• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کمرے میں پہنچ کر یاد نہیں رہتا کہ کس کام سےآئے تھے، کیوں؟

Updated: October 30, 2026, 5:28 PM IST | Mumbai

’ڈور وے ایفیکٹ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے اپنے فوری مقصد کو عارضی طور پر بھول جاتا ہے۔

Forgetting something occasionally is not necessarily a sign of a weak memory. Image: INN
کبھی کبھار کسی کام کو بھول جانا لازماً کمزور یادداشت کی علامت نہیں ہوتی۔ تصویر: آئی این این

کبھی آپ کسی کام سے دوسرے کمرے میں جاتے ہیں لیکن وہاں پہنچتے ہی بھول جاتے ہیں کہ کس مقصد سے آئے تھے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ واپس پچھلے کمرے میں آتے ہی وہی بات دوبارہ یاد آجاتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
ڈوروے ایفکیٹ (Doorway Effect)
نفسیات میں اسے ’’دروازے کا اثر‘‘ (Doorway Effect) کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک اہم وضاحت یہ ہے کہ ہمارا دماغ مختلف جگہوں اور حالات کو یادداشت کے الگ الگ حصوں سے جوڑتا ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا بعض اوقات ذہن میں موجود معلومات تک رسائی کو عارضی طور پر مشکل بنا دیتا ہے۔ ’ڈور وے ایفیکٹ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے اپنے فوری مقصد کو عارضی طور پر بھول جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص مطالعے کے کمرے میں بیٹھا ہے اور اچانک یاد آتا ہے کہ دوسرے کمرے سے قلم لینا ہے۔ وہ اٹھتا ہے، دروازہ عبور کرکے دوسرے کمرے میں پہنچتا ہے لیکن اب یاد نہیں آتا کہ وہاں کیوں آیا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسےذہن میں موجود خیال اچانک غائب ہوگیا ہو۔

یہ بھی پڑھئے: صابن سے دھونے پر چکنائی آسانی سے نکل جاتی ہے، کیوں؟

دماغ دروازے کو ایک ذہنی حد کیوں سمجھتا ہے؟
انسانی دماغ ماحول کو سمجھنے اور روزمرہ کے تجربات کو منظم کرنے کیلئے مختلف ذہنی حصوں یا واقعاتی اکائیوں میں تقسیم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، ناشتے کی میز پر بیٹھ کر ناشتہ کرنا، مطالعے کی میز پر پڑھنا اور باورچی خانے میں کھانا بنانا، دماغ کیلئے مختلف سرگرمیاں ہیں۔ ہر سرگرمی کے ساتھ مخصوص مقاصد، معلومات اور یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ جب ہم ایک کمرے سے دوسرے میں داخل ہوتے ہیں تو ماحول بدل جاتا ہے۔ فرنیچر، روشنی، سامنے موجود اشیا اور اردگرد کے مناظر میں تبدیلی دماغ کو ایک نئی صورتِ حال کا احساس دلا سکتی ہے۔ بعض اوقات یہ تبدیلی پہلے سے ذہن میں موجود ارادے کو پس منظر میں دھکیل دیتی ہے۔ یوں دروازہ عبور کرنا محض جسمانی حرکت نہیں رہتا بلکہ ذہنی طور پر بھی ایک سرگرمی سے دوسری سرگرمی کی طرف منتقلی کا اشارہ بن سکتا ہے۔ 
کیا یہ کمزور یادداشت کی علامت ہے؟
اگر کوئی کبھی کبھار کمرے میں داخل ہوکر اپنا کام کا مقصد بھول جاتا ہے لیکن کچھ دیر بعد یاد آجانے پر اپنا کام مکمل کرلیتا ہے، تو عموماً اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ روزمرہ کی معمول کی بھول چوک ہوسکتی ہے، خصوصاً جب کوئی تھکا ہوا ہو، نیند پوری نہ ہوئی ہو، ذہن میں بہت سی باتیں چل رہی ہوں یا آپ بیک وقت کئی کام کررہے ہوں۔ البتہ اگر بھولنے کی شکایت مسلسل بڑھ رہی ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا مناسب ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK