• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی: میلونی کی حکومت دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سےطویل حکمراں پارٹی بنی

Updated: September 04, 2026, 10:04 PM IST | Rome

اٹلی میں میلونی کی حکومت ایک ہزار ۴۱۳؍ دن مکمل کرکے دوسری جنگِ عظیم کے بعد اٹلی کی سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والی پارٹی بن گئی، جبکہ گزشتہ انتظامیہ اکثر سیاسی بحرانوں، انحراف اور اتحادی تنازعات کی وجہ سے گر جاتی تھیں، مگر میلونی اب تک اپنے حکمراں اتحاد کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔

Italian Prime Minister Giorgia Meloni. Photo: INN
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی۔ تصویر: آئی این این

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے جمعہ کو ایک تاریخی سیاسی سنگ میل کا جشن منایا جب ان کی سخت دائیں بازو کی حکومت اٹلی کی دوسری جنگ عظیم کے بعد تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک قائم رہنے والی انتظامیہ بن گئی،اس موقع پر ہزاروں حامی ریلی کے لیے جمع ہوئے ،جبکہ قریب ہی مظاہرین نے احتجاج کیا۔ میلونی اب ۱۴۱۳؍ دنوں سےایسی حکومت کی سربراہ ہیں، جس نے کروڑ پتی میڈیا ٹائیکون اور سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی کا گزشتہ ریکارڈ ایک دن سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔  یہ سنگ میل اس ملک میں خاص طور پر اہم ہے جس نے ۸۰ ؍سالوں میں ۶۸؍ حکومتوں کا تجربہ کیا ہے، جہاں پچھلی انتظامیہ اکثر سیاسی بحرانوں، انحراف اور اتحادی تنازعات کی وجہ سے گرجاتی تھیں، مگر میلونی اب تک اپنے حکمراں اتحاد کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔ اس موقع پر حکمراں جماعت کے حامیوں نے ایک تقریب کا انعقاد کیا ہے،جس میں سرکاری نعرے ’’مستحکم ترین حکومت، مضبوط ترین اٹلی‘‘ کے تحت ان تقریبات میں روشنی کے شوز اور ڈی جے پرفارمنس شامل ہوں گی۔حکومت سے توقع ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کو اجاگر کرے گی، جس میں ۱۰ ؍لاکھ سے زائد اضافی ملازمتوں کی تخلیق اور ذاتی انکم ٹیکس میں مبینہ طور پر ۲۱؍ بلین یورو (۲۴؍ بلین ڈالر) کی کمی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی مذہبی لیڈروں کا بیان: آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے ساتھ شرکت کیلئے انہیں ”گمراہ“ کیا گیا

بعد ازاں اٹلی کی مالی حالت بھی اس کے بھاری قرضوں کے بوجھ کے باوجود نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ مالی استحکام کا اثر مضبوط معاشی نمو یا بہتر معیار زندگی میں نہیں ہوا۔ سی جی آئی ایل ٹریڈ یونین کے سربراہ ماریزیو لینڈینی نے تقریب سے قبل کہا کہ کیا اجرتوں میں اضافہ ہوا؟ نہیں۔ پیٹرول مہنگا ہوا، ملازمتوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھی، لوگ کم ریٹائر ہو رہے ہیں اور صحت کا نظام کم مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے۔‘‘
تاہم میلونی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دور میں بین الاقوامی سطح پر اٹلی کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات، جنہیں کبھی قریبی دوستی قرار دیا جاتا تھا، کو شدید دھچکا لگا جب انہوں نے پوپ پر حملہ کرنے پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یاد رہے کہ میلونی کے اتحاد میں ان کی برادرز آف اٹلی، سالوینی کی انتہا پسند دائیں بازو کی امیگریشن مخالف لیگ اور سینٹر-رائٹ فورزا اٹالیا پارٹی شامل ہیں۔ اس اتحاد نے مل کر تقریباً ۳۰۰؍ قوانین اور احکامات منظور کیے ہیں، جن میں سے اکثر کا تعلق سیکیورٹی خطرات سے ہے، جس میں معمولی جرائم سے لے کر ریو پارٹیز اور موسمی احتجاج تک کے مسائل شامل ہیں۔ میلونی کی برادرز آف اٹلی، جس کی جڑیں نو-فاشسٹ سیاسی روایت میں ہیں، نے ۲۰۲۲ء کا انتخابات غیر قانونی نقل مکانی کے خلاف مہم چلا کر جیتا تھا۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسیوں نے تارکین وطن کی آمد میں ۸۰؍ فیصد کمی کی ہے۔ تاہم، سیاسی رفتار کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ حکومت اگلے انتخابات کے قریب آ رہی ہے۔ لا سٹامپا اخبار کی اداریہ نگار فلاویا پرینا نے جمعرات کو روم میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میلونی کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ ووٹ سے پہلے ان آخری مہینوں کو کیسے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، یہ ایک بہت دلچسپ سوال ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب نے ڈاکٹر منال رضوان کو امن مذاکرات کیلئے خصوصی ایلچی مقرر کیا

جبکہ حامی حکومت کی طویل عمر کا جشن منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں، وہیں میلونی کے مخالفین تاریخی مرکز میں حکومت مخالف مظاہرے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ مظاہرے کے منتظمین نے حکومت پر جنگی اور ہتھیاروں کی معیشت اور پولس ریاست بنانے کا الزام لگایا، جبکہ یہ بھی کہا کہ اس کی پالیسیوں نے تارکین وطن کے خلاف دشمنی کا ماحول پیدا کیا ہے۔ مزید برآں میلونی کو اپنے سیاسی دائیں بازو سے مزید چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ ایک سابق جنرل میلونی کی برادرز آف اٹلی سے بھی زیادہ دائیں بازو کی جماعت کے لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ اس پارٹی کے تیزی سے عروج نے اسے انتخابی پول میں لیگ اور فورزا اٹالیا دونوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے،  جس نے ممکنہ طور پر اٹلیکے دائیں بازو کے سیاسی منظرنامے پر میلونی کی بالادستی کے لیے نیا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ جب حامی میلونی کے ریکارڈ توڑ جشن کے لیے جمع ہیں، وزیر اعظم کے سامنے ایک مزید پیچیدہ سوال ہے: کیا وہ اپنی حکومت کی تاریخی طویل عمر کو ۲۰۲۷ء میں ایک اور انتخابی فتح میں بدل سکتی ہیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK