• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی اخبار کی انوکھی تجویز، مقروض امریکیوں کے قرضے معاف کر کے انہیں ایران پر حملے کیلئے بھیج دو

Updated: September 04, 2026, 10:03 PM IST | Jerusalem

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ میں شائع ایک متنازع کالم میں امریکی حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ نوجوانوں کے تمام قرضے اس شرط پر معاف کردیے جائیں کہ وہ ایران کے خلاف زمینی جنگ کیلئے امریکی فوج میں بھرتی ہوں۔ کالم نگار کے مطابق ایران پر مکمل فوجی کنٹرول کیلئے بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کی ضرورت ہوگی، تاہم اس تجویز کو امریکہ میں معاشی استحصال اور نوجوانوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Iran-US war. Photo: INN
ایران امریکہ جنگ۔ تصویر: آئی این این

اسرائیل کے ایک معروف اخباریروشلم پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک کالم میں ایک متنازع اور چونکا دینے والی تجویز پیش کی گئی ہے کہ امریکی حکومت کو اپنے ملک کے مقروض نوجوانوں کے تمام قرضے اس شرط پر معاف کر دینے چاہئیں کہ وہ ایران پر زمینی حملے میں شامل ہونے کیلئے فوج میں بھرتی ہوجائیں۔ کالم نگار کا کہنا ہے کہ صرف ہوائی بمباری کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی، بلکہ اس کیلئے ملک پر قبضہ کرنے یا اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوگی، جس کیلئے ۱۵؍ لاکھ (۱ء۵؍  ملین) تک امریکی فوجیوں کو متحرک کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کی تصویر والے سکےکی چو طرفہ مذمت، سوشل میڈیا پر ٹرول، اسے ’’آزادی کی موت‘‘ قرار دیاگیا

مقروض امریکی نوجوانوں کو ایران کے خلاف جنگ میںچارے کے طور پر استعمال کرنے کی یہ تجویز کنیڈین مسلح افواج کے ایک سابق اہلکار اے جے جاف (AJ Jaff) نے دی ہے۔ اپنے دلائل میں جاف کا کہنا ہے کہ مہینوں کے شدید امریکی حملوں کے باوجود ایران کی فوجی صلاحیت کو تباہ نہیں کیا جا سکا اور ایک کامیاب زمینی مہم کیلئے موجودہ امریکی فوجیوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ ان کے مطابق ایران کے ۳۱؍ صوبائی کمانڈز اور اس کے مضبوط دفاعی نظام کا مقابلہ کرنے کیلئے جتنے فوجی درکار ہیں اس کے مقابلے میں اس وقت امریکی فوج میں صرف ۴؍ لاکھ ۵۲؍ ہزار کے قریب ہی فعال اہلکار موجود ہیں۔ اس قلت کو پورا کرنے کیلئے مصنف کا کہنا ہے کہ امریکہ کو جبری بھرتی کے بجائے قرض معافی کا پروگرام شروع کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق ۱۸؍ سے ۳۴؍ سال کی عمر کے اوسط امریکی نوجوان پر اسٹوڈنٹ لون، کریڈٹ کارڈ، گاڑی اور ذاتی قرضوں کی مد میں ۴۰؍ ہزار سے لے کر ایک لاکھ ڈالر تک کا بھاری بوجھ ہے اور پینٹاگون کو اسی طبقے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اگر حکومت ۲۴؍ سے ۳۶؍ ماہ کی فوجی خدمات کے بدلے ان کے تمام قرضے معاف کرنے اورجی آئی بل (GI Bill) کی سہولیات کی توسیع کا اعلان کرے، تو لاکھوں نوجوان خود بخود فوج میں بھرتی ہونے کیلئے تیار ہو جائیں گے۔ امریکہ میں اس وقت کل گھریلو قرضہ ۱۸ء۸؍ ٹریلین ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ چکا ہے اور ۷۷؍ فیصد امریکی کسی نہ کسی قسم کے مقروض ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: انتہا پسند اسرائیلی وزیرکا ۱۸؍ لاکھ فلسطینیوں کی غزہ سے بےدخلی کا ۷؍ سالہ منصوبہ

کالم نگار نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جی آئی بل، ویتنام جنگ کے وقت کالج کی چھوٹ، اور ۹/۱۱ کے بعد نقد بونس اور امریکی شہریت کی پیشکش کی گئی تھی، جبکہ ایران جنگ کیلئے اب قرض میں راحت دینا چاہئے۔وہ اسے اخلاقی طور پر کچھ ناگوار تو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی اسے پینٹاگون اور ٹرمپ انتظامیہ کیلئے سب سے موثر طریقہ کار بھی قرار دیتے ہیں۔ اس کالم کے منظر عام پر آتے ہی امریکہ میں اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔ متعدد ماہرین نے اس تجویز کو یکسر غلط اور ناقابلِ عمل قرار دیا، جبکہ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ اسرائیل ’’آخری امریکی کی موجودگی تک‘‘ ایران سے جنگ لڑنا چاہتا ہے۔ ’’دی بلیز (The Blaze) جیسے امریکی میڈیا اداروں نے اسے مقروض نوجوانوں کا معاشی استحصال اور ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ میزس انسٹی ٹیوٹ (Mises Institute) نے لکھا کہ اسرائیلی اخبار کی یہ کال دراصل امریکی شہریوں کو اسرائیل کیلئے ایک اور جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کا مطالبہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK