EPAPER
Updated: September 04, 2026, 9:36 PM IST | Usaid Ashhar | Mumbai
۱ء۴۵؍فیصد طلبہ نے اس نکتے پر توجہ دلائی کہ نصاب میں خرچ اور بچت میں توازن کے متعلق نہیں بتایا جاتا۔
پیسے کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے۔
جیب خرچ اور کمائی میں فرق!
مالی اہداف کا تعین کریں۔
قرض لینے سے بچیں۔
پیسہ کیا ہے؟
نصاب سے ایک ایسا موضوع، جس سے ہمارا واسطہ زندگی بھر پڑنے والا ہے، یکسر غائب ہے۔ وہ ہے ’’پیسہ‘‘۔ یہ کوئی نہیں سکھاتا کہ بینک اکاؤنٹ کیا بلا ہے، جیب خرچ کیسے سنبھالیں، قرض کے جال اور فضول خرچی سے کیسے بچیں اور نہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ پیسے اور خوشی کا اصل رشتہ کیا ہے۔ پیسہ ایک ذریعہ ہے جس سےہم کوئی چیز یا خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔ اصل چیز کاغذی کرنسی نہیں بلکہ وہ اعتماد ہے جو معاشرہ اس نظام پر رکھتا ہے۔ جب ہم پیسے کو محض ایک اوزار سمجھتے ہیں، نہ کہ زندگی کا جزولاینفک، تو ہمارا رویہ اس کے تئیں بدل جاتا ہے۔ اوزار کو ضرورت کے وقت استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر آپ کی تمام مالی سمجھ بوجھ کھڑی ہونی چاہئے۔
جیب خرچ اور کمائی میں فرق
بیشتر طلبہ جیب خرچ کو اس طرح خرچ کرتے ہیں گویا یہ کبھی ختم نہ ہونے والا خزانہ ہو۔ حقیقت میں یہ والدین کی محنت کی کمائی کا ایک حصہ ہے جو انہیں سونپا جاتا ہے۔ جیب خرچ اور خود کے کمائے ہوئے پیسوں میں ایک نفسیاتی فرق ہوتا ہے، جو خود کماتا ہے وہ اس کی قدر زیادہ سمجھتا ہے۔ اسی لئے طلبہ کو کوشش کرنی چاہئے کہ کالج کے دور سے ہی کوئی نہ کوئی چھوٹا کام، ٹیوشن پڑھانا یا آن لائن ہنر سیکھ کر کمانا شروع کیا جائے۔ اس سے انہیں نہ صرف پیسے کی قدر معلوم ہوگی بلکہ یہ احساس بھی ہوگا کہ پیسہ پیڑ پر نہیں اُگتا بلکہ وقت اور محنت کے بدلے ملتا ہے۔ خیال رہے کہ یہی احساس آگے چل کر ذمہ داری سے خرچ کرنے کی عادت کو مضبوط بناتا ہے۔
مالی اہداف کا تعین ضروری
اگر آپ منزل کا تعین کئے بغیر ہی سفر کیلئے نکل پڑیں تو بہت ممکن ہے کہ بھٹک جائیں گے۔ ہدف کے بغیر خرچ کرنے والا بھی فضول خرچی کی بھول بھلیوں میں بھٹک جاتا ہے۔ اس لئے خرچ اور بچت کیلئے اہداف طے کرنا ضروری ہے۔ خود سے پوچھیں کہ آپ کس مقصد کیلئے پیسہ خرچ یا جمع کر رہے ہیں۔ مالی اہداف کی دو اقسام ہیں :(۱)قلیل مدتی اہداف، مثلاً اگلے ہفتے یا مہینے کیلئے کوئی چھوٹی خواہش۔ (۲)طویل مدتی اہداف، مثلاً کالج کی سالانہ فیس یا بیرونِ ملک تعلیم کا خواب۔ جب ہدف واضح ہو تو رقم بچانا مشکل نہیں لگتا، کیونکہ ہر بار جیب میں پیسہ آنے پر ذہن میں منزل کا خیال موجود ہوتا ہے۔
قرض کا بوجھ
قرض شروع میں بہت آسان اور پرکشش لگتا ہے۔ دوست سے پانچ سو روپے مانگنا، ’’ابھی خریدیں بعد میں ادا کریں ‘‘ کی سہولت سے فائدہ اٹھانا، کریڈٹ کارڈ سے خریداری کرنا، اس کی مختلف شکلیں ہیں۔ قرض ایک ایسا سایہ ہے جو رقم واپس کرنے تک ذہن پر چھایا رہتا ہے۔ چھوٹی عمر میں لیا گیا قرض دوستی خراب کرسکتا ہے اور ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ قرض کی عادت پڑ جاتی ہے۔ انسان سوچتا رہتا ہے کہ اگلی دفعہ سنبھل جاؤں گا، مگر یہ سلسلہ کبھی رکتا نہیں۔ اسی لئے قرض کو آخری راستے کے طور پر دیکھنا چاہئے، عمومی حل کے طور پر نہیں۔ اپنی چادر کے حساب سے پاؤں پھیلائیں۔
نصاب میں مالی تعلیم کی کمی
نصاب میں پیسے کی سمجھ بوجھ اور ذاتی مالیات کا موضوع نہیں ہے۔ بچت کیسے کریں، بجٹ کیسے بنائیں، بینک اکاؤنٹ کیا ہوتا ہے، ٹیکس کیا ہوتا ہے، جیسے سیکڑوں سوالوں کے جوابات ہمیں خود تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر پڑھے لکھے اور شاندار ڈگریاں رکھنے والے لوگ بھی مالی معاملات میں غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں۔ اس خلاء کو پُر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم خود کتابوں، یوٹیوب یا بڑوں سے رہنمائی لے کر ذاتی مالیات کا علم حاصل کریں، کیونکہ جب تک نصاب نہیں بدلتا، یہ ذمہ داری ہمیں خود اٹھانی پڑے گی۔
پیسہ اور خوشی کا اصل رشتہ
یہ سوچنا آسان ہے کہ جتنا زیادہ پیسہ، اتنی زیادہ خوشیاں۔ مگر تحقیق اور تجربہ دونوں یہی بتاتے ہیں کہ ایک حد کے بعد پیسہ خوشی نہیں بڑھاتا۔ ضرورت پوری ہونے کے بعد اضافی پیسہ دکھاوے یا موازنے کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ ایسا خاص طور پر تب ہوتا ہے جب ہم سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگی سے اپنا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ حقیقی اطمینان اس وقت ملتا ہے جب پیسہ ضرورت کے مطابق ہو، مستقبل کیلئے تھوڑا پیسہ محفوظ ہو اور دل میں لالچ کے بجائے قناعت ہو۔ یاد رکھیں کہ پیسہ ایک اچھا نوکر ہے مگر اسے آقا بنا لیا جائے تو یہ نہایت برا ثابت ہوتا ہے۔
ان نکات پر توجہ دیں
بجٹ بنانا سیکھیں
ہر ماہ اپنی آمدنی اور اخراجات کا حساب لکھیں۔ بجٹ آپ کو غیر ضروری خرچ سے بچا کر مالی نظم و ضبط پیدا کرتا ہے۔ چھوٹی بچت بھی بڑا مالی سہارا بن سکتی ہے۔
ضرورت اور خواہش
ہر چیز خریدنے سے پہلے خود سے سوال کریں کہ یہ واقعی میری ضرورت ہے یا صرف خواہش۔ یہ عادت فضول خرچی کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
خرچ کا ریکارڈ رکھیں
روزانہ ہونے والے اخراجات کو نوٹ کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ اس سے غیر ضروری اخراجات کی نشاندہی آسان ہوتی ہے۔
بینکنگ کی بنیادی باتیں
بینک اکاؤنٹ، اے ٹی ایم، یوپی آئی اور بینک چارجز جیسی بنیادی معلومات حاصل کریں۔ مالی معاملات میں علم آپ کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے۔
قرض سے محتاط رہیں
ضرورت کے بغیر قرض یا ادھار لینے سے گریز کریں اور ہمیشہ واپسی کی صلاحیت کو سامنے رکھیں۔ بڑھتا ہوا قرض مالی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
آن لائن فراڈ سے بچیں
اپنا او ٹی پی، پِن، پاس ورڈ یا بینک کی حساس معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ مشکوک لنکس، کالز اور فوری منافع کے دعوؤں سے ہمیشہ محتاط رہیں۔