کی خرابی ہے، جس وجہ سے ڈیٹا غلط آرہا ہے، لیکن جب دوربین کا رخ اسی قسم کے دوسرے سپرنووا کی جانب گھمایا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ یہ ڈیٹا دوربین میں موجود خراب کی نہیں بلکہ کسی حیران کر دینے والی دریافت کی نوید سنا رہا ہے۔اس کے بعد ٹیم نے کہا کہ کائنات کے پھیلنے میں وقت کے ساتھ ساتھ تیزی آرہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سی چیز سے کائنات کے پھیلاؤ میں تیزی آرہی ہے؟
 اس کو سمجھنے کیلئے ماہرین نے ایک اور اصطلاح پیش کی جسے فلکیات میں ’’ڈارک انرجی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ فلکیات میں اگر کسی بھی چیز کے ساتھ ’’ڈارک‘‘ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سائنس اس چیز کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتی۔
 کائنات کے پھیلنے کی ایک وجہ ڈارک انرجی ہے۔ اس کے بعد ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ڈارک انرجی موجود ہے اور کائنات پھیل رہی ہے تو پھر اربوں برسوں میں سورج زمین سے دور کیوں نہیں چلا گیا؟ یا پھر ستارے ابھی تک کہکشاؤں میں موجود کیوں ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کائنات میں ازل سے کشش ثقل اور کائناتی پھیلاؤ کے درمیان رسہ کشی چلتی آ رہی ہے۔ مثلاً نظام شمسی میں سیارے، سورج سے جس فاصلے پر ہیں اس پر کشش ثقل کا اثر ڈارک انرجی کے اثر سے کہیں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے یہاں ہمیں کائناتی پھیلاؤ نظر نہیں آتا جبکہ اگر ہم دور کہکشاؤں کا بغور جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ کہکشائیں ہم سے اتنی دور ہیں کہ اکشش ثقل سے زیادہ ڈارک انرجی کا اثر دکھائی دیتا ہے، جس وجہ سے یہ کہکشائیں ہم سے دور جاتی دکھائی دیتی ہیں ۔ 
 سائنسدانوں نے ابھی کائنات کے سربستہ رازوں سے پردے اٹھانے شروع کئے ہیں اور آنے والے وقت میں سائنسدانوں کے پاس سنہری موقع ہوگا کہ وہ ماضی کے تجربات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کائنات کے چھپے راز سے دنیا کو آشکار کروائیں ۔
 لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا کبھی سائنسدان کائنات کے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کے قابل ہو سکیں گے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK