ہوشیار بگلا

Updated: May 07, 2022, 11:38 AM IST | Idris Siddiqui | Mumbai

بگلے کو شکار کرتے ہوئے آپ سبھی نے دیکھا ہوگا مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ بگلا ایک پاؤں پر کھڑا ہو کر مچھلیوں کا شکار کیوں کرتا ہے، آخر یہ ترکیب اس نے کس سے سیکھی؟

Smart heron.Picture:INN
ہوشیار بگلا۔ تصویر: آئی این این

بگلا دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد بڑی مشکل سے دوچار چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کا شکار کر پاتا ہے۔ آس پاس کی ندی، نالوں اور جھیلوں کی مچھلیاں بھی چالاک ہوچکی ہیں۔ وہ بگلے کی چونچ سے بچنے کیلئےپانی کے اندر تیرتی رہتیں۔ بگلا بھاگتے دوڑتے تھک جاتا۔ اوپر سے مچھلیاں بھی بہت کم شکار کر پاتا۔ اب اسے اکثر بھوکے رہنا پڑتا تھا۔  بچو! بگلا محنت کرنے سے نہیں گھبراتا۔ وہ جانتا ہے کہ ندی میں پڑے پتھروں پر سے جاتے ہوئے پانی میں بھی مچھلیاں ہوتی ہیں۔ اسی لئے وہ پتھروں کے اوپر کھڑا ہوجاتا اور اس پر سے بہتے ہوئے پانی میں مچھلیوں کا شکار کرنے کی کوشش کرتا۔ کبھی کبھی تو مچھلی بچ کر نکل جاتی مگر بگلے کی چونچ پتھر سے ضرور ٹکراتی تو وہ درد کے مارے آنسو بہانے لگتا۔ ایک بار پتھروں پر سے بہتے پانی میں مچھلی پکڑ نے کیلئے اس نے تیزی سے چونچ ماری۔ مچھلی تو نکل گئی لیکن بگلے کی چونچ زور سے پتھر سے ٹکرائی۔ بگلے کی چونچ کافی زخمی ہوگئی اور وہ کئی دنوں تک شکار نہیں کرسکا۔  لیکن اس نے کئی چڑیوں کو اوپر ہوا میں تیرتے ہوئے اچانک پانی میں غوطہ لگا کر مچھلی پکڑتے دیکھا۔ بگلے نے سوچا’’مجھے بھی اسی طرح شکار کرنا چاہئے۔‘‘  بھوک سے بچنے کیلئے اس نے یہ ترکیب بھی آزمائی۔ وہ پانی کے اوپر اڑتے ہوئے جیسے ہی کسی مچھلی کو پانی میں دیکھتا تو دھپ سے پانی پر گر کر شکار کرنے کی کوشش کرنے لگتا۔ لیکن چالاک مچھلیاں ادھر ادھر ہوکر نکل جاتیں یا کبھی پانی کی گہرائی میں جاکر شکار ہونے سے بچ جاتیں۔ 
 ادھر بگلا پانی میں غوطہ لگانے سے اتنا پانی پی جاتا کہ اس کا پیٹ غبارے کی طرح پھول جاتا۔ اس کے بعد بگلے کیلئے اڑنا مشکل ہو جاتا۔ ایک بار بگلے کے پیٹ میں اتنا پانی بھر گیا کہ وہ پانی میں پڑا رہ گیا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ بگلا پانی پر پڑے پڑے تیرتا رہا ورنہ ڈوب کر مرجانے کی نوبت آجاتی۔ اس کے بعد بگلے نے اڑتے ہوئے پانی میں مچھلیوں کا شکار کرنے سے توبہ کرلی۔ 
 ’’میں مچھلیوں کو کھائے بغیرہ زندہ کیسے رہوں گا۔‘‘ بگلا سوچنے لگا۔ ادھر ادھر کیڑے مکوڑے کھا کر پیٹ نہیں بھرتا۔ اسے زندہ رہنے کیلئے مچھلیوں کا شکار کرنا ضروری ہے۔ 
 ’’پھر کیا کروں؟‘‘ لیکن بگلے کی سمجھ میں کوئی ترکیب نہیں آئی۔ وہ بہت پریشان رہنے لگا۔ 
 ایک دن بگلا اڑتا ہوا ایک ندی کے پاس پہنچا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں کمر تک پانی میں ایک سادھو کھڑا ہے۔ سادھو اپنا ایک پیر اٹھا کر دوسرے گھٹنے پر ٹکاتے ہوئے صرف ایک پیر کے سہارے کھڑا ہے۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ سر کے اوپر لے جاتے ہوئے جوڑ رکھے ہیں۔ سادھو پانی میں ہلے بغیر چپ چاپ ایک پاؤں پر دھیان لگائے کھڑا ہوا ہے۔ پانی میں کوئی ہل چل نہیں ہونے کی وجہ سے کئی مچھلیاں سادھو کے پاس تیر رہی ہیں۔ کتنی ہی چھوٹی مچھلیاں سادھو کی اوپر اٹھی ہوئی ٹانگ کے نیچے تیرتے ہوئے جاتی دکھائی دے رہی ہیں۔ انہیں سادھو سے کوئی ڈر نہیں لگ رہا۔ دوسر، ان مچھلیوں کو پتا ہی نہیں لگ رہا کہ سادھو نے اپنا ایک پاؤں اٹھا رکھا ہے۔  ’’کتنی حیرانی کی بات ہے!‘‘ بگلا سوچنے لگا۔ میں جب پانی میں پاؤں ڈالے کھڑا ہوتا ہوں تو مچھلیاں کترا کر نکل جاتی ہیں۔ پھر گہرے پانی میں تیرنے لگتی ہیں جہاں میری چونچ نہیں پہنچ سکتی۔‘‘  پھر بگلا کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ ’’کیوں نہ میں بھی پانی میں اپنا ایک پیر ڈالے اور دوسرے اٹھائے چپ چاپ کھڑا رہوں؟ پھر مچھلیاں اس سے کترا کر نہیں نکلیں گی۔ اور انہیں مجھ سے ڈر بھی نہیں لگے گا۔‘‘  وہ پھر سے سادھو کو ایک پاؤں پر کھڑے دیکھتا رہا تاکہ کل وہ بھی اسی طرح پانی میں ایک پاؤںپر کھڑا ہوسکے۔ لیکن بگلا یہ دیکھ کر حیران رہ گیا’’ارے، سادھو نے اپنی آنکھیں بھی موند رکھی ہیں۔‘‘ اس کے منہ سے نکلا۔
 ’’اگر میں دونوں آنکھیں بند کرتے ہوئے کھڑا رہوں گا تو پانی میں مچھلیاں کیسے دیکھوں گا؟ اگر مچھلی دکھائی نہیں دے گی تو شکار کیسے کروں گا!‘‘ بگلے نے دھیان دیا کہ اگر سادھو اپنی آنکھیں کھولے رکھتا تو کیا مچھلیاں وہاں سے بھاگ جائیں گی؟ 
 بگلا بہت سمجھدار ہے۔ اس نے دیکھا کہ سادھو کے چپ چاپ کھڑے رہنے سے پانی میں کوئی ہلچل نہیں ہوتی۔ اسی لئے مچھلیوں کو خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ اور وہ مزے سے سادھو کے قریب تیرتی رہتی ہیں۔ کئی ایک تو سادھو کی اوپر اٹھی ہوئی ٹانگ کے نیچے تیر رہی ہیں! ’’اوہو!اصل بات یہ ہے کہ ایک پیر پر ہلے ڈلے بغیر چپ چاپ کھڑا ہونا۔ تب مچھلیاں نڈر ہو کر وہیں تیرتی رہتی ہیں۔‘‘ بگلا یہ راز سمجھ گیا۔ اگلے دن صبح ہوتے ہی بگلا ندی کے دوسرے کنارے پہنچ گیا۔  وہ سادھو سے کافی دور پانی میں ایک جگہ ایک پاؤں پر کھڑا ہوگیا اور دوسرا پاؤں اٹھائے رکھا۔ بگلا کا اٹھا ہوا پاؤں تھوڑا امڑا ہوا، ہوا میں لٹک رہا ہے۔ چونکہ بگلا کوئی حرکت نہیں کر رہا ہے اس لئے پانی میں کوئی ہلچل بھی نہیں ہو رہی ہے۔ وہ باکل خاموش کھڑا ہے۔ بغیر ہلے ڈلے....! پہلے بگلا نے سادھو کی طرح اپنی دونوں آنکھیں بند کرلیں۔ پھر یہ خیال آنے پر ایک آنکھ کھول دی کہ وہ مچھلیوں کو نہیں دیکھے گا تو شکار کیسے کرے گا؟ اب بگلا کی ایک آنکھ تھوڑی کھلی ہوئی اور دوسری بند ہے! بگلا نے اپنی لمبی سی گردن پانی کی طرف موڑ رکھی ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ مچھلی کھلی ہوئی آنکھ نہ دیکھ پائیں۔ اب دور سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے بگلا آنکھیں موندے پانی میں ایک پاؤں پر چپ چاپ کھڑا دھیان میں ڈوبا ہوا ہے، سادھو کی طرح!  ’’اب مچھلیوں کو پتا نہیں لگا کہ میں ان کا شکار کرنے کیلئے کھڑا ہوں۔‘‘ یہ سوچ کر بگلے کو بہت خوشی ہوئی۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی ورنہ مچھلیاں وہاں سے بھاگ جاتیں۔ بگلا نے اپنی ادھ کھلی آنکھ سے پانی میں دیکھا وہاں کئی مچھلیاں نڈر ہو کر تیرتی نظر آئیں۔ وہ سانس روکے کھڑا رہا۔ جیسے ہی ایک مچھلی اس کے اٹھے ہوئے پاؤں کے نیچے پہنچی بگلے نے بڑی تیزی سے اپنی چونچ پانی میں ڈالی۔ اس نے حرکت کئے بغیر مچھلی پکڑلی اور اسے کھانے کے بعد پھر چپ چاپ کھڑا رہا۔ آج شام تک بگلے نے کافی مچھلیوں کا شکار کیا اور پیٹ بھرنے پر اڑتا ہوا ایک درخت پر پہنچ گیا۔ آج خوب پیٹ بھرنے پر وہ تان کر سویا۔ کچھ دنوں بعد سادھو اپنی تپسیا پوری کرنے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔ لیکن ندی میں آج بھی تپسیا کے انداز میں بگلا ایک پیر پر کھڑا ملتا ہے۔ وہ بھی اپنی آنکھیں موندے ہوئے! وہ دیکھنے والوں کو دھیان میں ڈوبا ہوا لگتا ہے۔ وہاں مچھلیوں کا شکار کرنے آئی چڑیاں بھی یہی سمجھتی ہیں کہ بگلا پانی میں ایک پاؤں پر کھڑا تپسیا کر رہا ہے، سادھو کی طرح۔  اب وہاں آنے والی سبھی چڑیاں بگلا کوادب سے بگلا بھگت کہہ کر پکارتی ہیں۔ اس لئے بگلا اپنے نام سے نہیں بلکہ بگلا بھگت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK