Updated: September 04, 2026, 10:03 PM IST
| Washington
نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو وہائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ کی قیادت کی۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ موجودہ امریکی پالیسی کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں خلل پڑا ہے یا اس کی وجہ سے کوئی توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو توانائی کی عالمی قلت کو روکنے کا کریڈٹ دیا۔ انہوں نے اس موقع پر ایران پر زور دیا کہ وہ تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا بند کرے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس۔ تصویر: آئی این این
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو وہائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ کی قیادت کی۔ پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کے پوڈیم کا کردار چھوڑنے کے بعد یہ پہلی بریفنگ تھی۔ اس میں وینس نے معیشت سے لے کر ایران کے ساتھ جاری تنازع سمیت مختلف موضوعات پر نامہ نگاروں سے بات کی۔ ایران جنگ میں امریکی شمولیت کے تقریباً ۶ ماہ بعد اور وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے خدشات، جیسے مسائل کے درمیان یہ بریفنگ سامنے آئی ہے۔ یہ بریفنگ مقررہ وقت سے ۴۵ منٹ کی تاخیر سے شروع ہوئی اور تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔
معیشت پر بات کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ پچھلی انتظامیہ کے دور میں مہنگائی جڑ پکڑ چکی تھی۔ وینس نے الزام تراشی پر توجہ مرکوز کرنے سے گریز کیا اور اس کے بجائے نئی فیکٹریوں کی تعمیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے معیشت کی جاری بحالی کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اگر ڈیموکریٹس دوبارہ اقتدار میں آئے تو ان کی پالیسیاں مہنگائی کی صورتحال کو مزید خراب کر دیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کی تصویر والے سکےکی چو طرفہ مذمت، سوشل میڈیا پر ٹرول، اسے ’’آزادی کی موت‘‘ قرار دیاگیا
وینس نے اس بات کی تردید کی کہ موجودہ امریکی پالیسی کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں خلل پڑا ہے یا اس کی وجہ سے کوئی توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو توانائی کی عالمی قلت کو روکنے کا کریڈٹ دیا۔ انہوں نے اس موقع پر ایران پر زور دیا کہ وہ تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا بند کرے۔
محکمہ دفاع میں ہلچل کے بارے میں پوچھے جانے پر، وینس نے کہا کہ وہ فوجی کلچر کو نئی شکل دینے کیلئے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی کوششوں سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے ”دجال“ (antichrist) کے حوالے سے گزشتہ روز دیئے گئے ایک متنازع بیان پر بھی بات کی، حالانکہ بریفنگ کے دوران اس بیان کی ازسرِ نو جانچ پڑتال کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ ایران جنگ ختم کرنے کیلئے صلاح مشورہ کر رہے ہیں؟
نائن الیون (9/11) کی سالگرہ کے موقع پر، وینس نے سابق صدر بائیڈن کے ساتھ نیویارک میں تقریبات میں شرکت کے منصوبوں کی تصدیق کی۔ ڈیٹا سینٹرز کی عوامی مخالفت کے بارے میں سوال کئے جانے پر، انہوں نے اس مخالفت کو امریکی بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق وسیع تر خدشات سے جوڑ کر پیش کیا اور ساتھ ہی ڈیٹا سینٹرز کو نئے ایٹمی بجلی گھروں کے ساتھ جوڑنے کے منصوبوں کا بھی حوالہ دیا۔
جنگ کے دورانیے کے بارے میں پوچھے جانے پر، وینس نے کہا کہ اس کے خاتمے سے متعلق سوالات ایران سے کئے جانے چاہئیں۔ ان کے اس تبصرے کو نامہ نگاروں کی جانب سے فوری طور پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ۲۰۲۸ء کے صدارتی امیدواروں سے متعلق قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ بدستور مڈ ٹرم انتخابات پر مرکوز ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انتہا پسند اسرائیلی وزیرکا ۱۸؍ لاکھ فلسطینیوں کی غزہ سے بےدخلی کا ۷؍ سالہ منصوبہ
وینس کی حالیہ وائٹ ہاؤس پریس بریفنگ پر سوشل میڈیا کا ردِعمل شدید طور پر منقسم رہا
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وینس کے حامیوں نے انہیں فصیح و بلیغ، واضح، ذہین اور کسی اسکرپٹ کے بغیر بولنے والا قرار دے کر ان کی ستائش کی۔ انہوں نے کال لسٹ کے منظم استعمال، ایران، معیشت اور وسط مدتی انتخابات پر سیدھی وضاحتوں کو پسند کیا اور وینس کو قابل اور اعلیٰ ذہانت (high-IQ) کا حامل شخص قرار دیا۔
تاہم ناقدین نے وینس کے لہجے کو خود پسند، پُرتکلف، مغرور اور متکبرانہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ بہت سے لوگوں نے نائن الیون کی سالگرہ پر جو بائیڈن کے ساتھ ”وقت گزارنے“ سے متعلق ان کے طنزیہ مذاق کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے بے حسی، توہین آمیز اور قابلِ رحم قرار دیا، خاص طور پر بائیڈن کی صحت کے مسائل کے پیشِ نظر اس تبصرے کو ناپسند کیا گیا۔ کئی افراد نے اس بریفنگ کو جھوٹ کا پلندہ، بیزار کن، یا تحقیر آمیز قرار دے کر مسترد کر دیا۔