دوستی کا حق

Updated: November 13, 2021, 2:32 PM IST | Wakeel Najeeb

شرد ایک ہفتے بعد اسکول آتا ہے تو شہزاد کو نہ پا کر پریشان ہو جاتا ہے۔ سچائی جان کر شہزاد کیلئے خطرہ مول لیتا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

مَیں اسکول سے چھٹی لے کر اپنے ماما کی شادی میں گاؤں گیا تھا۔ ایک ہفتہ اسکول سے غائب رہنے کے بعد اسکول آیا تو مجھے کلاس میں کچھ کمی سی محسوس ہوئی۔ دراصل میرے سامنے بیٹھنے والا شہزاد اپنی سیٹ پر موجود نہیں تھا۔ درمیانی چھٹی میں مَیں نے اپنے دوست کیلاش سے پوچھا، ’’آج شہزاد اسکول نہیں آیا۔‘‘  کیلاش نے کہا،’’وہ گزشتہ پانچ دنوں سے اسکول نہیں آرہا ہے اور شاید اب آئیگا بھی نہیں۔‘‘  ’’کیوں؟ کیا بات ہوئی؟‘‘  ’’فٹ بال کی پریکٹس کے وقت اس کارمیش سے جھگڑا ہوگیا تھا۔ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس نے شہزاد کو بہت مارا۔ اس کا بستہ پھینک دیا اور کپڑے بھی پھاڑ دیئے۔ اس کے پتا جی آئے تھے ہیڈ ماسٹر صاحب سے شکایت کی۔ انہوں نے شہزاد کے پتا جی کو سمجھا بجھا کر واپس کردیا اور رمیش کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس لئے شہزاد کے پتا جی نے اسے گھر میں بٹھا لیا۔ اب بھی وہ اپنے پتا جی کے ساتھ سبزی کے ٹھیلے پر سبزیاں بیچنے جاتا ہے۔‘‘ 
 مَیں نے کہا ’’ارے یہ تو بہت برا ہوا غریب لڑکے کو اس طرح مارنا نہیں چاہئے تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کو اس کیخلاف کارروائی کرنی چاہئے تھی۔‘‘  کیلاش نے کہا ’’تم تو جانتے ہو کہ رمیش کے دادا جی اسکول کے صدر ہیں۔ ان کی نوکری خطرے میں پڑ جائے گی۔‘‘
  ’’لیکن ایک غریب اور ذہین بچے کی زندگی برباد ہورہی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟‘‘ 
 ’’تم کو تو معلوم ہے رمیش کیسا خطرناک لڑکا ہے کوئی اس سے دشمنی لینے کی ہمت نہیں کرتا۔‘‘ 
 مَیں نے کہا، ’’مَیں ہمت کروں گا، ایک ذہین لڑکے کی تعلیم کا سلسلہ ختم نہ ہونے پائے اس کیلئے میں رمیش سے ٹکراؤں گا۔‘‘ ’’تم کیا کروگے؟‘‘ 
 ’’میں اس کے دادا جی سے اس کی شکایت کروں گا،وہ اپنے دادا جی سے بہت ڈرتا ہے اور اس کے دادا جی بہت نیک آدمی ہیں۔‘‘ 
 اسکول سے چھٹی ہونے کے بعد میں گھر آیا اور شہزاد کی اچھائیاں، ذہانت اور کھیل کود میں اس کی عمدہ کارکردگی کو بیان کرتے ہوئے رمیش کی بری حرکتوں کی بابت ایک تفصیلی خط لکھا اور شام کے وقت رمیش کے گھر پہنچ گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس وقت اس کے دادا جی گھر میں ہی رہتے ہیں۔  مَیں ان کے گھر میں داخل ہوا تو اس کے دادا جی سامنے بیٹھک کے کمرے میں بیٹھے ہوئے کوئی اخبار دیکھ رہے تھے۔ مَیں ادب سے ان کے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا۔ وہ حیرت سےمیری طرف دیکھنے لگے۔ مَیں نے کہا، ’’میرا نام شرد ہے میں اسکول میں رمیش کے ساتھ پڑھتا ہوں۔‘‘ اتنا کہہ کر مَیں نے وہ تفصیلی خط دادا جی کے ہاتھ میں دیدیا۔ جیسے جیسے وہ خط پڑھتے جارہے تھے ان کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوتا جارہا تھا۔ جیسے ہی انہوں نے خط پڑھ کر ختم کیا بس اسی وقت رمیش گھر میں داخل ہوا۔ مجھے اپنے گھر میں دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا۔ دادا جی کے ہاتھ میں چٹھی موجود تھی اور غصے سے ان کا ہاتھ تھر تھر کانپ رہا تھا۔ رمیش معاملے کو سمجھ نہیں پایا۔ دادا جی کو نمستے کہہ کر وہ ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ دادا جی اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے رمیش کے قریب گئے اور ایک زور دار طمانچہ اس کے گال پر مارا اور کہا، ’’اپنی طاقت اور دولت کا غلط استعمال کر رہے ہو تم! شہزاد کو تم نے کیوں مارا؟‘‘  ’’دادا جی وہ مجھ سے منہ زوری کر رہا تھا۔‘‘ ’’اچھا! تو تم اسے ماروگے؟ تم ابھی میرے ساتھ اس کے گھر چلو اور اس سے معافی مانگو۔ ‘‘ اور پھر انہوں نے مجھ سے کہا، ’’تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔‘‘ دادا جی نے اپنی کار نکلوائی اور ہم شہزاد کے گھر کی طرف چل دیئے۔ جھوپڑپٹی کی حد شروع ہوئی، رات ہو چکی تھی مَیں نے ایک جگہ کار رکوائی اور چند گلیوں کو پار کرکےہم ایک جھوپڑے کے سامنے رک گئے۔ جھوپڑے کے باہر شہزاد اپنے پتا جی کے ساتھ ہاتھ ٹھیلے کے پاس کھڑا ہوا تھا ۔ ہمیں دیکھ کر شہزاد اور اس کے پتا جی دونوں بہت حیران ہوئے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتے رمیش کے دادا جی شہزاد کے پتا جی کے قریب پہنچ گئے۔ انہوں نے شہزاد کے پتا جی کو مخاطب کرکے کہا ’’بھائی جی! مَیں اس نالائق رمیش کا دادا ہوں اور اسکول کا صدر بھی ہوں۔ میرے پوتے نے تمہارے بیٹے کے ساتھ جو سلوک کیا ہے مَیں اس کیلئے تم سے معافی مانگنے آیا ہوں۔ مجھے اور میرے پوتے کو معاف کردو۔‘‘ اتنا کہہ کر انہوں نے رمیش کو اشارہ کیا۔
 وہ آگے بڑھا اس نے شہزاد کو گلے لگا لیا اور رنجیدہ لہجے میں بولا، ’’شہزاد مجھے معاف کردو، مجھ سے بڑی غلطی ہوگئی اور پلیز اسکول آنا بند مت کرو۔ ہم سب کا مستقبل تعلیم سے ہی جڑا ہوا ہے۔ مجھے اپنی غلطی پر بہت افسوس ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ شہزاد کے پتا جی کے پیروں کو چھو کر بولا، ’’انکل جی اسے اسکول آنے سے مت روکئے۔ میں خود اس کی مدد کروں گا۔ میری غلط حرکت کے لئے مجھے بھی معاف کردیجئے۔‘‘  شہزاد کے پتا جی نے رمیش کو گلے سے لگا لیا اور کہا، ’’اتنے بڑے آدمی مجھ ایسے غریب آدمی کے گھر معافی مانگنے آئے ہیں اس سے بڑی بات میرے لئے اور کیا ہوسکتا ہے، بیٹا جاؤ۔ شہزاد کل سے روزانہ اسکول آئے گا۔‘‘  رمیش نے شہزاد سے ہاتھ ملایا پھر مجھ سے ہاتھ ملا کر بولا ’’شرد تم نے شہزاد سے اپنی دوستی کا حق ادا کیا اور مجھے بھی اپنی غلطیوں کا احساس دلادیا ہے، بہت بہت شکریہ۔ ‘‘ ہم لوگ کار میں بیٹھ کر وہاں سے واپس ہوگئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK