EPAPER
Updated: September 04, 2026, 8:06 PM IST | Altamash Shamim | Mumbai
۵ء۴۴؍فیصد طلبہ نے اس نکتے پر توجہ دلائی کہ کلاس روم کے باہر بھی ایک دنیا ہے جس کا علم ضروری ہے۔
عملی تجربات تعلیم کو مؤثر اور یادگار بناتے ہیں۔
کتب خانے، آن لائن لرننگ، میوزیم اور فیلڈ وزٹ اہم ذرائع ہیں۔
تجرباتی تعلیم سے خود اعتمادی، فیصلہ سازی اور تخلیقی سوچ بڑھتی ہے۔
تعلیم صرف اسکول تک محدود ہے؟
ہمیں کلاس روم کے اندر سے زیادہ باہر گزرے لمحات یاد رہتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ہم کلاس روم میں سیکھا ہوا۸۵؍ فیصد بھول جاتے ہیں کیونکہ سیکھنے کا عمل صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ اسکول ٹرپ، لائبریری، گروپ اسٹڈی اور سیر و تفریح بھی علم و تجربے کے بہترین ذرائع ہیں۔ کلاس روم سے باہر کی یہ سرگرمیاں ہمیں کتابی علم کے ساتھ عملی تجربہ بھی فراہم کرتی ہیں۔ یہ تجربات ہماری سوچ کو وسعت دیتے اور چیزوں کو نئے انداز سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
طلبہ کو در پیش مسائل
کلاس روم میں روایتی تعلیم اکثر پیسیو لرننگ پر منحصر ہوتی ہے جہاں استاد معلومات فراہم کرتا ہے اور طلبہ انہیں حاصل کرتے ہیں۔ یہ ’بینکنگ ماڈل آف ایجوکیشن‘ ہے جس میں سیکھنے کا عمل رٹنے اور امتحان میں کامیابی تک محدود ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً طلبہ حقیقی زندگی کے تجربات اور عملی سیکھنے کے مواقع سے محروم رہتے ہیں۔ محدود اور تجریدی ماحول میں نظم و ضبط پر زیادہ زور بچوں کی آزادانہ سوچ، مشاہدے، تخلیقی صلاحیت اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔
کلاس روم کے باہر کیسے سیکھا جائے؟
کتب خانے (لائبریری) علم کے خزانے ہیں جہاں کتابوں کے مطالعے کے ساتھ نئی مہارتیں بھی سیکھی جا سکتی ہیں۔ افسوس کہ وقت کے ساتھ لوگوں میں کتب خانوں سے دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔
ٹیکنالوجی کے دور میں مختلف ویب سائٹس اور ایپس کے ذریعے نئی اسکلز سیکھی جا سکتی ہیں۔ گوگل کے مفت پروگراموں کے علاوہ’ SWAYAM ‘اور اسکل انڈیا ڈجیٹل ہب جیسے پورٹلز بھی مفید ہیں۔
عجائب گھر (میوزیم) اور تاریخی مقامات ’ڈسکوری لرننگ‘ کو فروغ دیتے ہیں اور معلومات کو عملی مشاہدے کے ذریعے یاد رکھنے میں معاون ہیں۔ تاریخی مقامات کا دورہ ماضی کی تہذیب اور حالات کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
تجرباتی تعلیم سے مراد کسی چیز کو عملی طور پر کرکے سیکھنا ہے۔ ڈیوڈ کولب کے مطابق اس میں تجربہ، غور و فکر، تصور سازی اور عملی آزمائش کے چار مراحل شامل ہیں۔
اپنے روز مرہ کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور ماحول کا شعوری و عملی مشاہدہ بھی سیکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔ طالب علم محض اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھ کر زبان اور سماجی مہارتیں غیر محسوس طور پر سیکھ لیتا ہے جو اسے دیر تک یاد رہتی ہیں۔
کلاس روم کے باہر سیکھنے کے فائدے
کلاس روم کے باہر عملی تجربات سے سائنس جیسے مشکل مضامین کو سمجھنا آسان ہوتا ہے اور تجزیاتی و فیصلہ سازی کی صلاحیتیں نکھرتی ہیں۔ اس سے خود اعتمادی بڑھتی ہے اور روزمرہ مسائل حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کھلے اور قدرتی ماحول میں سیکھنے سے شخصیت میں نکھار، سماجی ہم آہنگی اور مختلف سوفٹ اسکلز پروان چڑھتی ہیں۔ اسکول ٹرپ یا فیلڈ وزٹ سے نہ صرف دماغ ذہنی طور پر سیکھنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے بلکہ جسمانی صحت پر بھی اس کے مثبت اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ ایسے تجربات غور و فکر اور یکسوئی کو فروغ دے کر توجہ کا دورانیہ (Attention Span) بڑھاتے ہیں جو آج کل ڈوم اسکرولنگ سے متاثر ہو رہا ہے۔
ہاسٹل کا ذاتی تجربہ
ہاسٹل کی زندگی محض رہائش کا نام نہیں بلکہ شخصیت سازی کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ مختلف علاقوں سے آئے طلبہ کے ساتھ رہنے اور نئے دوست بنانے سے دنیا کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ گروپ اسٹڈی کے ذریعے مشکل مضامین بھی باہمی تعاون اور مختلف طریقوں سے آسانی سے سمجھے اور یاد کیے جا سکتے ہیں۔ ہاسٹل کی زندگی غیر محسوس طور پر ایسی صلاحیتیں پیدا کرتی ہے جو کتابی تعلیم سے آگے ہوتی ہیں۔ ٹیم ورک، قیادت، ہمدردی، موافقت اور شمولیت جیسی کئی سافٹ اسکلز اسی ماحول میں پروان چڑھتی ہیں۔ یوں ہاسٹل طلبہ کو صرف تعلیم نہیں بلکہ عملی زندگی کیلئےبھی بہتر طور پر تیار کرتا ہے۔
ان نکات پر توجہ دیں
میوزیم کا دورہ کریں
میوزیم میں تاریخی اشیا، سائنسی نمونے اور فن پارے دیکھ کر ماضی اور دنیا کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ میوزیم کا ہر دورہ علم کا ایک نیا دروازہ کھولتا ہے۔
شوق کو علم بنائیں
اپنے پسندیدہ مشغلے، جیسے مصوری، باغبانی، فوٹوگرافی یا موسیقی کو سیکھنے کا ذریعہ بنائیں۔ شوق کے ذریعے حاصل کیا گیا علم زیادہ دیر تک یاد رہتا ہے۔
ماہرین سے سیکھیں
اپنے اردگرد موجود اساتذہ، فن کاروں، کاریگروں یا مختلف شعبوں کے ماہرین سے بات کریں۔ ان کے تجربات سے عملی باتیں سیکھی جا سکتی ہیں۔
سیکھنے کی ڈائری بنائیں
روزانہ یا ہفتہ وار بنیاد پر لکھیں کہ آپ نے کلاس روم سے باہر کیا نیا سیکھا۔ اس عادت سے اپنی دلچسپیوں، تجربات اور ترقی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
رضاکارانہ کام کریں
سماجی، فلاحی یا رفاہی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر دوسروں کی مدد کریں۔ اس سے ذمہ داری، ہمدردی، تعاون اور عملی زندگی کی سمجھ پیدا ہوتی ہے۔
خود سے تحقیق کریں
اپنی پسندیدہ کتابوں، رسائل اور معتبر آن لائن ذرائع سے معلومات جمع کریں۔ اپنی دلچسپی کے مطابق تحقیق کرنے سے خود سیکھنے کی عادت مضبوط ہوتی ہے۔