Updated: May 16, 2026, 6:29 AM IST
| Mumbai
کوکن خطے کے آم اور کاجو کےکسانوں نے حسب اعلان جمعہ کو ممبئی میں مورچہ نکالا۔ کسان بڑی تعداد میں جنوبی ممبئی میں واقع گرگاؤں چوپاٹی پر جمع ہوئے اور وہاں سے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی رہائش گاہ ’ورشا‘ بنگلے کیلئے مارچ شروع کیا لیکن پولیس نے راستے ہی میں انہیں روک دیا۔
راجو شیٹی کو پولیس لے جا رہی ہے
کوکن خطے کے آم اور کاجو کےکسانوں نے حسب اعلان جمعہ کو ممبئی میں مورچہ نکالا۔ کسان بڑی تعداد میں جنوبی ممبئی میں واقع گرگاؤں چوپاٹی پر جمع ہوئے اور وہاں سے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی رہائش گاہ ’ورشا‘ بنگلے کیلئے مارچ شروع کیا لیکن پولیس نے راستے ہی میں انہیں روک دیا۔ اس مورچہ میں رتناگیری، سندھو درگ، رائے گڑھ کے آم اور کاجو کے کسانوں نے حصہ لیا۔ مورچے کی قیادت سوابھیمانی شیتکری سنگٹھنا کے صدر اور سابق رکن پارلیمان راجو شیٹی نے کی۔ اس مورچہ میں شیو سینا (ادھو)، کانگریس، این سی پی(شرد)، مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) اور کسان گروپوں کے رہنما شامل ہوئے۔
میرین ڈرائیو پر پرنسس اسٹریٹ فلائی اوور سے چرنی روڈ تک پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ گرگاؤں چوپاٹی کو احتیاط کے طور پر خالی کر دیا گیا تھا۔پولیس نے راجو شیٹی، کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، شیتکری کامگار پکش کے لیڈر جینت پاٹل اور شیو سینا کے سابق ایم پی ونائک راؤت کو حراست میں لے لیا ۔اس ہنگامہ آرائی کے سب میرین ڈرائیو پر بھاری ٹریفک جام ہو گیا تھا۔
مورچہ نکالنے کی وجہ
مورچہ نکالنے کی وجہ آم اور کاجو کے کسانوں کی فصلوں کا بھاری نقصان ہے۔ بار بار ہونے والی بے موسم بارش، درجۂ حرارت میں اتار چڑھاؤ پھلوں کی مکھیوں کا حملہ، ٹڈی کے حملے، پھپھوندی کی بیماریاں ،کیڑے مار ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ان سبھی نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔
راجو شیٹی نے کہا کہ دیوگڑ جیسے علاقوں میں اس سال آم کی پیداوار میں۹۰؍فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے۲۲؍ہزار روپے کی ریلیف کا اعلان بہت کم ہے۔
کسانوں کے مطالبات
کسانوں کا مطالبہ ہے کہ آم کے کاشتکاروں کیلئے ۵؍ لاکھ روپے فی ہیکٹر اور کاجو کے کاشتکاروں کیلئے ۳؍ لاکھ فی ہیکٹر فوری مالی امداددی جائے۔ راجو شیٹی نے کہا کہ جب تک ان مطالبات کو پورا نہیں کیا جاتا جدوجہد جاری رہے گا۔
مظاہرے میں شامل ہرش وردھن سپکال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی نے پہلے ہی کسان تنظیموں کی تحریک کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا اور حکومت کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر کسانوں کے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو ۱۵؍مئی کو بڑا احتجاج کیا جائے گا، مگر حکومت نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں، مزدوروں اور اپوزیشن کی آواز دبانے کیلئے احتجاج اور مارچ کی اجازت نہیں دیتی اور جمہوری اقدار کو پامال کر رہی ہے۔
سپکال نے کہا کہ ”جب جب سرکار ڈرتی ہے، پولیس کو آگے کرتی ہے“۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آم پیدا کرنے والے کسانوں کو فی ہیکٹر ۵؍لاکھ روپے اور کاجو پیدا کرنے والے کسانوں کو فی ہیکٹر۳؍ لاکھ روپے کی امداد دی جائے۔‘‘
کسانوں کی حمایت میں شیو سینا اور دیگر سیاسی پارٹیوںکے متعدد نمائندوں نے گلے میں آم اور کیری کے ہار پہن کر آزاد میدان میں بھی احتجاج کیا اور پریشان حال کسانوں کی فوری مدد کرنے کا مطالبہ کیا۔