اسکول پھر بند ہوگئے، امتحان قریب ہے،اب طلبہ کیا کریں ؟

Updated: January 07, 2022, 7:00 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

امتحانات میں محض چند مہینے باقی رہ گئے ہیں اس لئے ذہنی یکسوئی پر خاص توجہ دیں اور اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کے غیر ضروری استعمال سے ہر ممکن گریز کریں نیز اپنی صحت کا خیال رکھیں۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کورونا وائرس (کووڈ۔۱۹) اور اس کی نئی قسم اومائیکرون کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر ریاستی حکومت نے اسکولوں کو ایک مرتبہ پھر بند کردینے کی ہدایت جاری کی۔ لہٰذا آف لائن تعلیم بند ہوگئی اورآن لائن تعلیم کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا۔ خیال رہے کہ دسیوں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی آف لائن تعلیم جاری ہے۔ تاہم، کے جی تا نہم اور گیارہویں جماعت کے طلبہ آن لائن تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ ممبئی میں اسکولیں چند ماہ قبل ہی شروع ہوئی تھیں ، اورطلبہ کے ساتھ والدین اور اساتذہ نے بھی راحت کا سانس لیا تھا کہ اب درس و تدریس آسان ہوجائے گی۔ لیکن چند دنوں بعد ہی کووڈ۔۱۹؍ کی تیسری لہر زور پکڑنے لگی۔ چنانچہ صحت اور حفاظتی انتظامات کے پیش نظر حکومت نے اسکولیں بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ جنوری شروع ہوگیا ہے اور ۳؍ سے ۴؍ مہینے بعد سالانہ امتحان کا آغاز ہوجائے گا۔ وقت کم ہے اس لئے اب طلبہ کو پڑھائی کی جانب توجہ مرکوز کرنی ہوگی، ساتھ ہی انہیں اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا ہے۔ کئی طلبہ اب بھی اسی سوال میں الجھے ہوئے ہیں کہ سالانہ امتحان آن لائن ہوگا یا آف لائن؟ طلبہ کو ان باتوں پر توجہ نہ دیتے ہوئے صرف اور صرف پڑھائی پر دھیان دینا چاہئے کیونکہ اس جماعت میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہی وہ اگلی جماعتوں میں جائیں گے۔ چونکہ آپ طالب علم ہیں اس لئے علم حاصل کرنے کی فکر کریں ۔ ایسے میں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب پڑھائی کس طرح کی جائے! طلبہ اِن نکات پر غور کریں ۔
ٹائم ٹیبل بنانا وقت کی اہم ضرورت
 سالانہ امتحان میں چونکہ وقت کم رہ گیا ہے اس لئے سب سے پہلے اپنا ذاتی ٹائم ٹیبل بنائیں ۔ اسکول میں آپ کم سے کم ۵؍ گھنٹے تعلیم حاصل کرتے تھے اور اس کے بعد سیلف اسٹڈی کرتے تھے یا ٹیوشن جاتے تھے۔ لیکن اب آن لائن کلاسیں دوبارہ شروع ہوگئی ہیں اس لئے اسکول کا وقت کم ہوگیا ہے۔ علاوہ ازیں ، اسکول جانے اور آنے کے وقت بھی بچے گا۔ اس لئے وقت کا صحیح استعمال کرنے کیلئے ٹائم ٹیبل بنالیں ۔ مثال کے طور پر صبح ۵؍ بجے بیدار ہوجائیں ، نماز ادا کریں ، تھوڑی دیر پڑھائی کریں ،ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد ناشتہ کریں ، آن لائن کلاس میں شرکت کریں ، سیلف اسٹڈی کریں ، وغیرہ۔
 ٹائم ٹیبل بناتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ تمام مضامین کو یکساں وقت نہ دیں ۔ جو مضامین آپ کیلئے آسان ہیں ان کیلئے کم وقت مختص کریں جبکہ جو مضامین آپ کو مشکل معلوم ہوتے ہیں ، انہیں زیادہ وقت دیں ۔اس طرح آپ ہر مضمون کے ساتھ صحیح طریقے سے انصاف کرسکیں گے۔
اسٹڈی کارنر 
 ممبئی میں گھر چھوٹے ہوتے ہیں اس لئے طلبہ کا پڑھائی کیلئے کوئی علاحدہ کمرہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا گھر ہی کے کسی گوشہ کو اپنا ’’اسٹڈی کارنر‘‘ بنالیں ۔ اور روزانہ یہیں پر بیٹھ کر پڑھائی کریں ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھروں پر مہمان یا رشتہ دار آجاتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کا اسٹڈی ٹائم متاثر ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب آپ ٹائم ٹیبل بنائیں تو مہمانوں کے آنے میں اوقات میں اپنے آپ کو خالی رکھیں ۔ اسے مہمانوں اور رشتہ داروں کیلئے مختص کردیں ۔ مسلسل پڑھائی سے انسان اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ ذہنی تفریح بھی ضروری ہے، اور مہمانوں ، رشتہ داروں اور گھروالوں کے ساتھ تھوڑا وقت گزارنا آپ کی ذہنی صحت پر خوشگوار اثرات ڈال سکتا ہے۔
سیلف اسٹڈی
 ہر طالب علم کے نزدیک سب سے اہم سیلف اسٹڈی ہونا چاہئے۔سیلف اسٹڈی کے ذریعے آپ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بہتر طریقےسے سمجھ پاتے ہیں ، اور اس کی بنیاد پر آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ دوستوں اور اساتذہ سے کون سے سوال پوچھنا ہے۔ ہر جماعت کے طلبہ کیلئے یہ بہت اہم ہے، خاص طور پر دسویں اور بارہویں جماعتوں کے طلبہ کیلئے۔ اس لئے اپنے اسٹڈی کارنر میں سیلف اسٹڈی کریں ۔اپنے دوستوں اور بہن بھائیوں کو بھی اس کی ترغیب دیں ۔
گروپ اسٹڈی، ویڈیو کال پر 
 وبائی حالات میں گروپ اسٹڈی ممکن نہیں ہے لیکن سماجی فاصلہ کا خیال رکھتے ہوئی گروپ اسٹڈی کرنا ممکن ہے۔ لیکن اگر مشکلات پیش آرہی ہیں تو تکنالوجی کا سہارا لیں ۔ آپ ویڈیو کال پر گروپ اسٹڈی کرسکتے ہیں ۔ چند دوستوں کا ایک گروپ بنالیں اور ٹائم ٹیبل میں یہ بھی شامل کریں کہ ۲۴؍ گھنٹے میں کسی مخصوص وقت پر گروپ کے تمام ممبران ویڈیو کال کریں گے اور دن بھر جو پڑھائی کی ہے اس پر ڈسکشن کریں گے۔ 
 سیلف اسٹڈی کے دوران کوئی کانسپٹ آپ کو نہیں سمجھ میں آتا ہے تو اسے نوٹ کرلیں ، ویڈیو کال کے دوران اپنے دوستوں سے اسے پوچھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں ۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ویڈیو کال صرف پڑھائی سے متعلق امور کیلئے مختص ہوگا۔
چہل قدمی اور ذہنی تفریح
 اپنے آپ کو گھر میں قید نہ کریں بلکہ کووڈ۔۱۹؍ کی شرائط و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے دن بھر میں ایک مرتبہ چہل قدمی کیلئے باہر جائیں یا گھر ہی میں کسرت وغیرہ کریں ۔ مضبوط دماغ کیلئے ورزش بہت ضروری ہے۔ اس سے آپ کی یادداشت بہتر ہوتی ہے۔ اگر آپ جسمانی سرگرمیوں میں جیسے کھیل کود وغیرہ میں نہیں شامل ہوں گے تو ذہنی اور جسمانی طور پر متاثر ہوں گے۔ تازہ ہوا دماغ اور جسم دونوں کیلئے اہم ہے اس لئے گھر کی چھت یا کالونی کے پارک میں تھوڑا وقت گزاریں ۔ لیکن کووڈ۔۱۹؍ کے تمام حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کا خاص خیال رکھیں ۔ 
اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ سے دوری
 آن لائن کلاسیز ہونے کے سبب اب طلبہ کا زیادہ تر وقت اسمارٹ فون پر گزرتا ہے۔ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ موبائل فون پر اتنا وقت ہی گزاریں جتنا ضروری ہے۔ گیم یا سوشل میڈیا پر وقت گزاری کرنے سے بچیں ۔ مسلسل فون اور انٹرنیٹ استعمال کرنے سے آپ مختلف بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں ۔
کتابیں اور موسیقی
 اگر پڑھائی کرتے کرتے آپ اکتاہٹ کا شکار ہوجائیں تو کوئی کتاب پڑھ لیں یا تھوڑی دیر موسیقی سن لیں ۔ کتاب پڑھنے سے آپ کچھ دیر کیلئے نصابی پڑھائی سے دور ہوجائیں گے جو انسانی دماغ کیلئے ضروری بھی ہے۔ غیر نصابی کتابیں پڑھنے سے نہ صرف آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا بلکہ مطالعہ کی عادت بھی پروان چڑھے گی۔
صحت کو نظر انداز نہ کریں 
 بیشتر طلبہ پڑھائی میں اتنا محو ہوجاتے ہیں کہ اپنی صحت کی جانب بالکل توجہ نہیں دے پاتے۔ کبھی کبھی اس کے منفی اثرات برآمد ہوتے ہیں ، مثلاً امتحان والے دن بیمار ہوجانا، کمزوری کے باعث باتیں نہ یاد رکھ پانا وغیرہ۔ اس لئے جتنی ضروری پڑھائی ہے اتنی ہی اہم صحت بھی ہے۔ اگر آپ کم عمری ہی سے اپنی صحت کی جانب توجہ دیں گے تو آپ کا امیونٹی سسٹم مضبوط ہوگا اور آپ چھوٹی بڑی بیماریوں سے محفوظ رہیں گے۔
 ہر گزرتے دن کے ساتھ کورونا وائرس کی ایک نئی قسم دریافت ہورہی ہے اس لئےآپ کا صحت کا تئیں بیدار رہنا بہت ضروری ہے۔ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے گھر والوں کی بھی صحت کی جانب توجہ دیں اور انہیں اس کے تئیں ہوشیار کریں ۔
 درج بالا نکات پر عمل کرکے آپ اپنی تعلیم اور صحت کو متاثر ہونے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK