Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہم خواب میں حقیقت اور تصور میں فرق نہیں کر پاتے، کیوں؟

Updated: April 10, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

خواب کے دوران ہمارا شعور کم ہو جاتا ہے۔ ہم مکمل طور پر خود آگاہ (selfaware) نہیں ہوتےجس کی وجہ سے یہ نہیں پہچان پاتے کہ ہم خواب دیکھ رہے ہیں۔

Different parts of the brain are working differently during sleep. Photo: INN
نیند میں دماغ کے مختلف حصے مختلف انداز میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

انسانی شعور بیداری میں ہمیں حقیقت اور وہم کے درمیان واضح فرق کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، مگر نیند کی حالت میں یہی شعور ایک مختلف رخ اختیار کر لیتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہم خواب میں حقیقت اور تصور میں فرق کیوں نہیں کر پاتے؟
دماغ کی فعالیت میں تبدیلی 
جب ہم سوتے ہیں، خاص طور پر خواب کے مرحلے میں، دماغ کا وہ حصہ جو منطق، تجزیہ اور فیصلہ سازی کیلئے ذمہ دار ہوتا ہے یعنی پری فرنٹل کارٹیکس کم فعال ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جذبات اور تخیل سے متعلق حصے، جیسے کہ ایمیگڈالا، زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے خواب میں ہم غیر منطقی اور عجیب و غریب مناظر کو بھی حقیقت سمجھ لیتے ہیں، کیونکہ ہمارا’’تنقیدی سوچنے والا نظام‘‘ عارضی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ 
’’آر ای ایم‘‘ اور خوابوں کی شد ت 
نیند کے مختلف مراحل ہوتے ہیں، لیکن خواب زیادہ تر’ ’آر ای ایم‘‘(Rapid Eye Movement)مرحلے میں آتے ہیں۔ اس دوران دماغ تقریباً جاگنے جیسی حالت میں ہوتا ہے، آنکھیں تیزی سے حرکت کرتی ہیں اور جسم مفلوج ہوتا ہے تاکہ ہم خواب کو عملی شکل نہ دیں اس مرحلے میں دماغ حقیقت جیسی تصویریں، آوازیں اور احساسات پیدا کرتا ہے، جو ہمیں مکمل طور پر ’’حقیقی‘‘ لگتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: تیل کے ٹینکرعموماً بیضوی ہوتے ہیں، کیوں ؟

حسی تجربات کی حقیقت جیسی کیفیت 
خواب میں ہم نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ سن سکتے ہیں، چھو سکتے ہیں اور کبھی کبھی خوشبو یا ذائقہ بھی محسوس کرتے ہیں۔ یہ سب حسی تجربات اتنے واضح ہوتے ہیں کہ دماغ انہیں اصل دنیا سے الگ نہیں کر پاتا۔ چونکہ بیرونی دنیا سے آنے والے حسی سگنلز کم ہو جاتے ہیں، دماغ اپنی’’اندرونی دنیا‘‘ کو ہی حقیقت مان لیتا ہے جس کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ 
یادداشت اور حقیقت کا ملاپ 
خواب اکثر ہماری یادداشتوں، خیالات اور جذبات کا ملاپ ہوتے ہیں۔ دماغ مختلف یادوں کو جوڑ کر ایک نئی کہانی بنا دیتا ہے۔ چونکہ یہ یادیں اصل زندگی سے لی گئی ہوتی ہیں، اس لئے خواب ہمیں حقیقی لگتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر وہ منطقی نہ ہوں تب بھی۔ 
شعور کی سطح میں کمی
خواب کے دوران ہمارا شعور کم ہو جاتا ہے۔ ہم مکمل طور پر خود آگاہ (selfaware) نہیں ہوتےجس کی وجہ سے یہ نہیں پہچان پاتے کہ ہم خواب دیکھ رہے ہیں۔ البتہ کچھ لوگوں کو ’’لوسڈ ڈریمنگ‘‘(lucid dreaming)کا تجربہ ہوتا ہے جس میں وہ خواب کے اندر رہتے ہوئے بھی اچھی طرح جان لیتے ہیں کہ وہ خواب دیکھ رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK