لکڑہارا اور جادوئی برتن

Updated: September 18, 2021, 1:31 PM IST | Shabina Farshooi | Mumbai

ایک غریب لکڑہارا اور اس کی بیوی صبر اور شکر کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ ایک دن لکڑہارے کو ایک جادوئی برتن ملتا ہے۔ جادوئی برتن انہیں امیر بنا دیتا ہے لیکن وہ لالچی ہو جاتے ہیں۔ پڑھئے مکمل کہانی:

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایک غریب لکڑہارا تھا۔ وہ اپنی بیوی رضیہ کو بہت چاہتا تھا کیونکہ وہ غربت کے باوجود اسے کبھی طعنہ نہیں دیتی تھی۔ نہ زیادہ کی خواہش کرتی۔ جو وہ لاکر دیتا اس کو پکا کر کھلا دیتی تھی۔ بڑے صبر اور شکر سے دونوں رہ رہے تھے۔  ایک بار وہ گھر کے قریب لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ جب وہ لکڑی کاٹ کر گھر کی طرف چلا تو اچانک اس کی نظر ایک برتن پر پڑی جو ایک بڑے مٹکے کے جیسا تھا اور بڑا خوبصورت تھا۔ وہاں کوئی بھی نہ تھا، لکڑہارےنے وہ برتن اٹھا لیا اور اپنے گھر لے آیا۔ بیوی اس برتن کو دیکھ کر خوش ہوگئی کہ یہ تو بڑا خوبصورت ہے اور خوب بڑا بھی۔ انہوں نے اسے سنبھال کر رکھ دیا۔  ایک دن بیوی نے اس برتن میں دو کدو رکھ دیئے۔ جب وہ صبح اٹھی اور پکانے کیلئے کدو نکالے تو وہ کدو دو کے بجائے چار تھے۔ اس نے اپنے میاں کو آواز دی کہ دیکھو یہ کیا جادو ہے۔ میں نے رات میں یہ دو کدو رکھے تھے اب وہ چار ہوگئے ہیں، یعنی دگنے۔ بیوی نے انہیں نکال لیا اب اس نے سوچا کہ پھر سے ایک ڈال کر دیکھتی ہوں۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ تھوڑی دیر وہ دو ہو گئے۔ اب تو دونوں میاں بیوی کو بہت خوشی ہوئی اور اس کھیل میں مزہ آنے لگا۔  اس طرح وہ تھوڑی سی ترکاری یا پھل لاتا برتن میں ڈالتا جاتا اور نکالتا جاتا ٹوکری بھر جاتی تو بازار میں بیچ آتا۔ اب اسے جنگل میں لکڑیاں کاٹنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔  اسی طرح اس نے سوچا کیوں نہ کچھ سکے ڈالے جائیں اس نے ایک روپیہ کا سکہ ڈالا وہ دو بن گئے۔ اس طرح پیسوں کی بہتات ہوگئی۔ لوگوں کو تعجب ہوا کہ یہ آدمی اتنا پیسے والا کیسے ہوگیا۔سب کو اس پر شک ہورہا تھا۔  مگر اللہ نے یہ برتن اس لکڑہارے کو اس کے اور اس کی بیوی کے صبر اور محنت کی وجہ سے دیا تھا۔ مگر یہ دونوں اب لالچی ہو گئے تھے۔ جب ان کے پاس کھانے پینے کیلئے زیادہ نہیں تھا اور وہ جادوئی برتن ان کو نہیں ملا تھا تو وہ غریبوں کو بھی کھلاتے تھے اور مدد بھی کرتے تھے مگر اب انہوں نے اپنے گھر آنے سے ہر کسی کو روک دیا تھا۔ کوئی مانگنے والا آتا تو باہر ہی سے ٹرخا دیتے کہ کسی کو اس برتن اور ان کے پیسوں کے بارے میں پتہ نہ چل جائے۔ اللہ بھی اب ان سے ناراض ہوگیا کیونکہ ان دونوں کا لالچ بڑھتا جارہا تھا۔  ایک دن لکڑہارے نے باہر سے ہی زوردار آواز لگائی ’’ارے جلدی سے دروازہ کھولو۔‘‘ 
 اپنے میاں کی آواز سن کر اس کی بیوی پلنگ سے جلدی سے اتری اور جلدی میں اس کا پاؤں اس بگونے میں جا پڑا جس میں وہ کچھ دیر پہلے ہی پھلوں کو ڈال کر دگنا کرتی جارہی تھی۔ جیسے ہی اس کا پاؤں بگونے میں پڑا اس کے سامنے اسی کی طرح ایک عورت آکر کھڑی ہوگئی۔ کیونکہ اس جادوئی برتن میں جو چیز ڈالی جاتی وہ دگنی ہوجاتی تھی۔ اس لئے اس کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ دونوں عورتوں کے وزن سے وہ برتن آدھا ہو کر ٹوٹ گیا۔  جب لکڑہارا دروازہ توڑ کر اندر آیا تو دیکھا جہاں اس کی بیوی کو ہونا چاہئے تھا وہاں ایک عورت بھی اسی طرح کی تھی۔ لکڑہارے کو بہت پریشانی ہوئی۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ ’’یا اللہ! تو میری رضیہ بیوی کو ہی میرے پاس رہنے دے۔ مجھے پتہ ہے تو مجھ سے ناراض ہے مجھے اب کچھ نہ چاہئے میں یہ سب دولت بھی غریبوں میں بانٹ دوں گا۔ یا اللہ! تو مجھے معاف کردے۔‘‘
 اللہ نےجس طرح پہلے خوش ہو کر اسے نوازا تھا آج بھی اس کی دعا سنی اور اس کی اصلی بیوی کو وہاں رہنے دیا اوراس برتن اور دوسری عورت کو غائب کردیا۔ یہ میاں بیوی اپنے کئے پر شرمندہ تھے۔لکڑہارے نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا اپنا وعہد نبھایا۔ اب پھر سے وہ محنت کرتے اور کھاتے ہیں۔  دیکھا بچو! اللہ تعالیٰ جب خوش ہو کر اپنے نیک بندوں کو نوازتا ہے اور وہ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں، غریبوں میں تقسیم نہیں کرتے ہیں تو وہ ناراض ہوجاتا ہے جو ہوس کرتا ہے اسے ایسے ہی سزا ملتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK