• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مطالعہ، ذہنی یکسوئی اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھانے میں اہم

Updated: September 04, 2026, 9:18 PM IST | Farhat Mushtaq Shaikh | Mumbai

۹ء۴۴؍فیصد طلبہ نے بتایا کہ انہیں نصاب میں اس چیز کی جانب رہنمائی نہیں ملتی کہ کس طرح نصاب سے باہر بھی علم کی ایک دنیا ہے جس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

Symbolic image: iStock
علامتی تصویر: آئی اسٹاک

کتابیں نئی دنیا کا دروازہ ہوتی ہیں۔ 
ان کا مطالعہ ہمارے ذہن کو چیلنج کرتا ہے۔
مطالعہ توجہ مرکوز کرنے میں اہم ہے۔ 
فکشن اور نان فکشن دونوں ہی اہم ہیں۔

کتابیں ؛ نئی دنیا کا دروازہ
علم کی دنیا اتنی وسیع ہے کہ اسے چند نصابی کتابوں کے صفحات میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ نصاب امتحان کے سوالات کے جواب دیتا ہے مگر غیر نصابی کتابیں زندگی کو سمجھنے کا ہنر دیتی ہیں۔ طالب علم جب نصاب سے باہر قدم رکھتا ہے تو اس کے سامنے نئی دنیا کھلتی ہے؛ ایسی دنیا جہاں کردار زندہ محسوس ہوتے ہیں۔ کتابیں خاموش اساتذہ ہیں جو انسان کی سوچ بدلتےہیں۔ چند صفحات پوری زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔ مطالعہ شوق نہیں، شخصیت سازی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ 
توجہ کی صلاحیت اور کتابیں 
آج دنیا بھر کی معلومات ہمارے ہاتھ میں ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ذہن میں علم بھی ہے؟ موبائل اسکرین پر سیکڑوں ویڈیوز دیکھے جا سکتے ہیں لیکن چند صفحات توجہ سے پڑھنا مشکل لگتا ہے۔ مختصر ویڈیوز ہمیں سوچ بچار کرنے سے دور کررہے ہیں۔ یہ غلطی ہر خاص و عام کررہا ہے۔ طلبہ کو یہ بھی ذہن نشین رہے کہ نصاب ضرورت ہے مگر نصاب سے باہر کا مطالعہ وسعتِ نظر۔ صرف معلومات جمع کرنا علم نہیں ؛ معلومات کو سمجھنا، پرکھنا اور زندگی میں استعمال کرنا اصل علم ہے۔ 
فکشن، نان فکشن؛ دونوں ضروری
فکشن دوسروں کے جذبات محسوس کرنا سکھاتا ہے، سوانح عمری جدوجہد کی حقیقت دکھاتی ہے اور غیر افسانوی کتابیں دنیا کو دلیل اور حقیقت کی نظر سے دیکھنا سکھاتی ہیں۔ یوں کتابیں ذہن میں مختلف کھڑکیاں کھولتی ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے ہم اپنی جگہ بیٹھے رہتے ہیں مگر ہماری سوچ زمانوں اور سرحدوں کا سفر کرتی ہے۔ یہی مطالعے کا کمال ہے کہ وہ ہمیں محدود دنیا سے نکال کر وسیع انسانی تجربے سے جوڑ دیتا ہے۔ مختلف کردار ہمیں زندگی کے اہم پہلو سے روشناس کرواتے ہیں۔ 
موبائل ضرورت، کتاب عادت
اکثر طلبہ کہتے ہیں : ’’پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ ‘‘ حقیقت یہ ہے کہ وقت کم نہیں، ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں۔ ہم سوشل میڈیا ایپس پر گھنٹوں گزار سکتے ہیں، لیکن کتاب کیلئے ۲۰؍ منٹ نکالنا مشکل سمجھتے ہیں۔ مطالعے کیلئے کسی خاص دن یا لمبے وقت کا انتظار ضروری نہیں۔ سفر میں، سونے سے پہلے یا موبائل استعمال کرنے کے درمیان چند صفحات پڑھے جا سکتے ہیں۔ ابتدا کسی دلچسپ ناول، سوانح یا معلوماتی کتاب سے کی جا سکتی ہے۔ یاد رکھئے! قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ اسی طرح صفحہ صفحہ علم کا ذخیرہ بنتا ہے۔ آج کے طالب علم کو موبائل کو ضرورت کے مطابق اور کتاب کو عادت کے مطابق استعمال کرنا سیکھنا ہے۔ 
نئے راستوں کی تلاش کیلئے مطالعہ
مطالعہ کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ آپ کتنی کتابیں پڑھ چکے ہیں بلکہ یہ ہے کہ کتنی کتابوں نے آپ میں تبدیلی لائی ہے۔ اچھی کتاب ہماری رائے کو چیلنج کرتی ہے اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔ نصاب بتاتا ہے کہ کیا پڑھنا ہے، مگر وسیع مطالعہ سکھاتا ہے کہ کیسے سوچنا ہے۔ یہی فرق ایک عام طالب علم اور ایک باشعور طالب علم کے درمیان ہوتا ہے۔ آج ہمیں ڈگری حاصل کرنے والے نوجوان نہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے والے انسان درکار ہیں۔ اس لئے کتاب کو امتحان کے بعد بند نہ کریں، اسے زندگی کا ساتھی بنائیں۔ نصاب منزل کا راستہ دکھاتا ہے مگر مطالعہ نئے راستے تلاش کرنا سکھاتا ہے۔

ان نکات پر توجہ دیں

مطالعے کا وقت مقرر کریں 
دن میں صرف۲۰؍ سے۳۰؍ منٹ کتاب کیلئے مخصوص کریں۔ مستقل مزاجی سے پڑھنے کی یہ چھوٹی عادت آگے چل کر علم کا بڑا خزانہ بن جاتی ہے۔ 
فکشن سے تخیل بڑھائیں 
ناول اور افسانے پڑھنے سے ذہن نئے کرداروں، دنیاؤں اور حالات کا تصور کرتا ہے۔ اس سے تخلیقی صلاحیت اور سوچنے کا انداز بہتر ہوتا ہے۔ 
مختلف نقطۂ نظر جانیں 
صرف اپنی پسند کے خیالات پڑھنے کے بجائے مختلف مصنفین اور نظریات کو بھی سمجھیں۔ اس سے برداشت، تنقیدی سوچ اور وسیع النظری پیدا ہوتی ہے۔ 
الفاظ کا ذخیرہ وسیع کریں 
اچھی کتابیں پڑھنے سے نئے الفاظ، محاورے اور اظہار کے خوب صورت انداز سیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کا اثر بولنے، لکھنے اور گفتگو کی صلاحیت پر بھی پڑتا ہے۔ 
مطالعہ کے بعد غور کریں 
ہر کتاب ختم کرنے کے بعد چند منٹ یہ سوچنے میں لگائیں کہ اس سے کیا سیکھا۔ اہم خیالات کو نوٹ کرنے سے مطالعہ زیادہ بامعنی اور دیرپا بن جاتا ہے۔ 
کتاب کو اپنا ساتھی بنائیں 
کتابوں کو امتحان کی تیاری تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں زندگی کا حصہ بنائیں۔ جب مطالعہ شوق بن جائے تو علم، تخیل اور شخصیت تینوں پروان چڑھتے ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK